تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن


”ہمیں خوراک کی ضرورت ہے نہ کہ تمباکو کی۔“ یہ اس سال کا مقصد ہے جو عالمی ادارہ صحت نے تمباکو نوشی کے خلاف عالمی مہم کے لیے تجویز کیا ہے تاکہ متبادل فصلوں کی کاشت اور مارکیٹنگ کے لیے تمباکو کے کا شکاروں میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ دنیا میں اس وقت خوراک کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔ خوراک کے اس بحران کی دیگر وجوہات کے علاوہ زمین کے ایک بڑے حصے پر غذائی اجناس اگانے کی بجائے تمباکو کی کاشت کرنا ہے۔ ہر سال تقریباً ستاسی لاکھ ایکڑ اراضی دنیا میں تمباکو کی کاشت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی کاشت ہر سال پانچ لاکھ ایکڑ جنگلات کی کٹائی کا بھی سبب ہے۔ تمباکو کی کاشت میں بہت زیادہ کھاد اور کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے مٹی کی زرخیزی بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے۔

تمباکو سے نقد فصل کے طور پر حاصل ہونے والا کوئی بھی منافع خوراک کی پیداوار کو پہنچنے والے نقصان کو پورا نہیں کر سکتا اس لیے تمباکو کی افزائش کو کم کرنے اور کاشتکاروں کو متبادل خوراک کی فصلوں کی پیداوار میں آگے بڑھنے میں مدد کرنے کے لیے قانونی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تمباکو کے کاشتکاروں کو کھانے کی فصلوں کی کاشت کی طرف منتقل کرنے کے لیے مارکیٹ کے حالات کو ان کے لیے بہتر بنائے تاکہ ان کے خاندانوں کو ایک بہتر زندگی کے لیے متبادل معاش کے مواقعے مل سکیں۔

تمباکو کی کاشت سب سے پہلے امریکہ کے مقامی باشندوں نے کی اور پھر پندرہویں صدی میں کولمبس کے ذریعے یہ یورپ میں متعارف ہوئی۔ اس طرح اٹھارہویں صدی کے آخر میں تمباکو سگریٹ کے پیکٹ اور سگار کی صورت میں عام ہونے لگا۔ تمباکو کی مصنوعات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ؛ دھوئیں کے ساتھ جیسے سگریٹ، حقہ، سگار اور دھوئیں کے بغیر جیسے پان اور گٹکا۔ پان اور گٹکا برصغیر میں بہت زیادہ استعمال کرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں کیونکہ یہ ثقافتی لحاظ سے یہاں قابل قبول ہے۔

دنیا کی تقریباً 23 فیصد آبادی تمباکو نوشی کرتی ہے۔ تمباکو نوشی کا براہ راست تعلق صحت کے سنگین مسائل سے ہے جو نہ صرف سگریٹ پینے والوں بلکہ سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے والے دوسرے افراد کے لیے بھی ہے۔ باقاعدہ سگریٹ پینے والے لوگ نکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے تمباکو نوشی چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں میں کسی بھی وجہ سے موت کی شرح تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کی نسبت تقریباً تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔

مختلف تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والے اوسطاً کم از کم 10 سال متوقع عمر کھو دیتے ہیں۔ تمباکو نوشی جہاں کئی مہلک امراض کا سبب ہے وہیں انسان کی تولیدی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اس سے مردوں کا مادہ منویہ پتلا ہوتا ہے اور سپرمز کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جب کہ خواتین کی ماہواری میں خلل اور بیضوں کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح سے حاملہ خاتون کی تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے کا وزن اور صحت متاثر ہو سکتے ہیں۔

سگریٹ نوشی کا آغاز بالعموم نوعمری میں ہوتا ہے۔ تقریباً 90 فیصد تمباکو نوشی کے عادی افراد اپنی نوعمری میں تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ ہمارا ماحول اور ذرائع ابلاغ جس طرح تمباکو کی مصنوعات کے استعمال کو معمول کی سرگرمی کے طور پر دکھاتے ہیں اس سے نوجوانوں میں ان مصنوعات کو آزمانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ وہ نوجوان جن کے والدین اور ہم عمر تمباکو کی مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں ان میں تمباکو نوشی کے رجحان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

نوجوانوں میں تمباکو نوشی، ڈپریشن، پریشانی اور تناؤ کے درمیان بڑا گہرا تعلق ہے۔ جب نوجوان تمباکو نوشی سے مثبت چیزوں کی توقع رکھتے ہیں جیسا کہ تناؤ سے بہتر طریقے سے نمٹنا یا وزن کم کرنا، تو ان میں تمباکو نوشی کے عادی ہونے کا زیادہ امکان ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ والدین کی عدم دلچسپی یا عدم تعاون، ناقص تعلیمی کارکردگی، احساس کمتری اور ہم عمروں کے دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکنے جیسے عوامل بھی تمباکو نوشی کی عادت پختہ ہونے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے شواہد موجود ہیں کہ نوجوان بالغوں کی نسبت جلد نکوٹین کے عادی ہو جاتے ہیں اور اس سے چھٹکارا پانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ ان کا دماغ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے۔

تمباکو کی صنعت براہ راست نوجوانوں کو ہدف بنا کر اس کی تشہیر کرتی ہے اور اس طرح تمباکو نوشی کو ایک قابل قبول بلکہ گلیمرس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ الیکٹرانک سگریٹ، شیشہ اور تمباکو کی مصنوعات میں نت نئے ذائقے نوجوانوں کو زیادہ پر کشش لگتے ہیں۔ وہ نوعمر جو الیکٹرانک سگریٹ، شیشہ یا ذائقے دار حقہ پینا شروع کرتے ہیں وہ جلد یا بدیر تمباکو نوشی کے عادی ہو جاتے ہیں۔

تمباکو کی وبا ختم کرنے کے لیے نوجوان نسل کو تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے روکنا بہت ضروری ہے۔ موجودہ حکومت کا سگریٹ پر زیادہ ٹیکس لگا کر قیمتوں کو بڑھانا ایک احسن کام ہے۔ تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی دیگر مصنوعات کو بھی کنٹرول کرے اور ان کی روک تھام کا ذکر اپنی پالیسیوں میں نمایاں طور پر کرے۔ بچوں اور نو عمروں کو ہر قسم کی تمباکو مصنوعات فروخت نہ کرنے کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور عوامی جگہوں، بس سٹاپس، کھیل کے میدانوں، تعلیمی اداروں اور حکومتی اداروں میں تمباکو نوشی کے قانون پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔

۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS