سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کتنی پرانی


ان دنوں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کسی سیاسی رہنما کی پریس کانفرنس کی خبر سامنے آنے پر یہی گمان کیا جانے لگا ہے کہ وہ پارٹی سے راہیں جدا کرنے والا ہے۔ ایسا پی ٹی آئی کے صرف وہ رہنما نہیں کر رہے، جو ماضی میں دوسری سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے ہیں بلکہ تحریک انصاف کے کٹر حامی سمجھے جانے والے رہنما بھی سیاست میں دوبارہ قدم نہ رکھنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں، اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں کی وفاداری تبدیل کرنے پر جہاں مسلم لیگ نون کے حلقوں میں شادیانے بج رہے ہیں، ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا ہے، قیام پاکستان کے بعد خود ملک بنانے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ کو تقسیم کا سامنا کرنا پڑا، وہیں اگر ماضی پر نظر ڈالیں تو 1997 میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون میں بھی شدید اختلافات پیدا ہوئے، جو جماعت کے اندر ایک اور پارٹی بنانے کی وجہ بنے پاکستان مسلم لیگ ق یا ق لیگ کا قیام 2001 میں اس وقت عمل میں آیا جب وقت مسلم لیگ بہت سے دھڑوں میں بٹ چکی تھی، جن میں سے ق لیگ کو سب سے کم عوامی حمایت حاصل تھی۔ یہی ق لیگ 2002 کے عام انتخابات کے بعد مشرف حکومت کا اہم ترین حصہ بنی مگر اس کے باوجود آج تک مسلم لیگ نون قائد کی عوامی حمایت پر سبقت نہیں لے سکی۔ اگر دباؤ کے تحت سیاسی پارٹی چھوڑنے کی نمایاں مثال دی جائے تو 1977 کے مارشل لا کے بعد پیپلز پارٹی کو اس کا سامنا کرنا پڑا جب مارشل لا کے بعد مصطفیٰ کھر، ممتاز بھٹو، حفیظ پیرزادہ ملک سے باہر چلے گئے اور کوثر نیازی اور کمال اظفر نے بھی پارٹی سے راہیں جدا کر لیں، 1983 میں جتوئی صاحب نے بھی پیپلز پارٹی چھوڑ دی مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی کو نا ختم کیا جا سکا نا ہی اس کی عوامی حمایت کم ہوئی بلکہ اس کے بعد بھی پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، حالیہ تاریخ میں 1990 کی دہائی میں ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے آپریشن اور 2013 کے بعد سیاسی پارٹیوں میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

اس وقت جو صورت حال پی ٹی آئی کو درپیش ہے اس کا حالیہ تاریخ میں ایم کیو ایم کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے، جب 22 اگست 2016 کو الطاف حسین نے ریاست کو چیلنج کیا تو اس کے بعد وہی لوگ جو صبح تک ان کے ساتھ تھے شام کے بعد اپنی پارٹی کے قائد سے لاتعلقی کا اظہار کرنے لگے۔ گزشتہ برسوں میں ایم کیو ایم کے کئی دھڑے سامنے آئے مگر اب بھی بانی ایم کیو ایم کے بغیر ایم کیو ایم کا کوئی دھڑا بھی ویسی عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکا جیسی بانی ایم کیو ایم کی سرپرستی میں حاصل تھی۔

9 مئی کے واقعات سے عمران خان لاتعلقی کا اظہار کرچکے ہیں مگر اس کے باوجود اب تک درجنوں پی ٹی آئی رہنما اپنی جماعت سے الگ ہوچکے ہیں، جو کہ اس بات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں، 21 مئی کو ملتان میں پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے رہنما راؤ یاسر نے بھی اپنے 50 ساتھیوں کے ہمراہ پارٹی سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پی ٹی آئی حقیقی کے قیام کا اعلان کیا۔ دوسری جانب جہانگیر ترین کی بھی علیم خان سے ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد سے نئی سیاسی پارٹی بنانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں ذرائع کے مطابق تحریک انصاف چھوڑنے والے بہت سے رہنما جہانگیر ترین سے رابطے میں ہیں جو آئندہ چند دن میں ان کے گروپ میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس سے عمران خان کے ووٹ بینک کو کمزور کیا جا سکے گا؟ کیا عمران خان کی عوامی حمایت کم ہو جائے گی؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو جس صورت حال کا سامنا ہے بعض اعتبار سے وہ ماضی سے مختلف تو ہو سکتی ہے لیکن نئی نہیں ہے۔ مگر اس کے نتائج کیا ہوں گے یہ تو اب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Facebook Comments HS