تحریک انصاف، تبدیلی کا شکار


تحریک انصاف سیاسی طور پر عدم توازن کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے افراد نے اس جماعت میں بھانت بھانت کے لوگوں کی شمولیت دیکھی ہے۔ پی ٹی آئی میں جم غفیر کی شمولیت کے اعتبار سے جہانگیر ترین بہت مشہور رہے ہیں پھر عمران خان اور ان کی راہیں جدا ہو گئیں، نو مئی کے پر سوز واقعہ کے بعد وہ اہم اہم نام جو ابتدا سے پی ٹی آئی کے ساتھ تھے وہ لوگ خان صاحب کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ شیریں مزاری اور عامر کیانی تحریک انصاف کے نشیب و فراز میں ساتھ ساتھ رہے ہیں مگر اب ان شخصیات نے بھی تحریک انصاف کو الوداع کہہ کر سیاست سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔

فواد چوہدری جو نہ جانے کس کے باپ سے پتہ نہیں کون سی آزادی مانگ رہے تھے۔ انہوں نے بھی سیاست سے کچھ عرصے کے لئے بریک لے لی ہے۔ فیاض الحسن چوہان بھی چلے گئے۔ مسرت چیمہ، جمشید چیمہ نے بھی پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا۔ مولوی محمود، جلیل شرقپوری، فردوس عاشق اعوان، 2013 میں آزاد حیثیت الیکشن جیت کر تحریک انصاف جوائن کرنے والے ملک قاسم نے بھی اپنے ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کرلی، ان شخصیات نے نو مئی کے واقعات پر مذمت کرتے ہوئے عمران خان کو الوداع کہا، البتہ اسد عمر نے اپنے عہدوں سبکدوشی اختیار کی ہے مگر وہ ابھی تک پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین نے قومی سطح پر نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جہانگیر ترین کو لوگوں کو اپنی جانب کھنچنے کا ہنر آتا ہے۔ ان کے اس ہنر سے عمران خان بہت فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ نو مئی کی بھیانک غلطی کی وجہ سے پی ٹی آئی بند گلی میں چلی گئی ہے۔ تحریک انصاف جس انقلاب کا ڈھول پٹ رہی تھی اس کی رسم قل ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی بھونڈی منصوبہ بندی ان کے گلے پڑ گئی ہے۔ عمران خان کو اب جا کر اس کا ادراک بھی ہو رہا ہے۔ مگر اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ انہوں نے جو لائن پکڑی تھی۔ اس میں ان کی اپنی ہی پکڑ ہو چکی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف فوج اور عوام کے درمیان جو دوریاں پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔ اب وہ خود تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے نو مئی کو جس طرح پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی ہے۔ اس کی ابھی اور قیمت دینا باقی ہے۔ یہ کہاں کی عقلمندی تھی کہ ایک ادارے سے اختلاف کی بنیاد پر پورا ملک نذر آتش کر دیا، شہدا کی یادگار کی توہین کروائی گئی اور کوئی شرمندگی نہیں ہوئی الٹا موصوف یہ کہتے نظر آئے اگر مجھے پھر گرفتار کیا تو ایسا ہی ردعمل آئے گا۔ خان صاحب اس ملک نے آپ کو کتنی عزت دی اور آپ کے حواریوں نے اسے جلا ڈال، کیا آپ کی پاکستانیات صرف اقتدار کی کرسی سے مشروط ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments