بوسنیا کی چشم دید کہانی(37)

ایمسٹرڈیم میں دو عجائب گھر، جن کی نسبت یورپ کے دو بڑے مصوروں سے ہے، آپ کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک وان گو اور دوسرا ریمبراں کا عجائب گھر ہے۔
آج جو عمارت میوزیم کے طور پر جانی جاتی ہے، یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جو دوسری بہت سی عمارتوں کی طرح سترہویں صدی میں تعمیر ہوئی۔ یہ 1639 ء تا 1657 ء ریمبرانت کا مسکن رہی۔ اسی گھر میں اس کا بیٹا Titus پیدا ہوا اور پھر یہیں اس کی بیوی Saskia کا جوانی میں انتقال ہوا۔ اس گھر کو 1911ء میں عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا۔ یہاں ریمبرانت کی مصوری کے 250 نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کا کل اثاثہ ہنر یہی تصاویر ہیں۔ انہیں اس ماحول میں دیکھنا، جہاں وہ تخلیق کی گئیں ایک یادگار تجربہ ٹھہرتا ہے۔
مستان شاہ اور عباس مجھے ایک رات شہر کے سب سے بڑے کیسینو میں لے گئے۔ یہ کیسینو ایک وسیع و عریض چار منزلہ عمارت میں واقع ہے۔ اس کی ہر منزل ایک بڑے ہال پر مشتمل تھی جس کے مرکز میں دائرے کی شکل میں بنی ہوئی بار ہے۔ ہم جب وہاں پہنچے تو ہال کے بقیہ حصہ میں جوئے کی مختلف اقسام کے کھیلوں کی میزیں سجی ہوئی تھیں۔ ہر میز کا کھلاڑیوں اور تماشائیوں نے کچھ اس انداز سے گھیراؤ کیا ہوا تھا کہ تماش بین کو بڑی کوشش کے بعد اس گھیرے میں کہیں جگہ بناتے ہوئے منظر تک رسائی حاصل ہوتی تھی۔
مستان شاہ اور عباس نے مجھے چاروں منازل کا چکر لگوایا۔ پھر ہم دوسری منزل پر آ کر ٹھہر گئے۔ ہم یہاں کوئی نصف شب کے قریب پہنچے تھے۔ یہاں قدم رکھتے ہی مستان شاہ تماشائی بنے رہنے کے بجائے شامل تماشا ہونے کو بے چین ہو رہے تھے۔ وہ ایک میز کے گرد حلقے میں جگہ بناتے ہوئے آگے کھسکتے گئے پھر کسی نشست کے خالی ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی ہی دیر بعد انھیں یہ موقع حاصل ہو گیا۔
عباس نے مجھ سے کہا کہ اب پو پھٹنے سے قبل شاہ جی کا یہاں سے اٹھنا مشکل ہے۔ چلو ہم بار میں جا کر جوس پیتے ہیں۔ ہم کبھی بار میں بیٹھ کر اور کبھی ادھر ادھر گھوم کر وقت گزارتے رہے۔ ہر چکر کے دوران جب بھی ہم مستان شاہ کی میز کے پاس رکتے تو انھیں گرد و پیش سے بالکل بے خبر اپنے شغل میں ڈوبا ہوا پاتے۔ اب صبح کے چار بجنے کو تھے۔ عباس نے آخر ایک چکر پر دخل اندازی کی ہمت کر کے شاہ جی سے پوچھ ہی لیا
اس آستاں سے اٹھنے کا کب ارادہ ہے
بس تھوڑی دیر اور بیٹھوں گا۔ شاہ جی بولے
اچھا ہم بار میں آپ کا انتظار کرتے ہیں۔ عباس نے کہا
بار میں کوئی آدھا گھنٹہ کے انتظار کے بعد شاہ جی آ گئے۔ سٹول سنبھالتے ہی انھوں نے بیرے سے ایک گلاس کی فرمائش کچھ اس انداز سے کی کہ فیض کے شعر کا نقشہ کھینچ دیا
بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب
شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
اگلے دن عباس اور مستان شاہ نے مجھے ہیگ دکھانے کا پروگرام پہلے ہی سے بنا رکھا تھا۔ لیکن رات دیر تک جاگنے والوں نے جب صبح ہونے پر آرام کیا تو پھر ان کی آنکھ سہ پہر کو ہی کھلی۔ ایمسٹرڈیم سے ہیگ کا فاصلہ 50 کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔ سڑک بتیوں سے آراستہ جگمگ جگمگ کر رہی تھی۔ شاہ جی کے بقول ان کا جوا اگرچہ رات ان کا نہ ہوا تھا لیکن پھر بھی سفر کے پٹرول کا خرچہ نکل ہی آیا تھا۔ پورے راستے وہ وقفے وقفے سے لتا اور رفیع کا فلم بمبئے کا بابو کا گیت،
دیوانہ مستانہ ہوا دل جانے کہاں ہو کے بہار آئی،
اونچی آواز میں بجاتے رہے۔ یہ گیت پہلے بھی کئی دفعہ سنا تھا۔ ایس ڈی برمن نے اکثر گیتوں کی طرح اس کی بھی لاجواب دھن بنائی تھی، آج اس کھلی سڑک پر اس گیت میں بجائی گئی ستار نے کچھ ایسا لطف دیا کہ ناسخ کا یہ مصرعہ بے اختیار زبان پر آیا
ع۔ بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں
جب ہم ہیگ میں داخل ہوئے تو شام ڈھل چکی تھی اور بازار بند ہو چکے تھے۔ سڑکوں کے کنارے تقریباً تمام عمارتیں ہم شکل تھیں۔ شاہ جی کو ہیگ کا یہ منظر بہت پسند تھا۔ کہہ رہے تھے کہ انسانی مساوات کا دعویٰ میرے نزدیک اس وقت تک کھوکھلا ہے جب تک جہان سنگ و خشت مساوات کا گواہ نہ ہو۔ بس ہیگ واحد شہر ہے جس کا ہر قریہ آپ کو یہ گواہی دیتا محسوس ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی کہ اسی ہیگ کے ایک کوچے کا ایک مقام بین الاقوامی عدالت انصاف کی صورت کچھ ایسا نامی ہے کہ
میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
کے درجے پہ ہے، مجھے ادھر بھی تو لے چلیے۔ کچھ ہی دیر بعد ہم اس عدالت کے سامنے کھڑے تھے۔ گرجا کے مشابہ سرخ پتھروں سے بنی ہوئی یہ عمارت مجھے ویسی متاثر کن محسوس نہ ہوئی جیسا کہ میرا اس کے بارے میں گمان تھا۔ یہی وہ عدالت تھی جس کا شمار سربوں کے نزدیک صف دشمناں میں ہوتا تھا کیوں کہ جنگی جرائم میں ملوث جو اشخاص اس عدالت کو مطلوب تھے ان کی کل تعداد کا تین چوتھائی سرب تھے جن میں ان کا ہیرو کرادچ بھی شامل تھا۔
عدالت انصاف کے نظارے کے بعد مجھے شاہ جی ہیگ کے ساحل پر لے گئے۔ وہ مجھے یہاں لانے کے بعد اس بات پر مسلسل افسوس کرتے رہے کہ میں یہاں غیر مناسب وقت پر آیا ہوں اگر موسم گرما میں یہاں آتا تو اس مقام کو غالب کے اس شعر کی تصویر پاتا
وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
ساحل کو چھوڑنے کے بعد ہم نے ایمسٹرڈیم واپسی کی راہ لی۔ لمحہ بہ لمحہ ہم اہل حکومت کے شہر سے دور اور زندہ دلوں کے شہر کے قریب ہوتے گئے۔
ایمسٹرڈیم میں برصغیر اور دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد آباد ہونے کا اندازہ اگلے روز نماز جمعہ کی ادائیگی کے وقت ہوا۔ یہ مسجد جہاں ہم نے نماز جمعہ ادا کی، نمازیوں سے لبریز تھی جن میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی۔ زندگی سے پیار کرنے والوں کے اس شہر میں اللہ کے ایسے بندے بھی آباد تھے، جو اس کی یاد سے بے گانہ نہ تھے اور آج اس کے گھر میں زیر لب گڑ گڑا رہے تھے
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے
ایمسٹرڈیم میں قیام کے دوران گل بھائی اور ان کے دوست کچھ اس محبت سے پیش آئے تھے کہ اب ان سے رخصت ہوتے وقت دل کٹ رہا تھا۔ جدائی کے جبر کا سامنا بہر حال ناگزیر تھا۔ چنانچہ میں 18 نومبر کی سہ پہر ایمسٹرڈیم سے جدا ہوا میری ریل گاڑی اب اسی راستے پر واپس رواں تھی جس راستے سے میں یہاں آیا تھا۔ جرمنی کے شہر کولون سے کچھ آگے تک کا سفر روشنی میں طے ہوا۔ ریل سے اس شہر کا منظر بہت پیارا لگا۔ خصوصی طور پر اس کے بیچوں بیچ بہتا ہوا وسیع رائن دریا اور اس کے کنارے واقع گرجا گھر، جس کے مینار آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ راستے میں ایک بار پھر بارش شروع ہو گئی۔ بون پہنچے تو ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی۔ یہ مغربی یورپ میں شدید سردی کے آغاز کا عندیہ تھا۔ علی الصبح میونخ پہنچنے کے بعد میں زغرب جانے والی ریل گاڑی پر سوار ہو گیا۔ زغرب سے رات دس بجے بذریعہ بس سفر اختیار کیا۔ اگلی صبح میں ایک بار پھر سٹولک میں تھا۔

