ڈاکٹر عرفان شاہ کا اعزاز: محمد شان الحق حقی دہلوی پر پہلا ڈاکٹریٹ مقالہ (آخری قسط)
نابغۂ لسان و ادب محمد شان الحق حقی کے عنوان کے تحت ڈاکٹر عرفان شاہ کو دوران تحقیق کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے ہوں گے، کیسے کیسے مسخ شدہ حقائق، گھر بیٹھے خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر خود کو تحقیق و تنقید کے شہنشاہ اور چیمپیئن سمجھنے، کہلوانے کے شوق میں جینے اور اس خواہش کو اپنے دلوں میں پروان چڑھانے والوں کی بے بنیاد اور من گھڑت کہانیوں کو رد کرنا پڑا ہو گا۔ کتنا دشوار ہوا ہو گا ڈاکٹر عرفان شاہ کے لیے ان تمام تر مراحل سے گزرنا۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل نیازی سے ہمارے گھریلو مراسم رہے، بلے فیملی سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے، اپنے فخرالدین بلے بھائی کا حد درجہ احترام کرنے والے اور آفرین ہے تادم مرگ اپنی اس محبت کو نبھانے والے ڈاکٹر محمد اجمل نیازی پر اور اللہ سلامت رکھے ان کی فیملی کو اور آفرین ہے پیاری دلاری ماں بھابی رفعت اجمل نیازی پر کہ انہوں نے بھی ہمیشہ اس تعلق پر کہ انہوں نے اس محبت کو اسی خلوص سے نبھایا بلکہ نبھا رہی ہیں۔
یہ کم و بیش اب سے پندرہ، سولہ برس قبل کی بات ہے کہ ہم نے کراچی سے ڈاکٹر محمد اجمل نیازی بھائی کو فون کر کے کہا کہ اجمل بھائی ایک ذاتی نوعیت کا کام ہے آپ کی مدد درکار ہے۔ اجمل بھائی نے کہا کہ میرے بلے بھائی کے گھر سے مجھے جو کوئی بھی حکم ملے گا تو مجھے اس کی تعمیل کر کے خوشی ہوگی۔ ہم نے بصد احترام ان سے عرض کیا کہ پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی ایک کتاب میں تایا جان (کلیم عثمانی صاحب) کا مشہور زمانہ ملی نغمہ۔
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسبان اس کے، شامل کیا گیا ہے لیکن اس نغمے کے ساتھ کلیم عثمانی کے بجائے جمیل الدین عالی صاحب کا نام شائع کیا گیا ہے اور ہم نے آپ سے رابطہ کرنے سے قبل ہماری جائے ملازمت واقع کلفٹن بلاک2، کراچی کے بالمقابل رہائش پذیر جناب جمیل الدین عالی صاحب کو بھی مطلع کیا ہے کہ ہم اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہ رہے ہیں تو انہوں نے بھی کہا بالکل اور ضرور کیجے اور اس سلسلے میں آپ کو جہاں کہیں ہماری ضرورت پیش آئے ہم حاضر ہیں۔
پیارے بھائی ڈاکٹر محمد اجمل نیازی نے متعلقہ ادارے سے بات کر کے ہمیں بیس پچیس روز میں مطلع کیا کہ آئندہ ایڈیشن میں یقینی طور پر اس غفلت اور کوتاہی کا ازالہ کر دیا جائے گا اور واقعی ایسا ہوا۔ اللہ جانے کہ پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ صاحب کو ایسے کتنے ہی معاملات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ اب بات چھڑ گئی ہے تو اسی نوعیت کے دو، ایک معاملات کی نشاندہی بھی کرتا چلوں اور وہ آنس معین کے حوالے سے ہیں پہلا تو یہ کہ ڈاکٹر صفیہ عباد کا مقالہ کہ جو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اشاعت پذیر ہوا۔
اس کے حوالے سے جب ہماری سید حسن رضوی المعروف شکیب جلالی کے فرزند ارجمند اور ثروت حسین کے فرزند ڈاکٹر سلمان ثروت سے بات ہوئی تو ہمیں اندازہ ہوا کہ اس مقالے میں شامل متعدد واقعات، بہت سے مواد، شواہد، حوالہ جات کے حوالے سے ہمارے ہی نہیں بلکہ ان کے بھی بہت سے تحفظات ہیں۔ دوسرا معاملہ یہ کہ اکثر نہیں مگر کچھ لوگ جب آنس معین کے حوالے سے چند حقائق کو تبدیل کر کے رقم کرتے ہیں جن میں سال ولادت اور سال وفات بھی شامل ہے۔
یہی نہیں بلکہ چند محققین نے تو اپنی تحریروں یا وی لاگز میں یہ تک بیان فرما دیا کہ آنس معین کی تو نماز جنازہ میں ان کی فیملی نے یا ان کے والد گرامی سید فخرالدین بلے صاحب نے شرکت ہی نہیں کی تھی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آنس معین کی نماز جنازہ کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ شہر ملتان کے قلب نواں شہر چوک پر واقع علامہ اقبال پارک میں ادا کی گئی تھی اور آنس معین کی نماز جنازہ میں تمام تر شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہر کے تقریباً تمام قابل ذکر شعراء، ادبا، ناقدین، مدیران قومی و مقامی اخبارات، تاجران، صحافی حضرات، مقتدر اساتذۂ کرام، بینکرز، اداکاروں اور سماجی، ثقافتی اور سیاسی جماعتوں کے عہدیداران نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی کہ جن میں ڈاکٹر مقصود زاہدی، مسعود اشعر، ممتاز العیشی، ڈاکٹر اسلم انصاری، پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد، ریزیڈینٹ ایڈیٹر روزنامہ امروز سید سلطان احمد، پروفیسر انور جمال، زوار حسین، ریزیڈینٹ ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت ملتان شیخ ریاض پرویز، بیورو چیف اے پی پی ملتان غنی چوہدری، جبار مفتی، ممتاز اطہر، ڈاکٹر عرش صدیقی، ڈاکٹر طاہر تونسوی، ابن کلیم، ڈاکٹر انور زاہدی، رضی الدین رضی، اور شاکر حسین شاکر جیسے بے شمار محبان بلے فیملی نے شرکت فرمائی تھی اور پہلی ہی صف میں آنس معین کے والد سید فخرالدین بلے، برادران آنس معین (سید انجم معین بلے، سید عارف معین بلے اور راقم السطور ظفر معین بلے جعفری) شامل تھے اور اس وقت کی متعدد تصاویر بھی دستیاب ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ سے ہمارا دوران تحقیق بھی مسلسل رابطہ رہا تھا۔ ڈاکٹر عرفان شاہ کی دوران تحقیق ہم پر خصوصی کرم نوازی رہی۔ متعدد بار انہوں والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے اور برادر محترم آنس معین کے حوالے سے اہم اور ایسے مطبوعہ مواد کی نقول بھی ہمیں فراہم کیں کہ جو ہمارے لیے بالکل نئی تھیں یا وہ کہ جن کی ہمیں تلاش تھی۔ تحقیق کے دوران ہی ڈاکٹر عرفان شاہ کی ہم سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں انہوں نے ہمیں مخاطب کر کے مطلع فرمایا کہ آپ تو قطعہ نگار بھی فرماتے رہے ہیں۔
ہم نے تعجب سے پوچھا کہ آپ سے کس نے کہہ دیا تو انہوں نے روزنامہ مساوات کا حوالہ دے کر فرمایا کہ قطعہ نگاروں کے تذکروں میں آپ کا بھی ذکر خیر دیکھا۔ ہم نے وضاحت فرمائی کہ سید محسن نقوی شہید روزنامہ مساوات کے لیے بھی قطعہ نگاری فرمایا کرتے تھے۔ لیکن جن دنوں ان کے ناتواں کاندھوں پر سرائیکی کلچر اینڈ لٹریچر کی ذمہ داریاں تھیں تو سیدی محسن نقوی غریب خانے پر تشریف لائے اور ان کے ہمراہ روزنامہ مساوات کے مدیر باتدبیر بھی تھے اور انہی کی موجودگی میں سیدی محسن نقوی نے مساوات کے مدیر کو مخاطب فرمایا کر انہیں مطلع فرمایا کہ آج کل مجالس کی مصروفیات حد سے زیادہ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سرائیکی کلچر اینڈ لٹریچر کی پروموشن کا پروجیکٹ تو آج سے تو نہیں آئندہ کل سے آپ کسی کو بھیج کر صبح دس گیارہ بجے جانی ظفر معین بلے سے منگوا لیا کیجے گا۔ بے شک ہماری سیدی محسن نقوی سے حد درجہ بے تکلفی تھی اس کے باوجود حد درجہ احترام اور لحاظ بھی قائم تھا بس کیا مجال تھی ظفر معین بلے کی کہ وہ جگر جانی سیدی محسن نقوی کا حکم ٹالتے۔
پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ صاحب کو جناب شان الحق حقی دہلوی علیگ کے حوالے سے ایسی کتنی اور کس کس نوعیت کی وارداتوں کا سامنا کرنا پڑا یہ ہم ڈاکٹر عرفان شاہ سے آئندہ کسی ملاقات میں ضرور دریافت کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بھی بھگت چکے ہیں۔ ایک مرتبہ برادر محترم خالد احمد، ڈاکٹر اجمل نیازی، نجیب احمد شادمان جی او آر تھری کے پاس سے گزرتے ہوئے بنا کسی اطلاع کے تشریف لے آئے، اپنے گھر بھی کبھی کوئی کیا اطلاع دے کر آتا ہے؟
میرے سامنے دو پیپرز ٹرے رکھی تھیں ایک میں ادب لطیف اور دوسری میں آواز جرس کے نام پر موصولہ ڈاک تھی۔ ہم اپنی جان، فقیرانہ مزاج اور درویشانہ انداز کے پیکر جناب اسلم کولسری سے محو گفتگو تھے جب ڈور بیل بھی بجی اور اسی کے ساتھ برادر محترم خالد احمد اور برادرم اجمل نیازی نے یک آواز ہو کر صدا لگائی السلام علیکم بلے بھائی۔ کیا یادگار اور شاندار دن تھا۔ میں نے برادر محترم خالد احمد سے غزل سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے میری بات کو سنی ان سنی کر کے جناب نجیب احمد اور ڈاکٹر اجمل نیازی کو آنکھ سے اشارہ کیا جو ہم دو منٹ کی کوشش کے بعد اجمل نیازی بھائی کی معاونت سے سمجھ پائے اور پھر، پھر کیا تھا ہم چاروں اپنے پیارے سجن، بیلی اور بھائی اسلم کولسری پر حملہ آور ہو گئے اور ان سے مسلسل گھنٹہ بھر بس انہی کا کلام سنا۔ اسلم کولسری کی ایک بہت ہی خوبصورت غزل کا مطلع اور ایک شعر ملاحظہ فرمائیے
پھر سے چوب ہوئی ہے، بنسریا کی لے
آس کے سوکھے ہیڑ کے نیچے شاید کوئی ہے
میرا جی بہلانے کو اور ساتھ نبھانے کو
اس کے رنگ چرا لاتی ہے کمرے کی ہر شے
اس دوران چائے بھی چلتی رہی اور برادرم خالد احمد کی سگریٹ بھی۔ اسی ملاقات میں برادرم خالد احمد نے حقی صاحب کی کسی رسالے میں شائع شدہ غزل بھی دکھائی، اس غزل کے حوالے سے بھی ایک الگ ہی کہانی ہے۔ ہوا یہ کہ میں ادب لطیف کے نام پر آنے والی ڈاک دیکھ رہا تھا۔ کسی کم معروف شاعر نے ایک غزل برائے اشاعت بھیجی تو میں نے اس میں ایک سے زائد جھول محسوس کیے اور رہنمائی کے لیے ہم محترم خالد احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کل، پرسوں ملیں گے تو بات کریں گے۔
دو روز بعد جب خالد احمد بھائی تشریف لائے تو آتے ہی فرمائش کی وہ غزل تو دکھائیں، ہم نے پیش کردی، برادر خالد احمد نے فرمایا یہ کسی نے حقی صاحب کی غزل کے مصرعوں کے الفاظ کو آگے پیچھے کر کے، حلیہ بگاڑ کر اپنے نام سے بھیج دی، ظفر معین بلے آپ ٹھیک ہی کہہ رہے تھے کہ یہ غزل ناقابل اشاعت ہے لیکن حقی صاحب کی جس غزل کا میں حوالہ دے رہا ہوں وہ ابھی ہفتہ بھر پہلے ہی میں نے پڑھی تھی، اس دن برادرم خالد احمد وہی مطبوعہ غزل کا دکھانے لائے تھے۔
جب یہ چیپٹر بھی کلوز ہو گیا تو برادرم خالد احمد گویا ہوئے، ہم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ گزشتہ روز شان الحق حقی صاحب کا فون آیا اور مجھ سے کہا ظفر میاں ہم نے آپ کو جو تخلیقات ارسال کی ہیں ان میں سے ایک صفحہ ایسا بھی ہے کہ جس کے داہنے ہاتھ پر کراس کا نشان ہے وہ غزل نامکمل ہے لہذا فی الحال اس کی اشاعت مؤخر فرما دیجے، برادرم خالد احمد نے فرمایا کہ میں سمجھ گیا حقی صاحب نے ظفر معین بلے سمجھ کر مجھ سے بات کی ہے، اس کے بعد برادرم خالد احمد نے حقی صاحب کی مشہور زمانہ نظم کا اختتامی مصرعہ ہائے بچارے بھائی بھلکڑ عطا فرمایا اور اسی کے ساتھ ہی احباب رخصت ہو گئے اور یہ حسین مجلس تمام ہوئی۔
دوران تحقیق ڈاکٹر عرفان شاہ نے ہم سے ہم سے پوچھا کہ بتائیے آپ کو والد گرامی سید فخرسلدین بلے اور آنس معین کے حوالے سے کسی مواد کی تلاش ہو تو میں تلاش کر کے آپ کو فراہم کردوں۔ ہم نے ڈاکٹر عرفان شاہ سے گزارش کی تھی کہ قبلہ سید فخرالدین بلے کے ایک نایاب اور شاندار مقالے قرآن اور علم الابدان کی تلاش ہے۔ یہ مقالہ ہفت روزہ چٹان لاہور میں غالباً 1979، 1980 یا 1981 میں قسط وار شائع ہوا تھا۔ ہم آج تک منتظر ہیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب کبھی بھی انہیں دستیاب ہوا وہ ہمیں یہ مقالہ ضرور فراہم کریں گے۔
ڈاکٹر عرفان شاہ نے تو آئندہ جناب محمد شان الحق حقی دہلوی علیگ پر ہونے والے کام کی راہیں بھی متعین فرما دی ہیں۔ نابغۂ لسان و ادب محمد شان الحق حقی دہلوی مقالے کے ابواب کے عنوانات بالترتیب اس طرح سے ہیں۔ ( 1 ) سوانح و شخصیت ( 2 ) شاعری ( 3 ) ادبی صحافت ( 4 ) نثری خدمات ( 5 ) تراجم ( 6 ) تنقیدی خدمات ( 7 ) لغت نگاری ( 8 ) سوانح نگاری
پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ نے محمد شان الحق حقی دہلوی فن، شخصیت اور خدمات کو مندرجہ بالا عنوانات کے تحت انتہائی دانشمندی سے سمیٹا ہے۔ لیکن جب ہم مقالے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ابواب کے ان عنوانات کے تحت ذیلی عنوانات میں محمد شان الحق حقی دہلوی کی شخصیت، فن اور خدمات کی داستان کا انتہائی محنت سے مفصل تجزیہ کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار کی علمی بصیرت اور فراست قاری پر بہت حد تک آشکار ہوتی ہے لیکن محمد شان الحق حقی دہلوی پر آئندہ جب کبھی بھی کوئی تحقیق کا بیڑا اٹھائے گا تو وہ ڈاکٹر عرفان شاہ کے طے اور قائم کردہ خطوط، روش اور منفرد انداز طرز پر محض توجہ دینے پر ہی نہیں بلکہ معیار کو برقرار رکھنے پر بھی مجبور ہو گا اور یہ بہت دشوار گزار ہو گا۔



