الو نامہ: ٹائم مشین


مجھے ہمیشہ سے دو شوق رہے ہیں ایک بینک لوٹنے کا اور دوسرا ٹائم مشین میں سفر کرنے کا۔ یقین جانیں کہ بینک لوٹنے کا مجھے اس قدر شوق ہے کہ ایک عمر میں نے بینک لوٹنے کی منصوبہ بندی کی ہے لیکن کبھی قابل اعتماد ساتھی نہیں ملے کہ یہ شوق پورا کر سکوں۔ جب بھی بینک لوٹنے کی کوئی کہانی پڑھتی ہوں یا فلم دیکھتی ہوں میری شدید خواہش ہوتی ہے خدایا یہ لوٹنے والا کبھی نہ پکڑا جائے آخر ہمیں بھی تو بینک لوٹتے ہیں ان کو کبھی کسی نے پکڑا ہے۔ یہ ہمارے ساتھ بدمعاشی کرتا ہے اور اپنے رکھے ہوئے پیسے ہم اتنی مسکینی سے مانگتے ہیں کہ اگر ایسی شکلوں کے ساتھ کسی چوک پر کھڑے ہو جائیں تو جتنے پیسے بینک میں رکھے ہیں ان سے زیادہ ہی مل جائیں گے۔

اور اب ذکر دوسرے شوق کا۔ جاپانی مصنف کاواباتا نے لکھا تھا ”مغرب دیکھنے کی میرے دل میں کوئی خواہش نہیں ہے میں مشرق کی گمشدہ صدیاں دیکھنا چاہتا ہوں میں شاید گمشدہ صدیوں کا شہری ہوں“ ۔ میں بھی ایسی ہی کسی گمشدہ صدی کی باسی ہوں جو ٹائم مشین کے ذریعے اپنے ماضی سے ملنا چاہتی ہوں۔ اس ماضی سے جو میرے وجود سے لاعلم ہے۔ اس شہر میں رہنا چاہتی ہوں جو اس وقت میرے ذہن میں خودبخود چلا آتا ہے جب میں ماضی سے متعلق کوئی کہانی پڑھتی ہوں۔

ان ٹھنڈی گلیوں میں گھومنا چاہتی ہوں جہاں سٹریٹ لائٹ نہیں ہیں لیکن ہر گھر کے دروازے کے ساتھ طاق بنا ہوا ہے جس میں شام کو دیا جلایا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو دیکھنا چاہتی ہوں جو میرے لئے اجنبی ہیں لیکن میرے ڈی این اے میں ان کا سراغ مل سکتا ہے۔ علم و ادب کی ان محفلوں میں بیٹھنا چاہتی ہوں جہاں فلسفہ اور ادب ابھی پنگھوڑے میں ہیں۔ اس وقت میں جانا چاہتی ہوں جب خدا کا چہرہ اور وجود ہوتا تھا غائب نہیں تھا۔

بہت دل چاہتا ہے ٹائم مشین کو ہلکے سے ریورس گیئر میں ڈالوں اور کچھ سو سال پہلے پہنچ جاؤں رات کا وقت ہو قصہ خوانی کے کسی سرائے میں قیام ہو اور بالا خانے میں قہوہ پیتے ہوئے وسطی ایشیائی تاجروں سے ملکوں ملکوں کی کہانیاں سنوں۔ ہزاروں خواہشوں کی طرح ٹائم مشین کی خواہش بھی لایعنی سی لگتی تھی کہ کچھ دن پہلے ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ ٹائم مشین تو سامنے ہی موجود تھی اپنی نا سمجھی اور کم فہمی کی وجہ سے کبھی پہچان ہی نا پائی۔ دراصل ذہن میں ٹائم۔ مشین کا خاکہ ایک غیر مکمل کار کا ڈھانچہ جیسا رہا ہے جو ایک گیئر بدلنے سے روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزرفتاری سے پیچھے جائے گی اور بہت قدیم وقتوں میں لے جائے گی۔

لیکن جس ٹائم مشین کی میں بات کر رہی ہوں وہ آپ کو جسمانی طور پر تو حال میں رکھے گی لیکن ذہنی طور پر آپ کو ہزاروں برس کی سیر کروا لائے گی۔ جی بالکل درست سمجھے اصل ٹائم مشین تو ہماری ننھی دوست کتاب ہے جو صدیوں سے ہمیں کم خرچ میں قبل از تاریخ ادوار کی سیر کروا رہی ہے۔ کتاب اٹھائیں جس دور کی چاہیں سیر کر لیں بس آپ کی تخیل کی اڑان اچھی ہونی چاہیے۔ اب تو انٹرنیٹ کا دور ہے یہ ٹائم مشین آپ کے موبائل میں بھی سما جاتی ہے اور ”جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی“ والا حال ہے۔ میں پچھلے دور کی ہوں اس لئے سکرین کو کتاب کے متبادل کے طور پر اپنا نہیں سکی۔ مجھے آج بھی کاغذ والی کتاب پڑھنا پسند ہے۔ میرے نزدیک کتاب اس طرح پڑھنا کہ صفحے خراب نہ ہوں جلد میلی نہ ہو اور کسی اور سے بچا کر رکھنا بس ایک فن ہے جو آپ دھیرے دھیرے کتاب کی محبت میں مبتلا ہو کر سیکھتے ہیں۔

اس ٹائم مشین کا ایک فائدہ اور بھی ہے یہ آپ کو ماضی اور مستقبل کے ساتھ ساتھ حال سے بھی منسلک رکھتی ہے لہذا جب آپ پتھر کے دور میں بیٹھے ہوتے ہیں اور کوئی 2023 کی کھڑکی سے پ کو پکارے تو آپ فوراً واپس آ جاتے ہیں اور بات مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اپنی محفل سجا لیتے ہیں ہزاروں سال پرانی محفل۔

آئیے آپ کو ٹائم مشین کے ذریعے ہونے والی چند خاموش ملاقاتوں کے احوال سناؤں خاموش اس لیے کہ جن محفلوں میں جانے کا اتفاق ہوا وہاں اتنے صاحب علم لوگ تھے کہ میرا بولنا تو بے ادبی ہو جاتا۔

ایک مرتبہ رات کے پچھلے پہر ٹائم مشین کو ہلکی رفتار سے چلایا اور امرتا پریتم کی سٹڈی میں پہنچ گئی۔ امرتا جی اس وقت ”ایک اداس کتاب، لکھ رہی تھیں۔ اس کتاب کو لکھتے ہوئے انہوں نے کئی مرتبہ اپنے آنسو صاف کیے ۔ یہ واقعی کوئی آسان بات نہیں کہ آپ ان لوگوں کی خودکشیوں اور قتل کے قصے لکھیں جو اپنی آنکھوں میں ایک خواب لے کر چلے تھے اور اسے پورا کرنے کی کوشش میں دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے۔ ویسے تو وہ بہت حوصلے سے لکھ رہی تھیں لیکن جب ان کا قلم“ جنگی قیدیوں کی جیل ساچ سین ہاؤ سین ”کی جیل کے ملبے سے ملنے والی ایک بیاض کے ترجمے تک پہنچا تو ان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ رو پڑیں۔ جب میں نے کاغذ پر دیکھا کسی قیدی کی نظم“ آخری خواہش ”کا ایک حصہ ترجمہ کر رہی تھیں کہ

اگر اس آنسوؤں اور درد بھرے قیدی کیمپ میں
اور پردیس کی اس گھناؤنی دھرتی پر
مجھے زندگی سے وداع ہونا پڑا۔
اور میں وہاں سے چلی آئی کہ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ ان کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کو دلاسا دے سکوں۔

ایک دن یونہی سفر کرتے کرتے ناظم حکمت صاحب کے ساتھ ٹرین کے اس سفر پر روانہ ہو گئی جس کے بعد انہوں نے اپنی نظم
Things I didn ’t Realise
لکھی تھی۔ ماسکو سے برلن تک ٹرین کے اس سفر کے بعد اگر ناظم حکمت یہ نظم نہ لکھتے تو شاید میں بھی کبھی یہ دریافت نہ کر سکتی کہ دریا، تارے، اسمان برف، رات کا سفر مجھے کس قدر پسند ہے۔

یوں ہی ایک مرتبہ سقراط کی محفل میں پہنچ گئی اور اتفاق تھا کہ مجھے افلاطون کے برابر نشست ملی۔ تصور کے تصور کے مابین بنیادی فرق پر بحث جاری تھی اس محفل میں افلاطون کے احترام اور سقراط کے تحمل نے مجھے مدلل بحث کا طریقہ سمجھایا۔

ٹائم مشین کے ذریعے میرا ہمیشہ سے پسندیدہ سفر گندھارا اور سندھ کی تہذیبوں کا سفر ہے۔ مجھے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ تمہیں یہ دونوں تہذیبیں کچھ زیادہ ہی پسند ہیں اور تم ان دونوں تہذیبوں پر بہت اتراتی ہو۔ میرا جواب تھا کہ میرا تعلق جس ضلع سے ہے اس کے ایک طرف گندھارا تہذیب اور دوسری طرف سندھ تہذیب تو جو دو اتنی عظیم تہذیبوں کا وارث ہو تو تھوڑا بہت غرور تو اسے جچتا ہے نا۔ جب میں ان دو تہذیبوں کے سفر پر روانہ ہوتی ہوں تو پھر سب کچھ بھول جاتی ہوں یہاں تک کہ کوئی حال کی کھڑکی سے بھی پکارتا رہے تو بمشکل آواز آتی ہے۔

ان تہذیبوں کا فنون لطیفہ آپ کو باندھ دیتا ہے۔ ہمارے دریاؤں اور پہاڑوں پر ان گنت نشانیاں ہیں جو بہت غرور کے ساتھ آپ کو اپنا عظیم الشان ماضی بتاتی ہیں اور خصوصاً گندھارا تہذیب آپ کو سبق دیتی ہے کہ اتنی بڑی بڑی تہذیبوں کے سائے میں اپنا چھوٹا سا وجود پوری آن بان اور شان کے ساتھ کیسے برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

میری ٹائم مشین حال سے ماضی اور حال سے مستقبل کے سارے سفر میں میری ٹریول ایجنٹ بھی ہے۔ ٹکٹ بناتی ہے اور کہتی ہے چلو اور میں چل پڑتی ہوں۔

Facebook Comments HS