عمران خان: بگڑی ہوئی نسل کا بدبخت ہیرو؟ ایک متنازعہ کالم

9 مئی کے یوم سیاہ سے پہلے عمران خان اپنی تمام تر سیاسی غلطیوں، کوتاہیوں اور یوٹرنز کے باوجود قیادت کے جس مقام پر کھڑے تھے، ’اسلامی ٹچ‘ کے ساتھ اپنے ’غیرت مندانہ‘ بیانیے اور سوشل میڈیا کے ذریعے مائنڈ سیٹ کرنے کی مہارت کے طفیل ’طفلان انقلاب‘ کی نظروں میں ان کو قوم کے ہیرو کا تشخص حاصل ہو چکا تھا۔ قوم اپنے ہیرو کو ایک معجزاتی اور طلسماتی انسان تصور کیا کرتی ہے، وہ اس کو ہر حالت میں کامیاب دیکھنا پسند کرتی ہے، ہیرو خواہ کتنا بھی غیرمعمولی ہو، وہ اصل میں ایک انسان ہی ہوتا ہے، تمام انسانوں کی طرح خوبیوں اور خامیوں کا تناسب اس کی ذات میں بھی موجود ہوتا ہے۔
بقول یونانی مفکر ’ہومر‘ ایک ہیرو کے حصول مقاصد کی جنگ یا جدوجہد کے زمانے میں صرف اس کی جرات آزمائی کا پہلو ہی زیادہ نمایاں رہا کرتا ہے۔ اس کی زندگی کے باقی پہلوؤں کو نہیں دیکھا جاتا مگر ایک ہیرو جب کامیاب ہو جاتا ہے یا اقتدار میں آ جاتا ہے تو اس کی مجموعی اہلیت کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی صلاحیتوں کے تمام پہلو عملی طور پر ایک ایک کر کے سامنے آنے لگ جاتے ہیں۔
تاریخ عالم میں حکمرانی کے ہر عہد اور ہر بڑے ہیرو کی جبلت میں کامیابی کی صرف ایک دو ہی بڑی خصوصیات پائی گئی ہیں، یعنی اگر وہ بہادر تھا تو معاملہ فہم نہیں تھا اور اگر معاملہ فہم تھا تو شجاع نہیں تھا، لہذا انسانی تاریخ کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ہیرو بھی ہر فن مولا ہرگز نہیں ہوتا۔ ہر مقتدر ہیرو کو اپنی کامیاب ذاتی صلاحیتوں کی خصوصیات کا ادراک رکھتے ہوئے بھی حکمرانی کی کامیابی کے لیے زندگی کے اور حکمرانی کے ہر شعبے کی کامیاب صلاحیتوں کی خصوصیات کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
سقراط کے بقول ہر دانش مند ہیرو کو ایک جدلیاتی انداز فکر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے اسے ایک مجلس مشاورت تشکیل دینی پڑتی ہے، سقراط کہتا ہے کہ جو ہیرو جتنا زیادہ بحث و مشاورت کا ملکہ رکھتا ہو گا، وہ اتنا زیادہ ہی اپنے معاملات افعال میں کامیاب ہو گا، ہر ہیرو کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے حلقۂ احباب اور مشیروں میں عقل و تدبر اور فہم و فراست سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو شامل رکھے۔ ایسے لوگ جو اپنے اپنے میدان فہم و عمل کے باصلاحیت لوگ ہوں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سلجھے ہوئے ہوں اور منجھے ہوئے ہوں، تجربہ کاروں، زمانے کی سرد و گرم سے آشنا ہوں۔ معاملہ فہم ہوں، فرض شناس ہوں، وفادار ہوں، دور اندیش ہوں، ٹھہرے ہوئے لوگ ہوں۔
سقراط کے اقوال کے علاوہ ہر ہیرو کے ذاتی دوست احباب کا بھی حلقہ ہوتا ہے جو ہر مقتدر ہیرو کے اقتدار پر اثر انداز ہوا کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک ہیرو کے دوست احباب کا حلقہ انتہائی اعلیٰ پائے کے انسانوں کا حلقہ ہو جو لالچ اور طمع سے پاک ہوں۔ جو اپنے ہیرو کی عزت و نیک نامی کے ضامن ہوں، اس ذاتی حلقے کے احباب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ ظرف کے بے لوث لوگ ہوں اور فکر و دانش کے رسیا ہوں۔ اس طریقے سے ایک ہیرو کی مجلس مشاورت اور اس کے دوست احباب کا یہی وتیرہ ہوتا ہے کہ وہ ہیرو کے اقتدار کے ہر شعبے کی نمایندگی کرتے ہوئے اس کی تمام ضرورتوں کو پورا کریں۔
ایک زمانہ ہر حکمران ہیرو کے اقتدار برائے اقتدار کا زمانہ ہوتا ہے، جس میں ہر مقتدر ہیرو کو اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے ہر ظلم روا رکھنا ہوتا تھا، ہر دھوکا ہر فریب جائز خیال کیا جاتا تھا، لہذا ان زمانوں میں ہر مقتدر ہیرو کو (جس کو ’پرنس‘ کہا جاتا تھا) ایک ’میکیاولی‘ کی ضرورت ہوتی تھی، ایک ’چانکیا‘ کی ضرورت ہوتی تھی، تاریخ انسانی کے تمام مظالم و شقاوت اور سفاکی کو اگر ایک جگہ مرتب کیا جائے تو وہ دانش ’میکیاولی‘ بن جائے گی۔
اسی طرح تاریخ عالم میں دھوکے، فریب، جعل سازی، عیاری، مکاری، ٹھگی اور بے رحمی کو اگر ایک ساتھ ترتیب دے دیا جائے تو وہ فکر ’چانکیا ازم‘ بن جائے گی۔ خدا کا شکر ہے کہ بنی نوع انسان کی طویل جدوجہد حریت سے آج کے اقتدار کی ماہیت تبدیل ہو چکی ہے۔ آج کا ہیرو ’پرنس‘ نہیں، عوام کی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ اس کو کسی میکیاولی اور چانکیا فلسفے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہر حکمران ہیرو اپنے اقتدار کا مرکزی انسان ہوتا ہے لہذا اقتدار کی کامرانیوں کا بھی وہی محور ہوتا ہے اور دوسری شکل میں گردشوں کا بھی سب سے زیادہ وہی شکار ہوا کرتا ہے، حکمران قائدین کو ہر دن نئے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے، امور مملکت کے بنیادی چیلنج وسیع پیمانے پر سامنے آیا کرتے ہیں جو قیادت بردار ہیرو کی قوت برداشت اور اعصاب کا امتحان کرتے ہیں، حکمران ہیرو کی ترجیحات اور پسند ناپسند کو واضح کرتے ہیں، ایک ہیرو قائد کا تشخص اس کے اقتدار کے بنیادی نظریات کا ایک غیر متبدل لائحہ عمل ہوتا ہے جو اس کے مصمم ارادوں کا پیکر ہوتا ہے، جس کو اسے عملی جامہ پہنانا ہوتا ہے، اس کو ایک سرکش اور نا موافق ماحول میں دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔
قیادت کے نورتنوں میں جن کو آج کل مشیر وزیر کہا جاتا ہے، ہر سطح اور ہر طبقے کے خیال و فکر کے لوگ شامل ہوتے ہیں جو حالات کے دباؤ اور مسائل کی کثرت کی بنا پر قیادت کے لیے ناگزیر بنتے چلے جاتے ہیں، جو رفتہ رفتہ قیادت کے کان، آنکھیں اور دماغ بن جاتے ہیں، یہ مشیر اگر اعلیٰ اوصاف کے بلند ہمت لوگ ہوں تو قیادت کی سربلندی کے مظہر ہوتے ہیں، یہ اگر ابن الوقت یا سورج مکھی کے پھول ہوں تو قیادت کے مقام کو دھندلا دیا کرتے ہیں۔
قدیم یونانی مفکر ’ہومر‘ اپنے مرکزی ہیرو ’اوڈیسیس‘ کو مشورہ دیتا ہے کہ لوگ اپنے قائد یا ہیرو کو ہمیشہ کامیابی کا مظہر خیال کرتے ہیں، وہ اس کی ناکامی کی تاب نہیں لا سکتے، ’اوڈیسیس‘ اس کے مشورے پر عمل کر کے کامیاب واپس آتا ہے، ثابت ہوا کہ اچھا مشورہ کامیابی کا سہرا ہوتا ہے، اس طریقے سے ’جارج برنارڈشا‘ اپنے ڈرامے ’آرمز اینڈ مین‘ میں دو ہیرو حکمران کا ذکر کرتا ہے، ایک ہیرو کے مشیر اس کو ہر حالت میں جنگ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، دوسرے کے مشیر اس کو جنگ سے باز رکھ کر تباہی سے محفوظ کر دیتے ہیں، اسی طریقے سے قدیم چین کا مرد دانا ’کنفیوشس‘ اپنے بادشاہ کو مشورہ دیتا ہے کہ موتیوں کو پرکھنے کے لیے جوہریوں تلاش کرتے ہو، عمدہ گھوڑوں کی نسلیں پرکھنے کے لیے ماہرین رکھتے ہو، اپنی بیماری کے علاج کے لیے اعلیٰ حکیموں کو تلاش کرتے ہو، مگر تم اپنے مشیر اور وزیر بنانے میں کوئی امتحان ہی نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے وقت کے نام ور خوشامدی اور سازشی تیرے درباری بن گئے ہیں، ارسطو نے سکندر اعظم کو ایک ہی سبق دیا تھا کہ ہر کام کرنا پہلے خود شروع کر دو، تمام قوم اور فوج تمھاری پیروی کرنے لگ جائیں گی۔
تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ چاہے بادشاہت ہو یا جمہوری حکومت، ہر حکمران ہیرو کی کامیابی کا راز اس کے مشیروں کے اجتماعی مشوروں پر مبنی ہوتا ہے اور یہ بھی تاریخ کی تلخ حقیقت ہے کہ کامیابی کا سہرا، مشیر اپنے سر باندھا کرتے ہیں اور ناکامی صرف قائد اور ہیرو کے کھاتے میں آ جایا کرتی ہے۔ قدرت نے 25 جولائی 2018 ء کے ’متنازعہ‘ انتخابات میں پہلی مرتبہ اقتدار عمران خان کے ہاتھ میں رکھا، ’سلیکٹ‘ ہونے کے بعد عمران خان اور ان کی کابینہ میں شامل ہر وزیر کا صاحب کردار ہونا پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت اور کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے آخری شرط تھی، چونکہ وہ اس اقتدار کے پرنسپل فریق تھے چنانچہ اگر وہ ’اصولوں کی فقیری‘ اختیار کر لیتے تو ارسطو کے قول کے مطابق تمام فریق ان کی نقل کرنے لگ جاتے، کیوں کہ قوموں کے لیے ان کے قائدین اور ہیروز رول ماڈل اور انسپائریشن کے چشمے ہوتے ہیں۔
عوام اشراف کے نقال ہوتے ہیں اور ’اشرافیہ‘ دولت اور طاقت نہیں ’رویہ‘ کا نام ہے۔ عمران خان کو یہ بات رکھنی چاہیے کہ تبدیلی تب تک ناممکن ہے جب تک قائدین کی سوچ اور اعمال تبدیل نہیں ہوتے، لیڈر شپ کے رویے تبدیل ہو جائیں تو عوام کے ’رویے‘ بھی ایک خود کار نظام کے تحت خود ہی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اقتدار کی ہوس میں عمران خان کا جو عمومی اجتماعی رویہ دیکھنے کو ملا وہ بہت ہی مایوس کن اور حد درجہ پریشان کن تھا۔ 9 مئی کا دن انا اور تکبر کے سنگھاسن پر براجمان کپتان کے سیاسی تابوت میں شاید آخری کیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ان کے اسی طرز عمل کا شاخسانہ ہے کہ 2011 ء کے بعد جوق در جوق تحریک انصاف کا دو رنگا طوق زیب گلو کرنے والے ’رہنما‘ اب اسی نظم و ضبط سے قطار اندر قطار رخصت ہو رہے ہیں۔

