مغربی یورپ کا آخری دور وسطیٰ۔ 1300 تا 1500


سنہ 1300 سے 1500 تک دو صدیوں کا عرصہ آخری دور وسطی کہلاتا ہے جس کے بعد یورپ کے جدید دور کا آغاز ہونے لگتا ہے یہ آخری دور وسطی کئی حوالوں سے بحرانوں اور ابتلاء کا دور تھا۔ گزشتہ لگ بھگ 300 سال (درمیانی دور وسطی) معاشی ترقی، آبادی، سیاسی استحکام، چرچ کے تحت مذہبی یکجہتی اور علمی و تہذیبی لحاظ سے مغربی یورپ کی کامیابی اور خوشحالی کا عرصہ گردانا جاتا تھا۔

مگر اس کے بعد کی دو صدیوں (14 اور 15 ویں) میں قرون وسطی تہذیب زوال پذیر ہونے لگی تھی۔ 14 ویں صدی وباؤں، قحط، آبادی میں کمی، پیداواری جمود، بے روزگاری، مہنگائی، تباہ کن طویل جنگوں، فکری و مذہبی انتشار، ۔ ویران دیہاتوں کا دور تھا۔ اس صدی میں قصبات اور دیہات کے غریب کسانوں کی شورشوں کو امراء طبقے نے بے دردی سے کچلا۔ ان حالات کے ردعمل کے باعث ترک دنیا، تشدد اور یہودیوں کے قتل عام جیسے رجحانات پنپے۔

معاشرہ قنوطیت اور عمومی عدم تخفظ کا شکار رہا۔ پاپائیت کی طاقت اور اثر کم اور بد عقیدگی بڑھنے لگی۔ پچھلے دور (درمیانی قرون وسطی) میں عیسائی متکلمین کا عقیدے اور عقل کی باہمی ہم آہنگی کا مرتب کردہ فکری نظام نئی تنقیدی تصورات سے منتشر ہونے لگا۔ اس بحرانوں سے بھری صورت حال سے لگ رہا تھا کہ گزشتہ (13 ویں) صدی میں پنپنے والی ٹھوس اور مربوط تہذیب خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ تاہم عمومی زوال اور مسائل کے باوجود دوسری طرف 1 مستحکم ریاستوں اور نمائندہ اداروں کا ابھرنا۔ 2 مفکرین کی طبعی دنیا میں بڑھتی دلچسپی۔ 3۔ اٹلی کی نشاۃ الثانیہ جیسی اہم کلچرل اور انسان دوست تحریک اس دور کی چند ایسی مثبت پیشرفتیں تھیں جن کے طفیل مغرب یورپ اگلے ادوار میں جدید اور ترقی یافتہ ہو گیا

یہاں اس اخری دور وسطی کے بحرانوں اور اس کے مثبت پیشرفتوں کی تھوڑی تفصیل بیان کی جاتی ہے
اس دور کے بڑے بحران معاشی مسائل۔ کالی موت اور سماجی تناؤ اور جنگیں اور چرچ کا تنزل تھے
1) معاشی بحران۔
14 ویں صدی کے پہلے دو دہائیوں میں مختلف عوامل اور اسباب کے بنا پچھلے دور کی زرعی ترقی جاری نہ رکھی جا سکی اور خوراک کی قلت سے یورپ کو ایسے شدید قحط کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث 1315 تا 1317 کے دوران اتنی تعداد میں لوگ مر گئے کہ ان کی تدفین بھی بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔

2) بلیک ڈیتھ (کالی موت): معاشی بحران میں بلیک ڈیتھ یا بیوبونک پلیگ کے نام سے جانی والی وبا نے مزید اضافہ کر دیا۔

1347 میں روس سے سسلی اور وہاں سے بیشتر یورپ میں پھیل کر پہلے سے قحط گزیدہ آبادی کو 1351 تک مبتلا کیے رکھا۔ صدی کے اگلی دہائیوں میں اس وبا کی ایک دوسری شدید لہر اٹھی۔ گنجان شہر اور قصبات اس کے شدید شکار ہوئے۔ دو کروڑ افراد لگ بھگ (یورپ کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی) ان قدرتی آفتوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بنے۔ ان آفتوں کے مختلف حلقے مختلف توجیہات اور اسباب بیان کرنے لگے تھے۔ عام عیسائی اس کا سبب یہودیوں کی سازش قرار دیتے تھے جس کے باعث مغربی یورپ بالخصوص جرمنی قصبات میں ہزاروں یہودی قتل و غارت کا نشانہ بنے

(3) سماجی تناؤ (کسان بغاوتیں)

معاشی بحران جس میں بلیک ڈیتھ نے مزید اضافہ کا سبب بنا) 14 ویں صدی کی ”کسان بغاوتوں : کے بڑے محرک بنے۔ اگرچہ اس صدی کے دوران ہونے والی کسانوں کی مختلف بغاوتوں کے مخصوص اسباب بھی تھے تاہم ان کا ایک مشترکہ سبب حکمرانوں اور امراء کا روایتی معاشرتی انتظام کے جگہ نئے اور سخت قواعد کا نفاذ تھا۔ 1323 میں فلانڈر (شمالی بیلجیئم کا خطہ) 1358 میں فرانس اور 1381 میں انگلینڈ، 1395 میں شمالی اسپین کے خطے“ کاٹالونیہ ”اور جرمنی کے علاقوں میں کسانوں نے پر تشدد بغاوتیں برپا کیں۔ جن کو کچلنے میں ہزاروں کی تعداد کسان قتل کیے گئے۔ دیہاتوں کی طرح کئی شہروں اور قصبات (1378 میں فلورنس 1382 میں غینٹ (Ghent) اور 1382 میں پیرس) میں مزدورں نے بھی حکمران طبقات کے خلاف بغاوتیں کیں جن کو کسان تحریکوں کی طرح کچل تو دیا گیا مگر اس سے سماجی تناؤ مزید بڑھ گیا۔

4) سو سالہ جنگ۔

14 ویں صدی کے قحط، وباؤں اور کسان/ مزدور بغاوتوں کے بحرانوں کی اس فضا میں بادشاہوں کے درمیان رسہ کشی اور جنگوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ جن میں سب سے تباہ کن فرانس اور انگلینڈ کے درمیان 1337 تا 1453 وقفہ وقفہ سے لڑی جانی والی ”سو سالہ طویل جنگ“ رہی۔

اس طویل جنگ میں 1429 تک تمام شمالی فرانس بشمول ”پیرس“ انگلینڈ کے قبضے میں آ چکا تھا۔ اور جنوبی فرانس کے اہم شہر ”اورلینز“ کا محاصرہ کر لیا تھا۔ فرانس کی تار یخ کے اس نازک دور میں ایک ان پڑھ مگر بے حد مذہبی کسان دوشیزہ ”جون آف ارک“ (1412 تا 1431) اپنے ایک روحانی تجربے سے شہ پا کر فرانس کو بچانے کے لیے اٹھتی ہے۔ اس کی قیادت میں فرانسیسی فوج نے 1429 میں ”اورلینز“ کا شہر آزاد کرایا۔ اگرچہ 1431 کو ایک معرکہ میں گرفتار ہو کر انگریزوں کے ہاتھ آ گئی جنہوں نے اس بہادر کسان لڑکی کو جادوگرنی قرار دلا کر 30 مئی 1431 کو زندہ جلا دیا، مگر جون آف ارک ”فرانسیسی افواج کے لیے بے پناہ ولولے کا“ باعث بنی جنہوں نے پھر سے منظم ہو کر جلد ”پیرس“ کو انگریزوں سے بازیاب کر لیا اور 1454 تک ایک بندرگاہ (کالئس) کے سوا تمام مقبوضہ فرانسیسی علاقوں سے انگریزوں کو نکال باہر کیا۔ اسی طویل جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان فرانس کے کسان طبقے کا ہوا۔ جبکہ تجارت کو بھی بڑا دھچکا لگا،

تاہم اس جنگ کے خاتمے کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ملکوں میں قوم پرستی نے جڑ پکڑی اور اس کے زور پر بتدریج مغربی یورپ میں دو مضبوط قومی ریاستوں کی حیثیت سے ابھر آئے

فرانس اور انگلینڈ کے طویل جنگ کے بعد انگلینڈ میں تخت نشینی کے مسئلہ پر 1455 تا 1485 تک خانہ جنگی رہی۔ جو حریف فریقین کے جھنڈوں پر گلاب کے نشانوں کے بنا گلابوں کی جنگ (war of Roses) کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

6) پاپائیت / چرچ کا زوال: درمیانے دور وسطی میں 5) پاپائیت عیسائی مغرب کا سب سے غالب ادارہ تھا مگر اس آخری دور وسطی میں اس کو کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جن سے اس کی اتھارٹی اور وقار کم ہونے لگا تھا۔ اور اس کا چرچ کے تحت ایک متحدہ عیسائی دولت مشترکہ کی خواہش اور منصوبہ بکھر گیا۔

پاپائیت کی اتھارٹی کمزور ہونے کے اہم اسباب 1) بادشاہوں کا بڑھتا ہوا اقتدار، 2) کلیسا کے رہنماؤں کا یورپی سیاست میں دراندازی اور دنیا پرستی یوں عمومی عدم مقبولیت اور 3) سیاسی مفکرین اور چرچ اصلاح پسندوں کا مختلف اور نیا طرز فکر تھے۔

پوپ اور فرانس کے ”شاہ فلپ چہارم“ کے درمیان آویزش۔ پوپ یونیفیس ہشتم ” (1294 تا 1303) اور فرانس کے“ شاہ فلپ چہارم ” (1285 تا 1314) کے درمیان پہلا“ اختلاف چرچ پر ٹیکس لگانے کے مسئلے پر ہوا۔ جس میں پوپ ”کو پسپا ہونا پڑا۔ پھر بڑا اختلاف“ فلپ ”کا ایک فرانسیسی بشپ کو قید کرنے پر ہوا، ۔ جس کے باعث تناؤ اتنا بڑھ گیا کہ 1303 میں“ فلپ ”نے“ پوپ یونیفیس ”کو اناگنی (Anagani) میں اس کی گرمائی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ اگرچہ اس کو جلد رہا کر دیا مگر اس صدمے سے پوپ ایک ماہ کے اندر فوت ہو گیا۔ فلپ چہارم“ کا ”پوپ“ کے ساتھ ہتک آمیز سلوک پاپائیت ”کے لیے سخت دھچکا تھا۔ اس کے بعد“ فلپ ”نے“ پوپ ”کے جانشینوں کا، روحانی مرکز روم کے بجائے جنوب مشرقی فرانس کے حدود کے قریب اور زیر اثر ایک قصبے“ اویگون (Avigon) ”میں قائم کیا۔

1309 سے 1377 تک سال کے دوران تمام پوپ فرانسیسی رہے اور روم کے بجائے ان کی رہائش اویگون رہی۔ یوں اس عرصے کے دوران پاپائیت فرانس کے زیر اثر رہی۔ اسی صورت حال سے ”پاپائی“ منصب کی ساکھ بہت مجروح ہوئی۔

عظیم تفرقہ@ 1377 میں پوپ ”گریگری یازدہم روم“ واپس آیا مگر جلد فوت ہو گیا۔ تو ہزاروں اطالویوں کے دباؤ کے تحت کارڈنیل کی کونسل نے اطالوی کارڈنیل کو اربن ششم ”1378 تا 1389) کے نام سے“ پوپ ”منتخب کیا۔ تاہم جلد اس کے ہتک آمیز روئیے اور جانبدار پالیسی کے باعث کارڈنیل روم سے نکل گئے اور پوپ سے استعفی کا مطالبہ کیا۔“ پوپ اربن ”کے انکار پر انہوں نے نیا الیکشن کر کے فرانسیسی“ کلیمنٹ ہفتم ”کو“ پوپ ”منتخب کر دیا جس نے اویگون (Avignon) کو رہائش گاہ بنایا۔

یوں چرچ دو سربراہوں میں بٹ گیا۔ رومن چرچ کی تاریخ میں اس تقسیم کو“ عظیم تفرقہ ”پکارا جاتا ہے جس سے لاطینی عیسائیت منقسم ہو گئی۔ فرانس کے پوپ کے پیروکار اسپین ’سکاٹ لینڈ، اور جرمنی کی چند ریاستیں تھیں جبکہ انگلینڈ، ہنگری، پولینڈ پرتگال، اسکینیڈانیوا اور بیشتر جرمن ریاستوں کے باشندے روم کے پوپ کو دینی پیشوا مانتے تھے۔ اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیے دونوں جانب کے کارڈنیلز“ نے 1408 میں اٹلی کے شہر ”پیسا (Pisa) میں جنرل کونسل کا اجلاس منعقد کیا اور دونوں حریف“ پاپاؤں ”کو معزول کر کے نیا پوپ مقرر کیا مگر حالات سلجھنے کے بجائے مزید یوں بگڑے کہ دونوں معزول کردہ“ پوپوں ”نے فیصلہ ماننے سے انکار کیا۔ اور صورت حال یہ ہو گئی کہ اب“ دو ”کے بجائے پاپائیت کے“ تین ”دعویدار ہو گئے۔ کئی سال تک“ یہی صورت حال رہی۔ بالآخر نیا کونسل بنا کر ”کونسٹانس میں 1414

(Constance تا 1417 طویل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، ۔ جس میں ”پیسا“ اور ”اوگینی“ کے ”پاپاؤں“ کو معزول کرا دیا جبکہ حمایتوں کا ساتھ چھوڑنے سے روم کا پوپ بھی رخصت کیا گیا۔ 1417 میں کونسل نے اٹلی کے ایک غیرجانبدار کارڈنیل کو ”مارٹن پنجم“ (17 14 تا 1431) کے نام سے منتخب کر کے چرچ کا یہ عظیم تفرقہ ”ختم تو کر دیا مگر پاپائیت کے منصب کی ساکھ اور اتھارٹی مزید کم ہو گئی۔

چرچ کے لیے اس دور میں ایک چیلنج نئی مذہبی تحریکیں بھی تھیں۔ جو گزشتہ ایک صدی سے (بونیفیس ہشتم اور مارٹن پنجم کے دور تک) یورپ میں جڑیں پکڑ رہی تھیں۔ جن کا محرک چرچ کی رسمی تعلیمات اور قانون کے آمرانہ اور بے لچک طرز زندگی کے مقابلے میں چرچ کی تنظیم سے الگ رہ کر روحانی پناہ گاہوں کی تلاش تھی۔ اس کے نتیجے میں مختلف کلٹس یا طریقے (روحانیت، انفرادی پرہیزگاری۔ جادو ٹونے وغیرہ) بن گئے۔ چرچ نے اگرچہ ان میں زیادہ تر تحریکوں کو کافرانہ قرار دیا مگر اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے سے انکاری اور نئے مذہبی تقاضوں کے حوالے سے غفلت برتی۔ یہ حالات مذہبی طرز فکر میں بڑی اصلاح اور تبدیلی کی ضرورت کا اشارہ دے رہے تھے۔

کیتھولک چرچ کے لیے ایک بڑی مشکل فکری دنیا میں بدلتے طرز فکر کا رجحان تھا۔ پچھلے دور (13 ویں صدی) میں متکلمین بالخصوص ”تھامس ایکونس“ کا مرتب کردہ ارسطو منطق اور عیسائی عقائد کے یکجائی کے فکری نظام کو بعض مفکرین نے موثر دلائل سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ مذہبی عقائد اور انسانی عقل کے میدان الگ الگ ہیں جن کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس نئی طرز فکر کے دو ایم مفکرین ”ڈنز سکاٹس“ (1265 تا 1308) اور بالخصوص ”ولئیم آف اوکہہم William of Ockham (1285 تا 1349) تھے

ولئیم کے فلسفے کے کئی پہلو تھے۔ سیاسی حوالے سے وہ پہلا قرون وسطی مفکر تھا جو چرچ (مذہبی اقتدار) اور ریاست (دنیاوی اقتدار) کے مکمل علیحدگی کا موئید تھا۔ اس کے سیاسی نظریات کو فطری یا سیکولر گردانا جاتا ہے وہ پوپ اور چرچ کے تسلط سے آزاد ”سیکولر مطلق العنانیت“ کا قائل اور اہل کلیسا کے دنیاوی اقتدار میں مداخلت اور ذاتی ملکیت رکھنے کے خلاف تھا مذہبی معاملات میں بھی وہ ”پوپ“ کے مکمل اور حتمی اختیار کا قائل نہیں تھا۔

سیاسی تصورات کی طرح اس کا فلسفیانہ نکتہ نظر ریڈیکل اور دیرپا اثرات کا حامل رہا۔ تھامس ایکونس کے عمومی تصورات پر قائم کردہ فکری نظام پر مدلل تنقید کر کے نیا طرز فکر دیا۔

ان کے مطابق خدا کا ہر چیز پر قادر ہونا، روح کی ابدیت اور کئی دوسرے اہم مذہبی عقائد کو عقل کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مذہبی عقائد عقل سے ماوراء ہیں۔ ان کو عقلی بنیاد فراہم کرنا درست طریقہ کار نہیں۔ ایکونس ”کے برعکس ان کا موقف یہ تھا کہ عقل کو“ عقیدے سے جوڑنا نہ ممکن ہے اور نہ مفید ہے

طبعی علوم اور مذہبی عقائد کو علیحدہ کرنے کا یہ اپروچ طبعی کائنات کو مجرد قیاسیات اور مابعدالطبیعاتی نکتہ نظر کے بجائے تجرباتی انداز میں سمجھنے میں معاون ہوا۔ اس حوالے سے ”ولئیم اوکہم“ کو فطرت کی سائنسی تفہیم میں دلچسپی لینے پر مبنی جدید طرز فکر کا پیشرو کہا جا سکتا ہے۔ ولئیم کے نظریات اور نیا طرز فکر اہل کلیسا کے لیے بڑا چیلنج رہا

اس کے علاوہ ایک بڑا چیلنج چرچ کے اندر ریڈیکل نوعیت کی اصلاح پسند تحریکیں تھیں

اس حوالے سے دو اہم تحریکوں کے بانی انگلینڈ کا جان وائی کلف 1320 تا 1384) اور بوہمونیہ (موجودہ چیکوسلاوکیہ) کا ”جان ہس“ (1369 تا 1415) جیسے بڑے سکالرز تھے جو چرچ کے عمومی طرز عمل اور اتھارٹی کے نقاد تھے۔ ”جان وائی کلف“ کے مطابق 1) ۔ فرد اور خدا کے درمیان تعلق کے لیے چرچ کے بجائے بائبل واحد اتھارٹی ہے 2) ۔ نجات کا دار و مدار رسومات پر نہیں بلکہ خدا کی رضا پر ہے 3) اہل کلیسا کی دنیا داری مسیحی تعلیمات کے خلاف ہے 4) ۔ چرچ کا پیچیدہ بیورکریٹیک نظام غیر ضروری ہے۔

چرچ نے حسب روایت ان دونوں تحریکوں کو بدعتی قرار دیا۔ 1415 میں ”جان ہس“ سمیت اس کے بہت سارے پیروکاروں کو زندہ جلا دیا (1418 میں جان ویکلف کی ہڈیاں قبر سے نکال کر جلا دی گئیں جب اس کے پیروکار (جو لولارڈز کے نام سے جانے جاتے تھے) بھی شدید مظالم کا نشانہ بنائے گئے۔ تاہم ان کے خلاف تمام تر سخت سزاؤں کے باوجود چرچ ان تحریکوں کے پیروکاروں اور تعلیمات کا خاتمہ نہ کر سکا (16 ویں صدی کے ریفارمیشن (اصلاح مذہب) تحریک۔ کے لیے کئی لحاظ سے ”جان ویکلف“ کے خیالات رہنما بنے) ۔

آخری دور وسطی کی پیشرفتیں
اگرچہ، قدرتی آفات، کسانوں کی شورشوں

خانہ جنگیوں، فرانس اور انگلینڈ کے درمیان سو سالہ جنگ اور رومن کیتھولک چرچ میں اختلافات جیسے واقعات کو آخری قرون وسطی کے ”بحران“ کہا جاتا ہے تاہم ان بحرانوں کے باوجود اس دور کی بعض پیشرفتیں اور کامیابیاں بڑی مثبت نتائج کا پیشہ خیمہ بنیں

1) ”اسپین کی عیسائی ریاست“ قستلا ”کی ملکہ“ ائزابیلا ”کا 1469 میں ریاست“ اروگان ”کے بادشاہ“ فرڈیننڈ ”سے شادی ہونے سے دونوں عیسائی ریاستوں کا الحاق ہو گیا۔ 15 ویں صدی کے اخیر میں انہوں نے اسپین کی آخری مسلمان امارت غرناطہ کو فتح کر کے تمام مسلمانوں اور یہودیوں کو نکال دیا۔ اور پورے اسپین کو ایک متحدہ عیسائی ملک بنا دیا۔ یوں مغربی یورپ میں انگلینڈ اور فرانس کے ساتھ اسپین میں بھی ایک مضبوط قومی ریاست قائم ہو گئی

2) ۔ 14 ویں صدی میں آرٹ، ادب اور سائنس میں ترقی ہونے لگی تھیں۔ مسلم اسپین اور مشرقی تہذیبی مراکز، مسلم بغداد اور بازنطینی قسطنطنیہ) سے پچھلے دور (درمیانی قرون وسطی) میں حاصل کردہ یونانی اور عربی علوم فنون کی اساس پر 14 ویں صدی کے وسط سے شمالی اٹلی کے شہری ریاستوں میں ایک ثقافتی تحریک (نشاۃ الثانیہ) کا آغاز ہوا۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے اس کا پھیلاؤ اور اثر بڑھنے لگا۔ اگلے دو صدیوں کے دوران شمالی یورپ میں پھیل گئی اس کے تحت یورپ بتدریج پرانے روایات اور طرز فکر ترک کر کے نئے رجحانات اپنانے لگا، ۔ اور یوں قرون وسطی سے نکال کر دور جدید کی راہ پر گامزن ہو گیا

3) اس کے علاوہ قسطنطنیہ پر عثمانی ترکوں کے باعث اہل مغرب نے بحری تجارتی راستوں کی دریافت کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ 15 ویں صدی کے اخیر میں نہ صرف انڈیا کے لیے بحری راستہ تلاش کر لیا بلکہ اس وقت تک نامعلوم براعظم امریکہ بھی دریافت کر لیا۔ یہ دریافتیں یورپ کی معیشت اور طاقت میں اضافہ کا سبب بنیں

15 ویں صدی کے اخیر تک ہونی والی پیشرفتوں کے نتیجے میں ہونی والی تبدیلیوں سے روایتی طور پر دور وسطی کا اختتام اور جدید مغرب کا آغاز گردانا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS