جمہوریت خان


یہ کہانی نظام کے ہاں بیٹے کی پیدائش سے شروع ہوتی ہے، اس بچے نے پورے گھر کو کیسے جلا کر راکھ کر دیا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب خود نظام بھی مارا مارا ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ آپ آگ لگنے کی وجوہات تلاشیں آپ کو نظام اس کی اولادوں اور طریقہ کار کو سمجھنا ہو گا۔ نظام ایک خاص کیفیت میں جینے کا نام ہے جسے ہر پانچ سال بعد ایک نئی اولاد کی خواہش آن لیتی ہے، نظام کے ہاں کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ نو دس سال کوئی نئی اولاد پیدا نہ ہوئی اور کبھی اس حد تک چلا جاتا کہ دو ڈھائی سال بعد ہی ایک نئی اولاد اور اس سے لاڈ پیار کی کہانیاں رقم ہوتیں۔ نظام کی فطرت اور حالات دونوں ہی اس کا ساتھ دیتے اور نظام کو کوئی پوچھنے والا بھی نہ تھا۔ نظام جب چاہتا جس مرضی اولاد کو قریب کر لیتا اور جب چاہتا کسی کو بھی دھتکار دیتا، ایسا تھا نظام۔

پھر نظام اپنی ساری اولادوں سے تنگ آ گیا، نظام کے کرتا دھرتا سعودیہ والے ماموں کے بیٹے کامران کے ابا راحیل ماما نے سوچا اب نظام کو اپنی باقی اولادوں کو عاق کر دینا چاہیے اور نو مولود جس کا نام سب نے اتفاق اور اطمینان سے جمہوریت خان رکھا تھا اس پر توجہ دینی چاہیے کیوں کہ نہ بڑے بیٹے سائیں کے پلے کچھ تھا نہ دوسری اولاد بھولے کے حصے کچھ بچتا تھا بلکہ سائیں اور بھولا دونوں نظام کے باغی تھے، ایک نظام کو کہتا اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا تو دوسرے نے نظام کے منہ پر اس کے ماضی کو بیان کرنا شروع کر دیا تھا، بھولا اس حد تک چیخنے لگا کہ پڑوس تک آوازیں جانے لگیں اور نظام بھولے سے متنفر ہوتا چلا گیا، نظام کو سب قبول تھا لیکن وہ آگ بگولہ ہوجاتا جب کوئی اس کی خامی بیان کرتا۔

خیر نظام نے طے کیا کہ اب نہ سائیں بچے گا نہ بھولا اور اس نے اپنی ساری توجہ جمہوریت خان پر صرف کرنا شروع کردی، جمہوریت خان کے بارے میں نظام کہتا کہ یہ میرے آبا و اجداد خصوصاً بابا کی روایات کو قائم کرے گا، یہ ہم سب کو بچائے گا اور یہی واحد مسیحا ہے، گو کہ سیانے چیختے رہے کہ جمہوریت خان سوائے تباہی کے نظام کے حصے میں کچھ اور نہ لائے گا لیکن نظام نے بابا رحمتے کے ساتھ مل کر سب کو یہ یقین دلایا کہ جمہوریت خان نا نیک اور سچا ہے بلکہ دنیا میں واحد فرشتہ بھی ہے، بھولا جو جمہوریت خان سے پہلے نظام کا لاڈلہ تھا اس میں نظام کو کیڑے نظر آئے تو بابا رحمتے کی مدد سے اس سے جان چھڑا لی گئی، نظام جمہوریت خان کی محبت میں اس حد تک اندھا ہو چکا تھا کہ وہ گالی دیتا تو سب کہتے واہ واہ، وہ نظام کے منہ پر اپنی شلوار سوکھنے کے لئے ڈالتا تو بابا رحمتے کہتا کیا شلوار ہے، وہ نظام کے ٹی وی سیٹ پر بلا مارتا تو نظام کہتا کمال ہو گیا میرے لاڈلے!

نظام اور جمہوریت خان کی محبت کے بیچ ایک اور اولاد بھی آئی لیکن نظام نے اس اولاد کے منہ پر لفافے میں پیسے دے مارے اور کہہ دیا تو میری اولاد نہیں لیکن جب جب نظام کے سینے میں ٹیس اٹھتی ہے نظام کی اولاد فوراً لبیک کہتی ہوئی آن پہنچتی ہے۔ خیر، جمہوریت خان کی دستار بندی ہو گئی، پگ سج گئی اور ایک پیج جاری ہوا کہ یہی حقیقی اولاد ہے، نظام نے اپنے اس بیٹے کو سینے سے لگا کر رکھا اور اس بیٹے کو اپنی آخری اولاد مان کر اسے ہر گر سکھایا، اپنی کمزوریاں، اپنے طور طریقے اپنی لڑائی کے انداز اور اس سے بچ نکلنے کے اطوار گویا اس آخری اولاد پر ہر شے نچھاور کردی گئی، اور خان تھا بھی ہینڈسم سب فوراً سیکھ گیا۔

لوگ نظام کی اس اولاد کی برائے کرتے تو چاچا غفور سب کو سمجھاتے کہ اس بچے کو کچھ نہ کہو، صرف اس کی اچھائی دیکھو اور مثبت بات کرو، اس بچے کو کوئی کھلونا چاہیے ہوتا تو نظام اپنے فیض سے اسے سب دلوا دیتا، اور نظام اور جمہوریت خان دونوں کو یقین ہو گیا کہ بس یہی وہ دن تھے کہ جس کا انتظار کرتے تھے۔ سائیں اور بھولا دونوں خان اور نظام کی محبت دیکھتے اور پھر کال کوٹری میں ایک دوسری کو دیکھتے کہ نظام بے وفا ہے جب خان کو مارے گا تو اس محبت کی راحت سے زیادہ تنگی، سختی پریشانی خان پر آئے گی، لیکن کوئی نہ مانتا سب کہتے سائیں اور بھولا حسد کا شکار ہیں۔

خیر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، نظام کے لاڈ پیار نے خان کو اتنا بگاڑ دیا کہ خان خود کو نظام کا بھی باپ سمجھنے لگا اور جب باپ کی شفقت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے تو باپ وہاں سے ہٹ کرتا ہے جہاں سے اولاد کو پتہ بھی نہیں چلتا، خان کی برائی آنے کو تھی، نظام کو اب خان کا چہرہ برا لگنے لگا اور خان اپنی وجیہ شخصیت کے بل بوتے پر اتراتا پھرتا تھا۔

خان نے قصیدہ گو رکھ لئے تھے، یہ قصیدہ گو خان کی ہر خوبی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے، نظام بھی چپکے چپکے باتھ روم میں شیو کرتے اپنے لاڈلے کی تعریفیں سنتا اور خوش ہوتا لیکن وہ دن جا چکے تھے جہاں راوی سب چین ہی چین لکھ رہا تھا، یکایک نظام نے طے کیا کہ اب خان کی چھٹی کرنی ہے بڑے بچوں یعنی کہ تجربہ کاروں کو قریب لانا ہے، نظام کو بھولے کی یاد آنے لگی کیوں کہ بھولا رکھ رکھاؤ کا ماہر تھا اور خان اپنی میں مگن رہتا تھا، لیکن بھولے کی قرابت اور خان کی جدائی کے باوجود نظام بند کمروں میں یا کسی دندان ساز کے ہاں آمنا سامنا ہونے پر خان کو مشورہ دے ہی دیا کرتا اور اپنی محبت کا قرض اتارتا، محبت ہے ہی اتنی ظالم کہ ذلیل کروا کر چھوڑتی ہے۔ ایک طرف سے والہانہ محبت تھی، کھلی چھوٹ تھی تو دوسری طرف خان بھری محفل میں اپنے باپ کو گالی دیتا،

حالات کی اسی بھول بھلیاں میں چاچا حافظ نے خاندان کا نظام و نسق سنبھالا اور خان کی جانب سے نرمی کے ناجائز فائدے اٹھانے کا منہ توڑ جواب دینے کی ٹھانی۔ خان فطرتا چور تھا، اسے ایک پرانی چوری پر پکڑ لیا گیا لیکن خان ہوشیار تھا اس نے نظام کے سکھائے کے عین مطابق الزام لگنے سے پہلے ماحول بنا دیا کہ مجھ پر جھوٹا الزام لگے گا اور اپنے چاہنے والوں کر تیار کر لیا، خان کے چاہنے والے خان کو اپنا مسیحا کہتے اور باقی سب کو دشمن کہتے، خان ایک دن پکڑا گیا اور توقعات کے عین مطابق الزام لگا دیا کہ چاچا اسے پھنسا رہا ہے، خان نے چاہنے والوں نے خان کی اندھی محبت میں سارے گھر کو آگ لگادی، گھر جلتا رہا اور خان کے لئے زمین تنگ ہوتی رہی، خان کا ایک ایک عاشق اس وقت نرغے میں ہے لیکن وہ کہاں ہیں جو اس کو بنا گئے؟

وہ کہاں ہیں جس نے ایک پیچ پر محبت کی سند جاری کی، وہ کہاں گئے جو کہتے تھے مثبت بات کرو؟ وہ بابا کہاں ہے جو اس کھیل کا سب سے بڑا کردار تھا؟ وہ فیض کہاں گیا جس نے نظام کو ننگا کر دیا؟ اگر خان کے عاشق پکڑنے ہیں تو ابتدائے عشق کے اسباب اور انتہائی انجام کے بیچ چھپے کرداروں کو بھی بے نقاب کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS