”ٹکر“ کے لوگوں سے ٹاکرا


گزری جمعرات میں طلعت حسین کے ٹی وی شو میں شامل ہوا۔ 9 مئی 2023 کے واقعات اس شو کا موضوع تھے۔ عاشقان عمران کا غضب بھرا ردعمل اس ضمن میں خصوصی طور پر زیر بحث آیا۔

ٹی وی سکرین پر دانشوری بگھارنے کا مجھے شوق نہیں۔ علم ابلاغ کے مہا گرو میک لوہان نے 1960 کی دہائی ہی میں جامع تحقیق کے بعد ہم جیسے جاہلوں کو سمجھا دیا تھا کہ ٹی وی ”ایڈیٹ باکس“ یعنی یاوہ گوئی کا مظہر ہے۔ اس میڈیم کی مبادیات سنجیدہ بحث کی گنجائش ہی فراہم نہیں کرتیں۔ مذکورہ حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے میں نے عامیانہ زبان میں عاشقان عمران کے رویے کو بیان کرنے کی کوشش کی۔ روانی میں طبیعت پھکڑپن کو راغب ہو گئی۔ اس کی بدولت مزید ”بے باک“ ہو گیا۔

اندھی نفرت و عقیدت میں وحشیانہ حد تک تقسیم ہوئے معاشرے میں عمران خان کے دیرینہ ناقدین و سیاسی مخالفوں نے میرے طنزیہ فقروں کو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ انہیں دیکھ کر مداحین عمران جائز بنیادوں پر تلملا اٹھے۔ پھکڑپن کے باوجود تحریک انصاف کے حامی حلقوں کی اقتصادی پہچان اور سماجی رویوں کی بابت جو سوال میں نے اٹھائے تھے ان کا ٹھوس دلائل کے ساتھ مگر تجزیہ نہ ہوا۔ خان صاحب کے پجاریوں کو اگرچہ ایک بار پھر یاد آ گیا کہ میں ”ٹوکری“ وصول کرتا ”لفافہ“ ہی نہیں بلکہ ایک بدکردار شخص بھی ہوں۔ جو خواتین کے ساتھ تصویریں بنوا کر خوش ہوتا ہے۔ کسی محفل میں گائی کوئی غزل پسند آ جائے تو فرطِ جذبات میں ”ویل“ دینا شروع ہوجاتا ہوں۔

اپنی ذات کی حد تک ایسی بدکلامی کا میں 2011 سے عادی ہو چکا ہوں۔ عاشقان عمران لہٰذا کچھ ”نئے“ کی تلاش میں تھے۔ میری ذات کی بابت ایک بے بنیاد کہانی گھڑ کر سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی۔ اس نے مجھے تکلیف پہنچائی۔ بدقسمتی سے ایک گال پر تھپڑ کھانے کے بعد میں دوسرا کھانے کے لئے اپنا چہرہ پیش کرنے کا عادی نہیں۔ لاہور کی گلیوں نے مجھے ”حساب چکانا“ سکھا دیا ہے۔ عالم طیش میں بھی تاہم ٹویٹر وغیرہ پر بدکلامی سے گریز کیا۔ سپاہ ٹرول کے ناقابل برداشت نمائندگان کو بلاک کرنے ہی کو ترجیح دی۔

مجھے ”بدکردار“ ثابت کرنے کو گھڑی کہانی کو فروغ دینے کے علاوہ عاشقان عمران کا ایک اور گروہ بھی تھا۔ ان کی اکثریت خواتین پر مشتمل تھی۔ واٹس ایپ اور فیس بک کے ”میسجز“ کے ذریعے مسلسل یہ سوال اٹھاتی رہیں کہ خود کو ”لبرل“ کہلوانے کا مجھ جیسا شوقین ان دنوں تحریک انصاف کے سرکردہ رہ نماؤں اور خاص طور پر متحرک خواتین پر ہوئے ”ظلم“ کی بابت خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہے۔ دوسروں کو کسی نہ کسی سوال کے ذریعے دیوار کے ساتھ لگانے کے شوقین تحریک انصاف کے ”باصفا“ افراد بدقسمتی سے اخبارات پڑھنے کے عادی نہیں۔ نفرت سے مغلوب ہوئے یاد نہیں رکھ پاتے کہ گزشتہ برس کے آغاز ہی سے یہ بدنصیب اس کالم میں تواتر سے مصر رہا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے اجتناب برتا جائے۔ وہ پیش ہونے کے بعد کامیاب ہو گئی تب بھی مصر رہا کہ شہباز حکومت جون 2022 کا بجٹ تیار کرنے کے بجائے فی الفور نئے انتخابات کا بندوبست کرے۔ انتخابی مہم کے دوران عوام کے روبرو ٹھوس اقتصادی حقائق رکھے جائیں۔ ان کی روشنی میں تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی بیان کریں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو مہنگائی کے بدترین عذاب سے نسبتاً محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

دو ٹکے کے رپورٹروں کی فریاد حکمران سننے کے ہرگز عادی نہیں۔ شہباز حکومت نے اقتدار سے چپکے رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ آئی ایم ایف کو رام کرنے کے لئے بجلی، پیٹرول اور گیس کے نرخ بھی ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیے۔ ان کی بدولت پاکستان کے غریب ہی نہیں بلکہ متوسط طبقے سے متعلق افراد بھی بلبلا اُٹھے ہیں۔ سفید پوشی کا بھرم برقرار رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ میں اس کے بارے میں بھی مستقل دہائی مچائے چلے جا رہا ہوں۔

پاکستان کی بیشتر حکومتوں کی طرح شہباز حکومت نے بھی اپنے ناقدین کو لگام ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ”ٹاکرا“ اس حکومت کا مگر ”ٹکر کے لوگوں“ سے ہو گیا جنہیں 2014 سے مسلم لیگ (نون) کو سیاسی اعتبار سے ”کنگال“ کرنے کے لئے ہماری ڈیپ سٹیٹ نے بہت چاؤ سے ”صحافی“ بنایا تھا۔ ”پانچویں پشت کی ابلاغی جنگ“ کے لئے تیار کیے یہ صحافی اخباری مالکان کے محتاج بھی نہیں رہے۔ یوٹیوب پر اپنے چینل بنا لیتے ہیں۔ ان کے ذریعے مجھ جیسے صحافیوں کو ”فرسودہ، لفافہ اور ضمیر فروش“ ٹھہرانا شروع ہو گئے۔ کئی ساتھیوں کو امریکہ، بھارت اور یورپ کی ”اسلام دشمن“ این جی اوز کا کارندہ بنا کر بھی پیش کیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ”ٹکر کے لوگوں“ پر جب کڑا وقت آیا تو مجھ جیسے لوگ ”کیسا لگا؟“ جیسے گھٹیا اور خود کو خوش رکھنے والے گھٹیا سوالات اٹھاتے۔ ربّ کریم نے تاہم بغض اور کینہ اپنی طبیعت میں داخل ہونے ہی نہیں دیا۔ میرا نام لے کر زہر اُگلتے افراد میں سے کچھ لوگ گرفتار ہوئے تو لگی لپٹی رکھے بغیر اس کالم میں دہراتا رہا کہ جو بات کل مجھ جیسے لوگوں کے حوالے سے غلط تھی وقت بدلنے کے بعد ”دوسروں“ کے خلاف استعمال ہو تب بھی غلط ہے۔

اگر مگر کے بغیر ہوئے مذکورہ اظہار کی پذیرائی تو دور کی بات ہے ”رسید“ تک وصول نہ ہوئی۔ کسی بھی سیاسی کارکن کو خواہ وہ مرد ہو یا خاتون بلاجواز خوف و ہراس میں مبتلا رکھنا جمہوری معاشروں کا چلن نہیں۔ اگر کوئی سیاسی کارکن قانون اپنے ہاتھ میں لے تو اسے باقاعدہ انداز میں گرفتار کرنا چاہیے۔ اس کے خاندان کو دوران حراست گرفتار شدگان سے ملنے کا حق بھی میسر ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ عدالت کو بھی ہر صورت یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہیے کہ فلاں فلاں شخص پر اسرار انداز میں کہاں ”غائب“ ہو گیا تھا۔

قصہ مختصر مجھ جیسے لوگ تو چند ”اصولوں“ پر اب بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ یہ سوال اس کے باوجود اٹھانا ضروری ہے کہ ”سیم پیج“ کے بار آور موسم میں جب کچھ ”ناپسند“ افراد تیز ہوا کی زد میں تھے تو ان کے لئے آواز کس نے اٹھائی تھی۔ دوسروں کو پہنچائی اذیت سے لطف اندوز ہونے والوں کو زیب نہیں دیتا کہ یک دم ”جمہوریت اور انسانی حقوق“ کے یک و تنہا چمپئن بن کر دوسروں کی نیتوں کو ”مشکوک“ ٹھہرانا شروع ہوجائیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments