جیل، معافی نامے اور کامریڈ فتح محمد کی جدوجہد
گزشتہ ہفتے ایک طرف تو ملکی سماج کو بدلنے اور ملک میں تبدیلی لانے کے دعوے دار سیاسی راہنما دو چار روز کی جیل یاترا کے ساتھ ہی معافی ناموں پر دستخط کر کے جوق در جوق رہائی پا رہے تھے، اور تبدیلی سرکار، یعنی عمران خان کی تحریک انصاف سے علیحدگی کے اعلانات کر رہے تھے، تو دوسری طرف اسی ہفتے، 25 مئی کو ہمارے ہی دیش کے ایک ہونہار انقلابی اور پاکستان کی کسان تحریک کے سالار کامریڈ چوہدری فتح محمد کی تیسری برسی منائی جا رہی تھی، جو ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے سماجی انقلاب برپا کر کے انصاف اور برابری پر مبنی، استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے 18 برس کے لگ بھگ جیل کی کالی کوٹھریوں، نظر بندیوں اور انگریز دور کے بدنام زمانہ شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت خانوں میں ریاستی تشدد کا نشانہ بنتے اور اپنی نظریاتی وابستگی کی قیمت ادا کرتے رہے۔ اپنی 72 سالہ سیاسی جدوجہد میں نہ تو ان کے چہرے پر کبھی مایوسی نظر آئی اور نہ ہی امید کا دامن چھوٹا۔
کامریڈ فتح محمد نے بی اے کیا تو فاشزم کے خلاف فوج میں بھرتی ہو کر برطانیہ جا پہنچے۔ جنگ ختم ہوئی تو وطن واپس آ کر اپنے گاؤں میں لائبریری قائم کر لی اور دوسروں کی تعلیم و تربیت کو اپنا مشن بنا لیا۔ انہی دنوں تحریک آزادی زور پکڑ گئی اور قابض برطانوی سرکار نے مذہبی منافرت کو ہوا دے کر ملک کو قتل و غارت کی طرف دھکیل دیا۔ بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا اور مذہبی جنونی سکھوں کے گروہ نے ان کے والد چوہدری امیر دین کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ برصغیر کا بٹوارہ ہوا اور کامریڈ اپنے والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کو لے کر جالندھر کو خیرباد کہتے ہوئے ہفتوں کی پیدل مسافت کے بعد والٹن لاہور پہنچ گئے، اور وہاں سے چلے تو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب چک 305 گ ب میں مستقل طور پر آباد ہو گئے۔
یہ اگست 1947 ء کی بات ہے اور ہندوستان سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کو بے پناہ تکالیف سے گزرنا پڑتا تھا۔ کامریڈ فتح محمد نے خود آباد ہوتے ہی اپنے آپ کو ہندوستان سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کی آبادکاری میں مدد کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے چند ہفتوں میں ہی مقامی سماجی کارکنوں سے رابطے کیے اور مہاجرین کی آبادکاری میں مدد کے لیے تنظیم بنا ڈالی اور اس کو وسعت دیتے ہوئے اس کی لائلپور ضلعی کمیٹی کے کنوینر منتخب ہو گئے۔
1948 ء کے آغاز میں ہی ان کی قریبی گاؤں کے نامور سماجی راہنما ڈاکٹر محمد عبداللہ سے دوستی ہو گئی اور انہوں نے پاکستان کسان کمیٹی میں شمولیت اختیار کر کے اس کے کل وقتی کارکن کے طور پر کام شروع کر دیا۔ انہوں نے اس لگن اور جذبے سے کسانوں میں کام کیا کہ تین ماہ بعد ہی انہیں کمیونسٹ پارٹی کا ممبر بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ 1948ء کے اختتام پر لاہور میں پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی کانگریس منعقد ہوئی تو انہیں اس کی مرکزی کمیٹی کا رکن منتخب کر لیا گیا۔ وہیں ان کی ملاقات نامور مزدور راہنما مرزا محمد ابراہیم، سردار شوکت علی، پروفیسر ایرک سپرین، سید مطلبی فرید آبادی، سی آر اسلم، حمید اختر اور فیض احمد فیض سے ہوئی، جو جلد ہی ان سے دوستی میں بدل گئی۔
پاکستان بنے ابھی ڈیڑھ برس ہی گزرا تھا کہ 1949 ء میں ان کے پہلے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے۔ پہلے پارٹی فیصلے کے مطابق دوسرے شہروں میں کسانوں کو منظم کرنے میں لگ گئے، اور پاکستان کے پہلے انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور صرف 26 ووٹوں سے انتخاب ہار گئے۔ اس زمانہ میں حلقہ انتخاب پورا ضلع ہوتا تھا اس لیے ان کی روپوشی کی وجہ سے نامور ترقی پسند دانشور سردار مظہر علی خان اور پروفیسر صفدر میر ان کی الیکشن مہم پارٹی کے فیصل آباد آفس سے منظم کرتے رہے۔
بعد ازاں پارٹی راہنماؤں کے مشورے سے گرفتاری دے دی۔ 10 ماہ بعد رہائی ملی تو دوبارہ کسانوں کو کسان کمیٹیوں میں منظم کرنے، گاؤں گاؤں کسانوں کے جلسے منعقد کرنے میں سرگرم ہو گئے۔ کسانوں کے ان جلسوں میں لاہور اور دیگر شہروں سے انجمن ترقی پسند مصنفین کے راہنما اور دیگر ترقی پسند کارکن بھی آتے اور تقاریر کرتے تھے، کیوں کہ کمیونسٹ پارٹی ہر ممبر کو طبقاتی تنظیموں میں کام کی ذمہ داریاں دیا کرتی تھی۔ ملک میں صنعت تو تھی نہیں اس لیے کسانوں کو منظم کرنے اور ایک ملک گیر کسان اور مزدور تحریک پیدا کرنا ہی انقلابیوں کا نصب العین تھا۔
بعد ازاں 1951 ء میں راولپنڈی سازش کیس بنا اور 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی، پاکستان کسان کمیٹی، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن، انجمن ترقی پسند مصنفین اور دیگر تنظیموں پر پابندی لگا کر انہیں خلاف قانون قرار دے دیا گیا تو کامریڈ فتح محمد کو ایک با پھر گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں پیچھے ڈال دیا گیا۔ 1957ء میں ڈھاکہ میں نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو وہ وہاں بھی کنونشن کے ڈیلیگیٹ کے طور پر موجود تھے اور کچھ ہی عرصہ میں مولانا عبدالحمید خان بھاشانی کی قریبی دوستوں میں شمار ہونے لگے اور بعد ازاں جب بھی سنتوش نگر میں کسان کانفرنس منعقد ہوتی تو وہ مشرقی پاکستان میں موجود کسان راہنماؤں کے شانہ بشانہ ہوتے۔
ایوب کا مارشل لاء لگا اور اس کے خلاف تحریک چلی تو انہیں لمبے عرصہ کے لیے جیل یاترا پر بھیج دیا گیا۔ پہلے انہیں فیصل آباد جیل رکھا گیا، اور پھر شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت خانہ منتقل کر دیا گیا۔ جب کامریڈ حسن ناصر کو شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت خانوں میں تشدد کر کے شہید کر گیا تو کامریڈ فتح محمد بھی انہی عقوبت خانوں میں اپنی نظریاتی وابستگی کی قیمت ادا کر رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کر دیا گیا اور وہ فیض احمد فیض کے جیل فیلو رہے۔
تقریباً ایک سال دو ماہ بعد انہیں وہاں رکھنے کے بعد سوا دو سال کے عرصہ تک ان کے گھر پر نظر بند کر دیا گیا اور ان کے گاؤں کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔ جب انہوں نے کامریڈ سی آر اسلم کے ساتھ مل کر ملک بھر میں کسان کانفرنسیں منعقد کرنے کے بعد 1970 کی تاریخی کسان کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد کی تو کامریڈ فتح محمد اور مشرقی پاکستان سے نیشنل عوامی پارٹی کے راہنما مسیح الرحمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں مسٹر بھٹو نے جمہوریت نوازوں، جاگیر داروں، قبائلی سرداروں اور کچھ ترقی پسندوں کو ملا کر پیپلز پارٹی بنائی اور اقتدار حاصل کیا تو اس نام نہاد عوامی دور میں بھی انہیں نا بخشا گیا اور 6 ماہ کے لیے تقض امن عامہ کی آڑ میں جیل بھیج دیا۔
ایسا ہی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں ہوا اور انہیں پہلے 3 ماہ کے لیے فیصل آباد جیل اور پھر 3 ماہ جہلم جیل میں قید رکھا۔ پھر نواز شریف دور میں اور پرویز مشرف دور میں بھی جیل یاترا لازمی قرار پائی۔ اس طرح کامریڈ چوہدری فتح محمد کو قیام پاکستان سے لے کر 2009 ء تک ماسوائے بے نظیر بھٹو کے دور کے، ملک کی ہر حکومت نے اذیت خانوں میں ڈالا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لیکن وہ ہر دفعہ باہر آ کر ایک نئے جذبے کے ساتھ انقلابی تحریکوں میں جت جاتے۔
آج ہم دیکھیں کہ تحریک انصاف کی قیادت کے ملک میں تبدیلی لانے کے تمام تر دعوؤں کے باوجود ان کا دور فوجی حکمرانوں کی طرح جابرانہ ہی تھا، جس میں ہر مخالف پر مقدمات بنانے اور انہیں اٹھوا کر غائب کرنے جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے، اور اس عمل میں صحافیوں کا اغوا اور ان پر تشدد بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔
پاکستان میں بائیں بازو کے ایسے بے شمار کارکن و راہنما ہیں جو ایسے ہی زندگی بھر ریاستی تشدد اور بربریت کا شکار بنتے رہے لیکن ان کی سوج اور سیاسی جدوجہد میں کبھی لغزش نہ آئی۔ ہماری دھرتی کے انہی ہونہار سپوتوں نے آج تک ملک کے پسے ہوئے طبقات، کسانوں، مزدوروں اور استحصال کا شکار عوام میں امید کی کرن کو اجاگر رکھا ہے۔ انہیں کوئی جتنا بھی ناکام سمجھتا رہے لیکن یہ حقیقت عیاں ہے کہ انہی کی جدوجہد سے چند نکات چوری کر کے اشرفیہ اور جاگیرداروں کی نمائندہ پیپلز پارٹی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر وجود میں آئی اور راج کرتی راہی اور ایسے ہی نعروں کی بنیاد پر تحریک انصاف بنی اور راج کیا۔
یہ جب بھی اقتدار میں ہوتے ہیں تو اشرافیہ اور جاگیرداروں کے نمائندہ اور اسٹیبلشمنٹ کے دم چھلا بنے رہتے ہیں اور جب اقتدار کھو بیٹھتے ہیں تو انہیں عوام، بالخصوص مزدور کسان یاد آ جاتے ہیں۔ مسلم لیگ کے تو کیا کہنے، وہ تو روز اول سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہے، اور اس کا کردار ہمیشہ جمہوریت کی نفی کرتا رہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ جماعتیں اشرافیہ کی نمائندہ رہی ہیں اور اقتدار کے دوران اشرافیہ، جاگیردار اور قبائلی سردار ہی ان کے راہنما اور فیصلہ ساز رہے ہیں۔
لوٹ مار، کرپشن، ذاتی مفادات اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سازباز کے بغیر نہ تو یہ زندہ رہ سکتی ہیں اور نہ ہی اقتدار حاصل کر سکتی ہیں۔ ان کے راہنما اب دو دن کی جیل برداشت نہیں کر پاتے اور معافی نامہ دے کے اپنی پارٹیوں سے علیحدگی یا پھر سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم جیلوں میں تشدد کیا ہوتا ہے، جب ٹانگوں پر لکڑی کے رولر چلتے ہیں، ہاتھ پاؤں کے ناخن تک نوچ لیے جاتے ہیں اور ہفتوں تک سونے نہیں دیا جاتا۔
انقلابی شاعر حبیب جالب ایک دفعہ جیل میں تھے تو ان کی بیگم ملاقات کے لیے جیل گئیں اور جالب صاحب سے خانگی پریشانیوں کا ذکر کرنے لگیں۔ حبیب جالب نے اس ملاقات کے بارے میں ایک نظم لکھی، جس کے اشعار کچھ اس طرح تھے :
جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی
اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی
گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی۔


