سردار محمود صادق


مئی 1994 کی بات ہے، سردار کیمیکلز پبلک لمیٹڈ ہونے جا رہی تھی۔ اور میں بھی اس کا بزنس لینے کے لئے سردار کیمیکلز کی آئی نائن انڈسٹریل ایریا آفس اسلام آباد گیا۔ وہاں میری پہلی ملاقات سردار محمود صادق صاحب، سردار ایاز صادق صاحب، ڈاکٹر شہزاد صاحب، نیاز صاحب اور عبدالشکور پراچہ صاحب سے ہوئی۔

یہاں سے میری سردار محمود صادق صاحب سے محبت، شفقت اور اپنائیت کا رشتہ شروع ہوا۔

سردار کیمیکلز کو پبلک لمیٹڈ کرنے کا سہرا میرے اور میری کمپنی کے سر سجا۔ الحمدللہ ہم اسلام آباد میں ایڈورٹائزنگ کے بڑے سیٹ اپ میں شمار ہونے لگے، وہ دن اور آج کا دن اللہ کے فضل و کرم والدین کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ میری ہر کامیابی میں سردار محمود صادق بھائی میرے بڑے بھائی کی طرح میرے ساتھ کھڑے رہے۔ مجھے ہمیشہ بیٹے کہہ کر ہی بلاتے تھے اور تعارف بھی بطور بیٹا ہی کرواتے تھے۔ میں ہر مشورہ ان سے کرتا تھا۔ شاید ہی میں نے اتنی زیادہ پبلک ریلیشنگ والا کوئی دوسرا انسان دیکھا ہو۔

یکم اپریل کو ان کی سالگرہ ہوتی تھی ہر سال سالگرہ مبارک کا پیغام بھیجتا تو فون آ جاتا کہ یار سب کو بھول سکتا ہے پر میرے بیٹے کو نہیں، ان کا زیادہ اٹھنا بیٹھنا اسلام آباد کلب میں ہی ہوتا تھا۔ میں تو ان کے گھر کا ہی ایک فرد تھا۔ بیٹے کوئٹہ چلے جاؤ، پروین مگسی صاحبہ اور زلفی صاحب کے کچھ کام کر آؤ۔ جی بھائی جان۔ بیٹے لاہور میرے گھر چکر لگا آؤ، بیٹے گدون آمازئی آ جاؤ کسی سے ملوانا ہے۔ بیٹے لاہور حفیظ سینٹر چلے جاؤ سردار کیمیکلز کام ہے، پہلی دفعہ رولیکس گھڑیاں بھی محمود بھائی پاس دیکھیں۔ کلینڈر کے لئے چھ عدد دیں اور کہا دھیان کرنا پچیس پچیس لاکھ کی ہیں۔

ایک دفعہ ہی ان سے جھوٹ بولا۔ اس کے بعد جب اکثر موڈ اچھا ہوتا تو مسکراتے ہوئے نئے لوگوں سے تعارف کراتے یہ میرا بیٹا ہے اس کا میڈیکل سٹور ہے ہم بروفین دیتے ہیں اور یہ پورا میڈیکل سٹور ہی دے دیتا ہے، ہوا یوں کہ سردار کیمیکلز کے شیئر فارم پرنٹ کرنے تھے دو لاکھ۔ محمود بھائی مجھے پیسے دے کر کراچی چلے گئے میں چھپوا رہا تھا اور بھیج رہا تھا فارم شارٹ ہو گئے نئے چھپواتے چھواتے تقریباً دس لاکھ تک چلے گئے، میرا پہلا کلائنٹ تھا پیسے ختم ہو گئے۔

محمود بھائی کا فون آیا بیٹے خیریت مزید فارم نہیں آئے گارگو سے، بھائی وہ پرنٹنگ پریس والا فوت ہو گیا ہے کاغذ اس کی پریس کے اندر ہیں۔ نیا کاغذ خریدنا پڑے گا۔ دوسرے پریس سے چھپوانے کے لئے، اچھا فوراً گھر جا کر اپنی بھابھی سے پیسے لے لو۔ میں گیا اور بھابھی نے چار لاکھ مجھے دے دیے اور کام مکمل ہو گیا۔ ایک دن کہنے لگے بیٹے وہ پریس والا جھوٹ بولا تھا آپ نے جی بھائی۔ مسکرانے لگے یار تو مینو میڈیکل سٹور ویچ دیتا میں خود بروفین لوگوں کو دیتا ہوں۔ میں نے معذرت اور انھوں نے مجھے گلے لگا لیا۔ الحمدللہ سردار کیمیکلز 9 ٹائمز اوور سبسکرائب ہو گئی۔ مجھے کہتے تھے میرے بیٹے نے بہت محنت کی ہے۔

پھر بہت سے کام اکٹھے کیے۔ 1999 میں جب میں نے ٹی وی میں انٹرویو دیا اور پنجاب میں میں پہلے نمبر پر تھا پر حکومت بدل گئی اور نوکری لٹک گئی۔ محمود بھائی بلیئرڈ کے بہت شاندار پلیئر تھے سب کو ہراتے ہی دیکھا۔ کبھی خود ہی ہار بھی جاتے تھے اور ہنس کہتے پانچ روپے کی شرط لگا لو پھر جیت کر دکھاؤ۔

مجھے 19 مئی 2000 کا فون آیا بیٹے اسلام آباد کلب آ جاؤ۔ میں گیا تو اپنے کسی دوست کے ساتھ بلیئرڈ کھیل رہے تھے۔ یار یہ میرا بڑا بیٹا ہے، اور کہنے لگے یار تجھے پی ٹی وی میں بھرتی کروا دوں۔ تو میں نے بتا دیا بھائی جان میں پہلے ہی وہاں سیلیکٹ ہو چکا ہوں بس لیٹر نکلنا رہ گیا ہے، سامنے والے دوست نے یوسف بیگ مرزا صاحب کو فون کیا اور 20 مئی 2000 کو میں نے پاکستان ٹیلی ویژن جوائن کر لیا۔ 2005 میں زلزلہ آیا اور سپورٹس کمپلیکس میں سینکڑوں بستروں پر مشتمل سب سے بڑا ہسپتال قائم کیا۔ چوہدری تصدق صاحب کے ہوٹل کی بیسمنٹ میں دوائیوں کا سٹور تھا۔ سارا دن بھاگ دوڑ میں ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا بھائی جان چار پانچ کروڑ لگ گئے ہیں کیا، مجھے گلے لگا کر کہنے لگے بیٹے کاش لگ جائیں۔ اور آنکھیں آبدیدہ تھیں۔

دعاؤں کی کتابیں اکثر مجھ سے چھپوا کر تقسیم کرتے تھے۔ اپنی والدہ صاحبہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ سردار ایاز صادق صاحب کا الیکشن ہمیشہ لاہور میں رہ کر کراتے تھے۔ وہ کنگ میکر تھے۔ عمران خان صاحب بھی اکثر ان کے ساتھ ہی ہوتے تھے۔ کئی لوگوں کو میں نے محمود بھائی ساتھ جاکر پی ٹی آئی میں اعلی عہدوں پر لگوایا، محمود بھائی میرے خیال میں خان صاحب کے قریبی دوست ہونے کے علاوہ کلاس فیلو بھی تھے۔ خان صاحب سردار صاحب کا بہت احترام کرتے تھے۔

پھر کچھ عرصہ ملاقات نہ رہی تو پتہ چلا کینسر کے عارضے میں مبتلا ہو گئے تھے، اب ٹھیک ہیں۔

عائشہ بیٹی، حیدر بیٹا اور نادر بیٹا ہمارے سامنے ہی بڑے ہوئے، 23 مارچ 2019 کو میری زندگی کی سب سے بڑی فوٹوگرافی کی نمائش تھی اس کا افتتاح سردار محمود صادق بھائی سے کروایا، کیونکہ میری زندگی میں ان کی بہت راہنمائی اور احسان ہیں۔ وہاں ماشاء اللہ تیسرے بیٹے سے بھی پہلی ملاقات ہوئی، بہت اچھی تلاوت کرتا ہے چھوٹا بیٹا۔ اکثر اس کی آواز میں تلاوت اور نعت شیئر کرتے تھے۔ اللہ تعالی ان کو جزائے خیر دے۔ آمین

اس کے بعد ان سے رابطہ فون پر ہی ہوتا تھا۔ میں کہتا تھا بھائی جان ملنا ہے کہتے اچھا میں تمھیں بتاؤں گا۔ ایک دن کہنے لگے یار میری کیمو تھراپی کی وجہ سے ٹانگ ٹوٹ گئی تھے مجھے اندازہ تھا تو دیکھ نہیں پائے گا اس لیے ملنے سے انکاری تھا اب ٹھیک ہوں چھوٹی عید کے بعد فون کروں گا تو آنا جی بھائی۔ جب فون اٹینڈ ہونا بند ہو گیا۔ کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا تو کچھ دن پہلے سردار ایاز صادق صاحب کو میسج کیا سر محمود بھائی سے کوئی رابطہ نہی ہو رہا خیریت ہے، ان کا جواب نہیں آیا۔

پرسوں وزیراعظم صاحب جب سردار ایاز صادق صاحب سے افسوس کرنے گئے تو پتہ چلا میرے محسن میرے بڑے بھائی سردار محمود صادق صاحب انتقال فرما گئے ہیں۔ یتیم تو میں پہلے ہی تھا اب کمزور بھی ہو گیا ہوں۔ سردار محمود صادق صاحب کے لئے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ تعالی سردار محمود صادق صاحب کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائیں آمین۔ اور فیملی کو صبر جمیل عطا فرمائیں آمین۔
I miss you my dearest brother۔

مئی 2023 میں آپ 29 سال کی رفاقت چھوڑ کر چلے گئے۔ مئی ہماری زندگی میں کئی بار آیا پر ایسا تکلیف دہ نہیں آیا۔ رب دے حوالے بھائی جان۔

Facebook Comments HS