کہانی: منٹگمری حصہ چہارم
کئی ایکڑ رقبے پر پھیلے وکٹوریا طرز تعمیر کی ایک عمارت منٹگمری کے کچہری کے ساتھ چرچ اور کرکٹ میدان کے درمیان تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کو ہی کلب گھر بنا دیا گیا تھا۔ فلاور مین نے ہفتہ میں تین شامیں کلب گھر کے لئے مخصوص کر رکھی تھیں۔ اس کی دیکھا دیکھی شہر کی نئی اشرافیہ کے ساتھ ساتھ انگریز افسر و یورپی شہری بھی کلب کے چکر لگا نے لگ پڑے تھے۔
آج ثانی بھی اجل اور اپنی بہن اور اجل کی بہن جو کہ آپس میں سہیلیاں تھیں کے ہمراہ مغرب کے لگ بھگ کلب پہنچا۔ کلب میں اس وقت کچھ خاص رش نہ تھا۔ وہ ڈرتے ڈرتے کافی شاپ کی طرف گئے۔ ان کو کچھ خاص پتہ نہ تھا کہ کلب میں کیسے اور کیا کرنا ہے۔ بہر حال وہ کافی شاپ کے سامنے کے لان میں الگ الگ میزوں پر بیٹھ گئے۔ یعنی کہ خواتین و حضرات الگ الگ۔ ثانی نے چائے کا بی بیرے کو کہا۔ وہ دونوں بالکل چپ بیٹھے تھے اور ماحول کے اثر میں تھے اس دوران ہی ان کی چائے آ گئی۔
لان میں آنے والے کافی دیسی لوگوں نے ان کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ لیکن وہ صرف ان کو پریشان نظروں سے ہی دیکھتے رہے اور اپنی چائے ختم کر کے فوراً ہی وہاں سے نکلے۔ راستے میں اجل سنگھ کی بہن نے خاص طور پر کلب کی تعریف کی اور آئندہ بھی آنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ وہ دونوں بھی باہر آ کر دوبارہ چہک رہے تھے۔ اور اپنے تانگے کے کوچوان کو اجل نے خاص طور پر ہائی سٹریٹ کے مکمل چکر لگانے کا کہا اور پھر دلبہار قلفہ کی دکان پر رکنے کا بھی!
صبح صبح کوٹھی کے لان میں لگے بوڑھے برگد پر چرند پرند چہک رہے تھے۔ بیلدار لان میں گوڈی اور ماشکی پانی لگا رہا تھا۔ باورچی کوٹھی کے نائی سے حجامت کروا رہا تھا۔ آدھے ایکڑ میں پھیلے لان پر مشرق سے نکلتا سورج اپنی ابتدائی کرنیں ڈال رہا تھا۔ لان میں ناشتے کی میز لگا دی گئی تھی۔ اجل سنگھ کی عادت تھی کہ موسم بہار میں ناشتہ وہ صبح لان میں کرتا تھا۔ بحیثیت ضلع مجسٹریٹ اس کے گھر میں سر کاری عملے کی بڑی تعداد ڈیوٹی پر رہتی تھی۔
اجل صبح جلدی اٹھتا اور باہر آ جاتا اور صبح کا آغاز اخبار دیکھنے سے کرتا اور مالٹے کا رس بھی اس کی اول غذا ہوتا۔ اس کی عام طور پر اپنے سارے خاندان کو تاکید ہوتی تھی کہ وہ ناشتے کی میز پر لازمی موجود ہوں۔ ناشتہ اس کی بیوی کی ذاتی ملازمہ بناتی تھی جو کہ اب دیسی سے ولایتی اشیاء تک آ چکا تھا۔ اجل کے صرف دو ہی بچے تھے۔ موہن سنگھ اور موہنی کور۔ اشراق کے وقت ہی جمعدار نے لان میں جھاڑو دے کر ناشتہ کی میز پر صاف دھلا ہوا میز پوش ڈالا۔
میز پوش خاص طور پر لاہور انار کلی میں آرڈر پر بنوائے جاتے تھے۔ میز پوش پر کڑھائی کے ذریعے بابا صاحب کی درگاہ کی تصویر بنوائی گئی تھی۔ اور اس میز پوش کو اجل و مہتاب کور خاص طور پر اس طرح میز پر ڈالتے تھے کہ درگاہ صاحب بالکل ناشتہ کے وقت نظروں کے سامنے رہے۔ غرض ایک معمول کی صبح تھی۔ اجل اور مہتاب آج خلاف معمول موبن کے ہمراہ اونچی چھتوں والے چھے کمروں پر مشتمل گھر کی عمارت سے برآمد ہوئے۔ باہر تمام عملہ با ادب درجہ بدرجہ صاحب سلام کے لیے حضوری میں حاضر تھا۔
باورچی اور نائی سب سے پہلے۔ پھر کوچوان اور میر منشی اور ان کے پیچھے چوکیدار، مالی، بیلدار، ہوا دار، جمعدار، دھوبی اور نہ جانے کون کون۔
اور ان سب سے آگے اس کے ذاتی ملازمین جو کہ چار تھے باورچن، صفائی والی اور دو ذاتی خادمین، غرض اجل سنگھ ایک چھوٹی ریاست کے نواب کے سطح کے طرز زندگی سے محظوظ ہوتا تھا۔
اجل جیسے ہی کرسی کے قریب پہنچا تو اس کے ذاتی خادمین نے اس کے اور موبن کے لئے جبکہ باورچن نے مہتاب کور کے لئے کرسی آگے کی۔ وہ تینوں جیسے ہی بیٹھے۔ مالٹے کا رس پیش کیا گیا اور میر منشی نے اجل سنگھ کو کہا کہ ”سردار جی! ایک اہم خبر ہے۔ لیکن اجل نے اشارہ سے منع کیا اور صبح کی دعا پڑھنی شروع کر دی۔ دعا پڑھ کر مالٹے کا رس پی لیا اور باور چن کو اشارہ کر کے دیسی گھی کا پراٹھا اور مکھن کے ساتھ آلو اور دال کی بھجیا لی۔ اور تسبیح پڑھ کر کھانا شروع کیا۔ میز پر مکمل سکوت تھا۔ اس نے قریب دس منٹ میں ہلکا ناشتہ کیا اور اس کے بعد میر منشی کو اشارہ کیا اور اخبار لگا۔ لیکن میر منشی صلابت خان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اجل اور مہتاب کور دونوں ذرا سا چونکے۔ اجل سنگھ نے آنکھ کے اشارہ سے پوچھا کہ کیا ہوا؟
صلابت خان میر منشی نے کہا:۔ سردار جی! رات لاہور سینٹرل جیل میں بلکہ صبح صادق کے وقت بھگت سنگھ جی کو پھانسی دے کر مار دیا گیا اور خبر سناتے میر منشی با قاعدہ رو پڑا۔ خبر سن کر اجل سنگھ تو سہ گیا۔ لیکن مہتاب کور کا لقمہ گلے میں پھنس گیا اور وہ زور زور سے اس کو نکالنے لگی۔ باورچن نے فوراً مہتاب کور کو سہلا کر مدد کی۔ صلابت خان نے کہا کہ ابھی چند منٹ پہلے ہی تار کے ذریعے اطلاع ملی ہے۔ موہن سنگھ کچھ دیر تو حیرت میں گم سم بیٹھا رہا۔ لیکن اچانک ہی ماں کے گلے لگ کر بلک بلک کر رونے لگ پڑا۔ ہائے بھگت پھائے لگ گیا، ہائے بھگت پھائے لگ گیا۔


