مستنصر حسین تارڑ: ”شہر خالی، کوچہ خالی“


اردو کی چار، پانچ کتابیں آخری بار خریدے بھی ایک سال ہو گیا تھا۔ آن لائن منگوائی تھیں جو کہ ترجمہ شدہ علی شریعتی کی تحریریں تھیں۔ درمیان میں انگریزی کی دو کتابیں بک شیلف کا حصہ بنیں لیکن اردو کی کتابوں کی باری نہیں آ سکی۔ خیر مہینہ پہلے بعد از نماز فجر، موبائل اٹھانے پر سنگ میل پبلشرز کی ایک پر کشش آفر سامنے آ گئی اور یکے بعد دیگرے پانچ کتابیں آرڈر کر دیں۔ اور ساری کتابوں کے مصنف مستنصر حسین تارڑ ہی تھے۔

جو پاکستان کیا عالمی اردو ادب میں بھی ایک مستند نام ہیں۔ بے شمار سفر ناموں اور ناولوں کے خالق ہیں۔ بلکہ پاکستان کے شمالی علاقوں کے تعارف کی ایک بڑی وجہ ان کی یہی سفری یادداشتیں ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے ناول ’بہاؤ‘ اور ’پیار کا پہلا شہر‘ کئی زبانوں میں ترجمے کے بعد جامعات میں ادب کے کورس میں شامل ہیں۔ ’بہاؤ‘ تو ’بی بی سی‘ نے بہترین ناول بھی مانا ہے۔ اور ’پیار کا پہلا شہر‘ کے تو کم از کم ’چھپن ایڈیشن‘ چھپ چکے ہیں۔ ہمارے لئے تو صبح کے پروگرام کے ’چاچا جی‘ بھی ہیں۔ جو کتب منگوائیں، ان میں سے ایک کتاب ”شہر خالی، کوچہ خالی“ کو صرف اس کے نام کی وجہ سے منگوایا بالکل ویسے ہی جیسے کسی وقت ’قربت مرگ میں محبت‘ نے اپنے نام کی وجہ سے متوجہ کیا تھا۔

خیر تین دن کے اندر کتابیں گھر پہنچ گئیں۔ باقیوں کو لونگ کی درمیانی میز پر اوروں کے ہمراہ سجایا اور نام کی ایٹریکشن کی وجہ سے جسے خریدا، وہ میرے سائیڈ ٹیبل پر آ گئی۔ یہ تو معلوم تھا کہ مصنف کی یہ کاوش عالمی وبا کرونا سے متعلقہ ہے کیونکہ جن مصرعوں کی بنیاد پر اس کتاب کا نام رکھا گیا ہے، تاجک گلوکارہ کا فارسی کا وہ گیت ہے جو وبا کے دنوں میں کافی مقبول رہا۔ خود مجھے بھی اس کا ردھم اور بول پسند ہیں۔ اور شاید جن ’سوشل بائیکاٹ‘ کے دنوں میں وہ منظر عام پر آیا تھا، سبھی حساس دلوں کو خود سے قریب محسوس ہوتا تھا۔ اوپر سے فارسی کی چاشنی سونے پر سہاگہ بنی۔

دو سو سولہ صفحات کا مختصر ناول ہے جو ایک ایسے شخص کی ذہنی، جذباتی اور تخلیقی وارداتوں، الجھنوں اور گنجلکوں کے ذکر پر مشتمل ہے جو کرونا کے ناگہانی دنوں میں اس پر بیتی۔ یونہی روزمرہ کے معمولات اور اس سے متعلقہ وارد ہونے والی لایعنی سوچیں۔ کتاب بینی ایک ہفتے میں مکمل کی۔ پہلی دفعہ شوق سے اٹھائی، بعد میں پورا کرنے کی مجبوری میں۔ علاوہ ازیں کتاب میں لفظوں اور فقروں کی تکرار ہے جو عام طور پر پیراگراف کے اول و آخر زیادہ ملتی ہے۔ جس سے تاکید کی بجائے یکسانیت کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔

مصنف نے پرندوں اور فاختہ کی تمثیلات بھی بار بار استعمال کی ہیں جو آزادی، زندگی، پرواز، تجدید نو انسانی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک گم گشتہ ہرن کا حال بھی لکھا ہے۔ جو ویرانی کے دنوں میں آبادیوں میں نکل آئی ہے اور ان پرانی زمینوں اور جنگلوں پر دوبارہ قبضے کا دعوٰی کرنے آ گئی ہے جس سے کبھی انسانوں نے انھیں بے دخل کیا تھا۔ اس کردار کی موجودگی بھی پتہ نہیں، کیوں ہے؟ کیونکہ قاری ان تمام تشبیہی استعاروں کے باوجود دلچسپی محسوس نہیں کرتا۔

میں نے تو خود کرونا کی وبا کے دکھ دیکھے ہیں۔ اردگرد متعلقہ لوگوں کو تنہائی، بے بسی اور لاعلمی میں مرتے اور رخصت ہوتے دیکھا ہے۔ مرنے اور اپنوں کے بغیر اکھڑتی سانسوں کے ساتھ موت کے سفر کا ذہنی خوف گزارا ہے۔ ملنے کی حسرت، جپھی کی نامراد چاہ ان گنت بار جھیلی ہے۔ بے رونق، بے آباد گلی، محلوں، لوگوں کے انتظار میں ترستے بازاروں کی میں خود گواہ ہوں۔

اگر میں خود ان دنوں کی چشم دید گواہ نہ ہوتی تو کبھی بھی اس کتاب کو پڑھ کر اس شدت تک نہ پہنچ سکتی کیونکہ مستنصر صاحب کے الفاظ اس ہراس اور ویرانی کو قاری کے ذہن میں ’رجسٹر‘ نہیں کروا سکے۔ جیسے قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب شہاب نامہ کے ابتدائی بیانیے میں ’پلیگ‘ یعنی طاعون اور اس کے خطرناک اثرات سے مرنے والی اپنی پیاری استاد کی موت کو کروایا تھا۔ جسے میں نے کم ازکم بائیس سال پہلے پڑھا تھا۔ یا جیسے اپنے ناول ’بہاؤ‘ میں خود تارڑ صاحب نے پانیوں کے سوکھنے کے مناظر اور اس کی مرکزی کردار ’پاروشنی‘ کی منظر کشی کی ہے جو پندرہ سال کا ایک طویل عرصہ بھی میرے ذہن سے محو نہیں کر پایا۔

یا پھر ’قلعہ خانہ جنگی‘ کا وہ کردار جو افغانستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان جنگی حالات میں تہہ خانے میں اپنا وقت گزارتا ہے۔ اس کی تکلیف و کیفیات کا بیان اس قدر پراثر ہے کہ ایک دفعہ کا پڑھنا ہی برسوں من و عن آپ کے ساتھ چلتا ہے۔ لیکن زیر بحث کتاب میں اس واقعے کی قلم بندی جس میں خود صاحب کتاب وبا کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، ایمرجنسی میں ان کے فرزند ان کو اسپتال لے جاتے ہیں۔ طبیعت نازک ہو جاتی ہے۔ وہ بھی پڑھنے والے کو کسی جذباتی وابستگی کا احساس نہیں دلا پاتے۔ اس کے علاوہ طباعت اور املا کی غلطیاں بھی موجود ہیں جیسے کہ صفحہ نمبر اناسی ( 79 ) پر مرکب لفظ ’آہ و بقا‘ اور ایک صفحہ ایک سو باسٹھ ( 162 ) پر واحد، جمع کا فرق بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔

مجھے کتاب کو پڑھنے کے بعد یوں لگا، جیسے وبا کے دنوں میں کئی اداروں نے بس چھاپا، مختصر، مستند، غیر مستند۔ جس کا مقصد ان دنوں کے تجربات کا عکس تھا۔ ایسے ہی سنگ میل پبلشرز نے بھی ایک بڑے مصنف سے لکھوا کر بس کچھ نہ کچھ قاری کی نذر کر دیا ہے۔ ورنہ یہ کتاب اتنی استطاعت نہیں رکھتی کہ کرونا کی اذیت، خوف یا ہیبت کو متعارف کروا سکے۔ دل میں ہمدردی، رحم، خیال یا توبہ کے روزن کھولے۔ میرے خیال میں مستنصر حسین تارڑ یہ کتاب نہ بھی لکھتے، تو نہ تو اردو ادب کو کوئی فرق پڑنا تھا نہ قاری کو۔ اور ان جیسے صاحب قلم کے لئے انوکھے موضوعات منتظر ہیں۔ ان کی شہرت کسی کمرشل مقصد کی محتاج نہیں۔

Facebook Comments HS