مائنس ون، پاکستانی سیاست اور عمران خان


پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی فوج کے لیے کوئی سیاست دان ناقابل قبول ہو جائے۔ تو اس کو پھر سیاست سے آؤٹ کیا جاتا ہے۔ اس کو مختلف طریقوں سے سیاست سے آؤٹ کیا جاتا ہے۔ عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔ ان کو مختلف کیسوں میں ملوث کر کے عدالت کے ذریعے سزا دی جاتی ہے۔ یہ روایت ہماری سیاست میں روز اول سے جاری ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی پرانی ایمبولینس جس میں تیل بھی نہیں تھا اس وقت سے کہانی شروع ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان سے لے کر نواز شریف تک مختلف وقتوں میں مختلف وزرائے اعظم کے خلاف مائنس ون فارمولا استعمال کیا گیا۔

فاطمہ جناح نے صدارتی انتخابات میں فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے خلاف انتخاب لڑتے ہوئے اپنے خلاف بے شمار بہتان تراشی کا سامنا کیا۔ اور وہ اس لئے کیونکہ وہ ظلم کی سیاست کی سخت مخالف تھیں لیکن افسوس وہ اس میں ہار گئیں اور انھیں مائنس ون کر دیا گیا۔ 1970 کے انتخابات میں مجیب الرحمٰن عوامی لیڈر بن کر سامنے آئے۔ لیکن اس کو مائنس کرنے کا پروگرام بنا لیکن وہ ڈٹ گئے۔ نتیجتاً پاکستان دو لخت ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 1977 میں مائنس ون کے تحت عدالت سے سزا دلوائی گئی۔

90 کی دہائی میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے ساتھ مائنس ون کا کھیل جاری رہا۔ پھر بینظیر بھٹو کو دسمبر 2007 میں ہمیشہ کے لیے مائنس ون کر دیا گیا۔ نواز شریف بھی 2017 مائنس ون فارمولا کا شکار ہو گئے۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو بھی مائنس ون فارمولا کے تحت جلا وطن کر دیا گیا۔ ان کی پارٹی کو ٹکرے کر دیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف محلاتی سازشوں کا آغاز نومبر 2021 میں شروع ہوا تھا۔ پہلے فیز میں پاکستان تحریک انصاف کے تین مرکزی رہنماؤں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور اسد عمر کو بلایا گیا اور ان سے عمران خان کو مائنس کر کے یہ تینوں میں سے کسی ایک کو وزیر اعظم بنانے کی پیشکش کئی گی۔

لیکن اسد عمر کے سخت موقف کی وجہ سے ابتدائی مراحل میں فوج کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ بعد میں 10 اپریل کو تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد وقتاً فوقتاً مائنس ون فارمولا پر کام ہوتا رہا۔ اسی فارمولے کے سہولت کار پاکستان تحریک انصاف کے اندرون خانہ موجود رہے۔ جس طرح ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے آرٹیکل 5 کے تحت رولنگ فواد چوہدری کی ہدایات پر دی۔ یہ بھی ان کا مشن تھا کہ عمران خان کو نا اہل کیا جائے گا۔ تاکہ ان کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔

بعد میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے میں بھی یہ کردار پیش ہوتے رہے۔ ابھی بھی ان کو باور کرایا گیا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف پر ہر صورت پابندی لگائی جائے گی۔ اسد عمر نے اس لیے استعفیٰ دیا کیونکہ پابندی کی صورت میں نا اہلی نہ ہو جائے۔ جبکہ پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی عمران خان کی نا اہلی کے بعد تحریک انصاف کی سربراہی کے لیے پر تول رہے ہیں۔ عنقریب گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک لائی جائے گی۔

وہاں پر بھی کئی چہروں کو تحریک انصاف سے بغاوت پر اکسایا گیا ہے۔ جن کے اعلانات آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔ ستمبر میں صدر مملکت کی ریٹائرمنٹ کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے سے پاکستان تحریک انصاف کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوامی مقبول ترین لیڈر عمران خان پر مائنس ون فارمولا کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ عمران خان بلاشبہ مقبول ترین رہنما اور ملک کی سب سے بڑی اور واحد وفاقی جماعت کے سربراہ ہیں۔

9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری پر سخت ترین ردعمل بھی آ چکا ہے۔ اگرچہ اس منصوبے پر کافی وقت سے کام ہو رہا ہے۔ لیکن عمران خان چونکہ میدان میں موجود ہے۔ سخت سے سخت ترین مشکلات کا مقابلہ کیا اور کر رہے ہے۔ اس لیے بھی عمران خان کو باآسانی مائنس نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کی مقبولیت کافی ہے۔ پہلے لوگوں کی مقبولیت اتنی نہیں تھی۔ پہلے ادوار میں میڈیا پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں تک معلومات نہیں پہنچتی تھی۔

لوگ جلد ہی پروپیگنڈا کے شکار ہوتے۔ لیکن اب سوشل میڈیا کے دور میں میڈیا پر کریک ڈاؤن کے باوجود بھی لوگ پل پل کی خبر سے آگاہ ہے۔ لوگوں میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے۔ پاکستان میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا حکومتی کنٹرول میں ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی عمران خان کی مقبولیت میں کمی نہیں آ رہی ہے۔ اس لیے موجودہ سوشل میڈیا کے دور میں عمران خان اور تحریک انصاف کو مائنس ون نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ کیوں کہ عمران خان ایک عوامی لیڈر ہیں اور عوام کے درمیان موجود ہیں۔ اس لیے عوامی ردعمل کو روکنا ناممکن ہے۔

Facebook Comments HS