ہم کہ ٹھہرے پردیسی کہ جاناں نہیں


اسلام آباد شہر میں آنے کا یہ میرا اولین نہیں، دوسرا اتفاق تھا۔ یہ موقع مجھے اس لیے حاصل ہوا کہ قائداعظم یونیورسٹی کی غیر جانبدار انتظامیہ نے ایم ایس سی میں داخلے کے موزوں امیدواروں میں میرا نام بھی منتخب کر لیا تھا۔ ٹیسٹ اور انٹرویو میں شمولیت کی خاطر بذریعہ ریل گاڑی چار گھنٹے میں گجرات سے ’روانہ‘ ہو کر راولپنڈی ریلوے اسٹیشن اترا اور پھر اسلام آباد جانے والی روٹ۔ 1 کی ویگن پر سوار ہو کر بس سٹاپ آبپارہ (اسلام آباد) پر پہلا قدم رکھا۔

اربن ٹرانسپورٹ کے بس سٹاپ کے احاطے سے متصل یونیورسٹی شٹل بس سروس کا پوائنٹ تھا۔ بس سٹاپ کے سامنے سڑک کے اس پار آبپارہ مارکیٹ قدرے اونچائی پر واقع تھی جس تک رسائی کے لیے سیمنٹ کے پکے زینے بنائے گئے تھے۔ کامران بیکری مارکیٹ کی پہلی دکان تھی اور بائیں جانب سیڑھیاں اترتے ہی کامران ریستوران تھا۔ دندناتی سرد ہوا سے پناہ کی خاطر سڑک پار کر کے بیکری سے متصل دیوار کی اوٹ میں کھڑا ہو گیا۔

شام ہو چلی تھی موسم سرما ’جوبن‘ پر تھا۔ کٹکٹی کے جاڑے کے باوجود ہر طرف چہل پہل تھی۔ ’شہری‘ سردی کے تیر ستم سے بچنے کے لیے بطور ڈھال بھاری بھاری اونی کوٹ اور پینٹس زیب تن کیے ہوئے تھے یا پھر جیکٹوں، لمبے لمبے سویٹروں اور جرسیوں وغیرہ میں ملبوس تھے۔ دوشیزائیں پوشاکوں کو جلا بخش رہی تھیں۔ بھاری بھر کم شالیں اٹکائے اپنی شخصیت کو چار چاند لگائے، رنگ رنگ کی میناؤں، قمریوں اور مرغابیوں کی مانند ادھر ادھر اڑ رہی تھیں۔

مجھ ’دیہاتی‘ کے پاس سردی سے پناہ کی خاطر سبز کنی دار، شطرنجی ڈیزائن والا کھیس تو تھا لیکن ’مجبور شہری‘ شاید اس کی جھلک دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتے تھے اس لئے میں نے احتیاط سے اس کو چار پرتوں میں تہہ کیا۔ مزید احتیاط یہ کی کہ اس تہہ کردہ نابغہ کوایک زینے پر رکھ کر اس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور خود کو یخ بستہ ہواؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ جبلی سرما سے نبرد آزما ہونے کے لیے، میرا ساتھ نیلے بارڈر والے، چست پیلے ہاف سویٹر نے سعادت مندی سے نبھایا، جو گھر سے نکلتے ہوئے مامتا سے مجبور میری ماں نے زبردستی پہنا دیا تھا، حالانکہ گجرات میں اس طرح کی ٹھنڈ نہیں تھی۔ بریف کیس، جس میں تعلیمی اسناد اور اگلے دن پہننے والے کپڑے وغیرہ تھے، ٹانگوں پر رکھ کے اس پر ٹھوڑی اٹکا کر ’بات کچھ ایسی بنی کہ ہو گئی دنیا حسین‘ کی حقیقی تصویر دیکھ کر وجد میں آنے لگا۔

’مسرت کی‘ اس رو میں بہہ رہا تھا۔ معاً ایک گھنگریالی سی دھن سنائی دی۔ ”سنیے آپ کے پاس ٹائم ہو گا۔“ جس سمت سے ایسی پرکشش آواز سنائی دی تھی، گردن گھما کے دیکھا تو دھان پان سی ایک دلکش لڑکی پرکشش انگرکھا پہنے اوپر والے زینے پر جھکے کھڑی، میری طرف سے جواب کی منتظر تھی۔ میں ابھی ان الفاظ پر غور کر ہی رہا تھا کہ وہ ایک زینہ نیچے اتری۔ اس کے صراحی نما گلے میں اونی مفلر کے دو پٹ لہرا رہے تھے اور زیب گلو سونے کی نازک مالا گردن پر جھولتے ہوئے اسے مستور کر رہی تھی۔

اس شگفتہ کلی نے، کنپٹیوں سے اپنی لٹیں جھٹکتے ہوئے، دوبارہ یہی الفاظ مترنم آواز میں اک دلبرانہ ادا سے پھر ادا کیے۔ ”سنیے۔ آپ کے پاس۔ ٹائم ہو گا۔“ اس مرتبہ میں نے اس کی درخشاں پیشانی سے، یہی الفاظ ’پھوٹتے‘ ہوئے بھی دیکھے۔ اس خوش سراپا کو ’نہیں‘ کہنا بھی ’گناہ‘ تھا اور ’ہاں‘ بولنے کے لیے الفاظ تول ہی رہا تھا کہ وہ سرمئی آنکھوں والی کیوٹ سے چرمی شولڈر بیگ کو اپنے نازک سڈول شانے پر موزوں کرتی ہوئی، میری آنکھوں میں اپنا عکس بطور امانت ڈالتے، زینے اترنے لگی۔ مگر جاتے جاتے گلابی چہرے پر تبسم بکھیرتے ہوئے، نازک لبوں سے اپنے کلام کی تشریح کر گئی، ”میرا مطلب ہے آپ کے پاس گھڑی ہو گی۔“

”وہ گھڑی جو کلائی میں پہنی جاتی ہے وہ تو نہیں البتہ وہ ’گھڑی‘ جس میں کلائی پکڑی جاتی ہے اس کے لئے جہاد کرنے نکلا ہوں۔“ یہ جواب دینے کی ہمت مجتمع کرنا بے فائدہ ہوا کہ وہ پھول کلی ’پاک‘ بھنوروں کی ’ستان‘ نگاہوں سے جلدی جلدی بچ کے آج تو نکل گئی۔

میں، دیوانے، نے اس فرزانے کو نرم و ملائم چال چلتے دور تک جاتے دیکھا اور خاموش جواب نم دار ہوا کے دوش اس کے سنگ کیا۔ ”میں تو اس شہر میں پردیسی ہوں۔ اس کی تہذیب و تمدن سے نا آشنا جہاں مہ پارے ہیں ہر سو، آنکھوں کو ترساتے لیکن جاناں نہیں۔“ اس نے بھی شاید میرا جواب سنا، تبھی دور جا کے کامران ریسٹورانٹ میں داخل ہونے سے ذرا پہلے، مورتی جیسے خد و خال اور شاداب چہرے کی جھلک دکھاتے، دایاں بازو دھیرے سے بلند کر کے فضا میں اپنی مسحور کن مہک بکھیرتی راہداریوں کی اوٹ میں چلی گئی۔ ’عجیب مانوس اجنبی تھا، مجھے تو حیران کر گیا وہ۔‘

جب سے میں جہاد مکمل کر کے کامران ہوا ہوں تب سے میں اس نازک اندام کی معصوم جھلک پھر سے دیکھنے کے لئے، انہی زینوں پر بیٹھا، کامران ریسٹورانٹ کی راہداریوں کی طرف تکتا رہتا ہوں۔ اب کی بار میں نے کلائی میں ڈیجیٹل سٹیزن گھڑی باندھ رکھی ہے۔ اس لئے مجھے اس سے پوچھنا ہے، ”سنیے تمھارے پاس شام ہے؟ میرے پاس اب ٹائم ہے۔“ مجھے اعترافاً یہ بھی کہنا ہے۔ ”مس آپ کا سمجھانے کا انداز بڑا اچھوتا ہے۔“ ( 5۔ دسمبر 1975 )

Facebook Comments HS