نیا ہے زمانہ نئے ہیں رویے

اکیسویں صدی سے قبل تک ہمارے سماج میں بڑے بزرگوں کی بڑی عزت ہوا کرتی تھی۔ نوجوان انہیں نہایت تعظیم و تکریم کی نظر سے دیکھتے تھے۔ معاشرے میں ان کا اہم مقام و مرتبہ تھا۔ کسی بھی فیصلے کو آخری شکل ان کے مشورے کے بعد ہی دیا جاتا تھا۔ اگرچہ آج بھی کہیں کہیں خاندان کے بڑے بزرگ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، تاہم وہ قدریں مفقود نظر آتی ہیں جو گزشتہ صدیوں میں ان کے تئیں لوگوں کے دلوں میں پائی جاتی تھیں۔
اس دور میں ہر آدمی خود غرض اور مفاد پرست ہو گیا ہے۔ اس کی نظر میں اس کے علاوہ کسی کی اہمیت نہیں ہے۔ خود اس کے بوڑھے ماں باپ کا وجود اس کو ہیچ نظر آتا ہے۔ ایک فیملی میں جہاں شوہر اور بیوی دونوں کام پر جاتے ہوں وہاں گھر پر موجود ضعیف العمر والدین کی دیکھ بھال کا وقت نہیں نکل پاتا۔ اس طرح کے ورکنگ پیرنٹس تو اپنے پروان چڑھتے نو نہال بچوں کے ساتھ بھی خاطر خواہ وقت نہیں گزار پاتے ہیں۔ ایسے افراد سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہے اپنے والدین پر بھی اپنا کچھ ”قیمتی“ وقت صرف کرتے ہوں گے۔
یہ صورت حال تو تب پیدا ہوتی ہے جب ہم بادل ناخواستہ ہی سہی اپنے بوڑھے والدین کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ شہر چلے جاتے ہیں اور ماں باپ کو گاؤں پر تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ شہر آ کر اپنے والدین کو بھول جاتے ہیں۔ وہ اتنے شقی القلب ہوتے ہیں کہ کسی تہوار کے موقع سے بھی ان سے ملنے جانا اپنا تضیع اوقات سمجھتے ہیں۔ ادھر گاؤں پر ماں باپ بچوں کو دیکھنے کے لیے پل پل بے چین ہوتے ہیں۔
مغرب میں اگر لوگ اپنے والدین پر خود توجہ نہیں دے پاتے ہیں تو انہیں اولڈ ایج ہاؤس میں ڈال دیتے ہیں تاکہ ان کی دیکھ بھال ہو سکے۔ حالانکہ یہاں بھی اس عمل کو اچھا نہیں مانا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے یورپ میں میرا قیام ہے۔ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے یہاں کے سماج کو اور یہاں کی حکومتی پالیسی کو۔ یہاں کی سوشل سیکورٹی بڑی متحرک اور بدعنوانی سے یکسر پاک ہے۔ یورپ میں شروع سے ہی لوگ تنہا رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔
مطلب نیوکلیائی زندگی یہاں عام سی بات ہے۔ جوانی میں بھی تنہا ہوتے ہیں اور بڑھاپے میں بھی۔ ان کی تنہائی در اصل ان کی پرائیویسی کا دوسرا نام ہے۔ وہ اس کو انجوائے کرتے ہیں، جوانی میں بھی اور ضعیفی میں بھی۔ یہاں بہت دفعہ والدین اپنے بچوں سے الگ اپنی مرضی سے ہوتے ہیں۔ انہیں بھی تنہائی چاہیے ہوتی ہے۔ یہ تنہائی اس لیے بھی ہوتی ہے کہ اکثر لوگ چھوٹے چھوٹے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ گھر بھی ہو تو خاص بڑا نہیں ہوتا، وہی ایک دو کمرے پر محیط۔
بچے ذرا جوان ہوئے وہ گھر سے نکل جاتے ہیں یا انہیں کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ اپنے رہنے سہنے کا انتظام الگ کریں۔ والدین اگر اپنے فلیٹ پر ہوں یا اولڈ ایج ہوم میں بچے ویک اینڈ پر یا مہینے میں ایک دو بار ملاقات کرنے ضرور جاتے ہیں۔ اگر نہیں بھی گئے تو ان کو یقین ہوتا ہے کہ ان کے ملک کا طبی نظام ان کے والدین کا پورا پورا دیکھ بھال کر رہا ہے۔ ہمارے یہاں اب مغرب کی دیکھا دیکھی اولڈ ایج ہوم کا کلچر عام ہو رہا ہے۔ انفراسٹرکچر کی حد تک یہ اولڈ ایج ہوم مغرب کی نقالی ہے، ایک بھونڈی نقالی۔ جہاں نہ مغرب کا انتظام ہے نہ انصرام۔
ہمارے یہاں اولڈ ایج ہوم میں جو لوگ اپنے والدین کو پھینک دیتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ ان کو اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے وہ بس اپنے سر سے ذمے داری اتارنا چاہتے ہیں۔ کچھ با حیثیت لوگ اپنے والدین کی دیکھ بھال کے لیے ایک آدمی اجرت پر رکھ لیتے ہیں اور اپنے گاؤں کے گھر کو ہی اولڈ ایج ہوم میں بدل دیتے ہیں۔ بعض لوگ تو بیوی کی کالی زلفوں کے ایسے اسیر ہوتے ہیں کہ والدین سے بالکل رشتہ ہی ختم کر لیتے ہیں۔ ان کو اولڈ ایج ہوم میں بھی ڈالنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ اب انہیں مرنا ہی تو ہے۔
یہ تو رہی گھر کے اندر کی بات، گھر کے باہر بھی بوڑھے اور کمزور و ناتواں شخص کو کون پوچھ رہا ہے۔ ان کی ضرورتوں کا خیال تو گھر کے دوسرے ممبر کرتے نہیں۔ انہیں اپنی ضروریات کے لیے باہر نکلنا پڑتا ہے اور کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں نوجوان طبقہ کے غصے کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اس کی ایک مثال ٹکٹ کاؤنٹر ہے۔ ہمارے یہاں کے بہت کم دفتروں میں ضعیف العمر شخص کے لیے کاؤنٹر مختص ہوتے ہیں۔ بہت سے دفاتر میں اس کا کوئی سرے سے انتظام ہی نہیں ہوتا۔
کہیں کہیں عام کاؤنٹر پر ہی ان کے کام کو ترجیحی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے۔ لیکن تب قطار میں لگے اپنی باری کا انتظار کر رہے نوجوان شخص کو بے چینی لاحق ہو جاتی ہے۔ ناک اور بھویں تن جاتی ہیں۔ وہ اپنے غصے کا بر ملا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ کمزور و لاغر شخص کو دی گئی اتنی سی مراعات بھی نوجوان طبقہ کو قبول نہیں۔ بعض دفعہ ان کی برافروختگی اتنی ہتک آمیز ہوتی ہے کہ ضعیف العمر اور معمر شخص اپنی مراعات کا استعمال کرنے کے بجائے قطار میں کھڑے ہونے کو اپنے لیے بہتر اور محفوظ سمجھتے ہیں۔
اگر دہلی کی سڑکوں پر چلنے والی بسوں کی بات کریں تو یہاں بھی منظر بڑا ہی افسوس ناک ہے۔ لحیم شحیم اور توانا لڑکے (بعض دفعہ لڑکیاں بھی) ان کی مخصوص سیٹوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب تک ان سے سیٹ چھوڑنے کو نہیں کہا جاتا تب تک نہیں چھوڑتے۔ انہیں خود سے جگہ خالی کرنے کی کبھی توفیق نہیں ہوتی۔ غیر مخصوص سیٹوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بوڑھے آدمی کو بھیڑ میں دھکا کھاتے دیکھ کر اپنی جگہ چھوڑ دے۔
ہمارے یہاں عمر رسیدہ لوگوں کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رعایتی ٹکٹ طلب کرنے والوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ رعایت کی بات کرنے والوں کو عمر کا ثبوت پیش کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ جب کہ یہ چیزیں ترقی یافتہ ملکوں میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں گھر کے اندر کی کہانی کا تو مجھے علم نہیں لیکن گھر کے باہر ان کی بڑی عزت ہے۔ جب کوئی ناتواں شخص پیدل راستہ کراس کرتا ہے تو گاڑی والے اپنی گاڑیوں کی رفتار کم کر دیتے ہیں یا بالکل ہی روک دیتے ہیں۔
ویسے فرانس میں ہر پیدل چلنے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں تو اس کی کوئی پروا ہی نہیں کرتا کہ کوئی راستہ پار کر رہا ہے۔ یہاں کمزور اور بوڑھے آدمی کی تو بات چھوڑ دیں نوجوان لوگوں کا راستہ پار کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ کیونکہ گاڑیاں لال بتی کے باوجود برق رفتاری سے چلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہاں کی گلیوں میں لڑکے گاڑی لے کر ایسے دندناتے پھرتے ہیں کہ دیکھنے والے ڈر جائیں۔ بٹلہ ہاؤس اور شاہین باغ کی سڑکوں پر اپنی جان ہتھیلی پر لے کر چلنا ہوتا ہے۔
اس طرح کا رویہ در اصل اخلاق کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ہمارے اس بگڑے ہوئے رویے کے ذمہ دار کون لوگ ہیں؟ اس سوال کا جواب بہت مشکل نہیں ہے۔ اسکول و کالج میں جہاں بہت ساری کتابیں نصاب کا حصہ ہیں وہاں اخلاقیات سے متعلق درسی کتابیں برائے نام ہیں۔ اسکول میں کچھ حد تک کردار سازی کی کوشش کی جاتی ہے۔ والدین کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ خود سے اپنے بچوں کو اخلاقی درس دے سکیں۔
کالج کی سطح پر تو اخلاقیات سے متعلق کوئی بھی کتاب نصاب میں شامل نہیں ہے۔ ایسے دور میں جب کہ اخلاقی انارکی ہر طرف پھیل گئی ہے، کیا اس جانب توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسکول اور کالج میں اخلاقیات کی بہتر سے بہتر تعلیم کے لیے کتابیں نصاب میں شامل کی جائیں۔
آج ہم بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ پیسہ بھی خوب کماتے ہیں۔ اچھی گاڑیوں میں سوار ہوتے ہیں اور اچھے مکانوں میں بھی رہتے ہیں لیکن صرف اخلاقیات کی تعلیم سے بے بہرہ ہونے سے والدین کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم سڑک پر چلنے کے اصول سے واقف نہیں ہیں۔ ہم بڑے بزرگوں سے بات کرنے کے سلیقے سے محروم ہیں۔ ہم خاندانی رشتوں کی نزاکت کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ ہم دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ مادیت پرستی ہماری رگوں میں سرایت کر رہی ہے۔
کیا ہمیں احساس نہیں کہ ہم کیا کھو رہے ہیں؟ کیا ہمیں ایسا نہیں لگتا کہ ہمارے رویے میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے؟ ہماری جوانی کے باغ میں کھلنے والے پھول ہمارے بڑے اور بزرگوں کے شب و روز کی محنت کی دین ہے۔ اس لیے عمر کے آخری دنوں میں کم از کم اس باغ کے سائے میں بیٹھنا ان کا حق ہے۔ اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جس سماج میں بڑے بزرگوں کی عزت ہوتی ہے اس کا مستقبل ہمیشہ تابناک ہوتا ہے۔

