انسانیت اور تاریخ سے معافی مانگ لیں
ریاستوں تنظیموں، تحریکوں اور حکمرانوں کو اپنی تسلط پسندی اور خبط عظمت کی معافی مانگ لینی چاہیے، پورے خلوص اور احساس کے ساتھ، غیر مشروط معافی اگر مگر کے بغیر۔ اس میں کچھ وقت کی ملامت اور انا پہ انچ آنے کا خطرہ ہے۔ لیکن یہ سیکھنے کا وہ عمل ہے جو زندگی کے سفر کو نیا پیکر دیتا ہے۔ قوموں کو اٹھان ملتی ہے اور تحریکیں نئے عزم سے رواں ہوتی ہیں۔
معافی کا رویہ کم از کم اپنی ذات اور اپنے دائرہ عمل میں تو مخلصانہ ہو۔ ورنہ انسان اپنی غلطیوں کو ہی آئیڈیل بنا کر پوجتا ہے۔ پھر ماضی پرست اور روایت کی پوجا میں لگ جاتا ہے ماضی کی چند خوشگوار یادیں خبط عظمت عطا کرتی ہیں۔ کہیں عروج دیکھا ہے تو پھر سے خود کو اسی بادشاہت پر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ حال اور مستقبل تو بہت دور رہ جاتا ہے۔
ہاں یہ سوال ہے کہ معافی کس بات کی کس سے مانگنی چاہیے؟ معافی خود سے خدا سے اور قوم سے مانگتے ہیں۔ عالمی دنیا سے مانگتے پیں۔ جنھیں نقصان پہنچا ان سے مانگتے ہیں۔ امن رواداری اور بقائے باہمی کے خلاف کردار کی معافی مانگنا ہوگی۔ کب کہاں کیسے؟
یہ فیصلہ بھی بہت اہم ہے بے وقت اور بے موقع کی معافی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ ہم کہاں غلط ہیں۔ یہ بھی ایک سائنس ہے۔ لیکن ہمارے اعمال و کردار کے نتائج ایک وائٹ پیپر ہیں۔ آئینہ ہیں جن میں ہم خود کو دیکھتے ہیں۔ جب ہمارا کردار ہمارے فیصلے اور ہماری جدوجہد خود ہمارے اپنے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ تو ہمیں پھر سے اپنے ماضی کو دیکھنا ہو گا۔ اپنے فیصلوں پہ نظر ثانی کرنا ہوگی اور اپنے نظریے کے جھول کو جانچنا ہو گا۔
زندگی کا نصاب نوع انسانیت تک وسیع ہے۔ لیکن اس کی وسعت کا ہمیں کیوں احساس نہیں۔ عصری ضروریات کیا ہیں۔ ہم کیا چاہتے ہیں۔ کیا دنیا ہماری مرضی پر چلے گی۔ کیا ہم چلا سکتے ہیں؟ ہمیں ایسا کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ مذہب انسانیت کے لیے ہیں یا انسانیت مذہب کی غلام ہے۔
بہت پہلے جو سوال عالمگیر نہیں تھے
اب ایک بڑی انکوائری کا ٹول ہیں۔
اور ان سوالوں کا سامنا کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
انسان کو اپنے ماضی کے توہمات اور عزیز سمجھی گئی غلطیوں سے رجوع کرنا ہو گا۔ بہت ماضی میں نہ بھی جائیں تو گزشتہ ایک ہزار سال کی
نیشنل ازم اور مقدس قرار دی گئی سب جنگیں توسیع پسندی اور خبط عظمت شمار ہوتی ہیں۔ دنیا کو ٹیکنالوجی نے جس تیزی سے بدل دیا ہے۔ اس کے تناظر میں ماضی کی آئیڈیالوجی کے بڑے فیصلے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ تقاضا ہے کہ اپنے ماضی کی رجعتوں کو روشنی خیالی نہ سمجھا جائے۔ کمتر خیال اب برتر شمار ہونے لگے ہیں۔ روایتی خدا پرستوں کی ہیروشپ کا زمانہ گزر گیا اب انسان اور انساں شناسی کا زمانہ ہے ماضی کی روشنی بھول کر وہاں کے اندھیروں میں بھٹکنے والے اگر جان پائیں کہ فطرت نے چراغوں کے رخ کسی اور سمت کر دیے ہیں۔
دنیا میں اس وقت تین گروہ ہیں۔
صرف ماضی میں سانس لیتے۔
صرف حال میں جینے والے۔
ماضی اور حال کے درمیاں پھنسے ہوئے لوگ۔
تینوں طبقات کی فطرت شناسی اور انساں شناسی کا امتحان ہے۔
مثلث کے زاویوں کو الجھا دینے سے بہتر ہے کہ اعتدال کی پٹی پر چلنا سیکھا جائے۔ اور لغزشوں کو زندگی کا سبق شمار کیا جائے۔ عالمی سطح کے اس فکری بحران کو اگر ہم اسلامی سماج کے تناظر میں دیکھیں تو بھی ہمیں مان لینا ہو گا کہ دنیا کا امن خبط عظمت اور تسلط پسندی سے نجات میں ہے۔
مسلم ممالک کی قومی لیڈرشپ مذہبی اشرافیہ، اخوان اور جماعت اسلامی طرز کی جماعتوں کو اپنی تاریخی غلطیوں سے رجوع کرتے ہوئے، مذہب کو تسلط پسندی اور غلبے کے نظریات کے طور پر پیش کرنا، اپنی غلطی تسلیم کر لینا چاہیے۔ یہی غلطی اب انڈیا میں دہرائی جا رہی ہے۔ اور یہی رویہ یہودی تسلط پسندوں کا ہے۔ دنیا بھر میں دائیں بازو کی قوتیں روشن خیال دنیا کو بھی منتقم اور غلبے کی سفاک نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ مذہب کے اس تسلط پسند منشور کے ساتھ ریاستیں ہوں یا جماعتیں دنیا کے امن کے لیے اچھا شگون نہیں۔
یہ معافی نامہ جسے ہم اس خطے کے پس منظر میں ڈسکس کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں اسرائیل پر سب سے پہلے لاگو ہوتا ہے کہ وہ اپنے غلبے کے نظریات کی بے رحمی اور سفاکی کو تسلیم کرے۔ کیونکہ یہودی مذہب نے سب سے پہلے دنیا پہ غلبے کا عقیدہ کو نصاب بنایا ہے اور آج کی اسرائیل کی ریاست کا سلوگن بھی ہے۔
پاکستان اس فہرست میں ایک فعال اور متحرک ریاست رہی ہے۔ غلبہ اسلام کے نام پر ریاست کی خاموش حمایت سے دنیا بھر میں جنگی اور جہادی جموں پرموٹ کیا گیا۔ جس نے نعروں اور سلوگن کے ساتھ عالمی مقاصد میں جہادی منشور کی میزبانی کی۔ مان لینا چاہیے کہ لاشرقیہ لاغربیہ اور قرآن و سنت کی دعوت لے کر پوری دنیا پر چھا جانے کا منشور ایک سراب تھا۔ جسے عرب دنیا اور ایران میں اختیار کیا گیا۔ جس کے تعاقب میں پوری صدی برباد کر دی گئی۔ اس دوران اقوام سائنس فن اور شعور میں بہت آگے نکل گئیں۔ یہی وہ زمانہ تھا جس میں مسلمان ممالک میں آمریت کے بھیانک تجربے ہوئے۔ معاشرے تقسیم ہوئے اور خرد افروزی کی تحریکیں بھی شعور کو منقسم ہونے سے نہ بچا سکیں۔
لیڈر اپنی غلطیوں کو غیر اقوام کی سازشیں کہہ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے رہے۔ اور تاریخ کی جدلیات نے انھیں مائنس اور دوسروں کا محتاج کر چھوڑا۔
تاریخ اس کی شرح یوں کرے گی کہ ان اقوام کے شہ دماغ بونے تھے۔ وہ بدلتی ہوئی دنیا کا ادراک نہ کر سکے اور الٹا اپنے خلاف خود ہی ایک خوفناک تھیسس کھڑا کر دیا کہ ہنود یہود اور مغرب ہمارے خلاف ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے جنھیں آپ فتح کرنے کے منشورات کے ساتھ لاکھوں کے لشکر کو لیے موجود ہوں، عوام اور خواص کو غزوہ ہند اور پوری دنیا کے فتح کے سرکاری اور نصابی منشورات میں الجھا چکے ہوں۔ تو کیا وہ اقوام اور سوسائٹیاں آپ کے لیے قصائد لکھیں اور آپ کی غارت گری کے سہولت کار بن جائیں؟ حقیقت کی دنیا میں ایسا ممکن نہیں۔ وہ تمہارے نعروں اور منشورات کے زہر کا ڈنک تم پر ہی ضائع کرنے کا طریقہ جانتے ہیں۔
اور دنیا نے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا۔
اپنے لیے عدل مساوات اور رواداری کا مطالبہ اور تقاضا کرنے والے، اپنی اقوام کو تسلط پسندی اور جہادی بیانیہ کے ساتھ دنیا کے مقابل لے آئے۔ یہ کوئی ریاضیاتی فارمولا نہیں کہ دنیا نہ جان پاتی۔
یاد رہے بنیاد پرستی ہوا نہیں تھا۔ اس موضوع پر کروڑوں صفحات کا لٹریچر موجود ہے۔ جس کی روشنی میں کیمونٹی کی ذہنی سازی کی گئی۔ سرد جنگ کے دورانیے کو استعمال کیا گیا اور بین الاقوامی سطح پر خروج اور عروج کے مظاہرے کیے گئے۔ جہادی دہشت گرد اور سمگلر گروہوں کی مشترکہ مفادات کی ایک مثلث سی بن گئی۔ مغربی اقوام بروقت سٹڈی سے بچ گئیں اور ایشیائی شیزوفرینک سماج اس میں آج تک پھنسا ہوا ہے۔
برصغیر میں اس کا ادراک علماء میں عبیداللہ سندھی کے ہاں ملتا ہے جنہیں مذہبی اشرافیہ نے شودر بنا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد ان معاشروں میں رواداری اور انسانی حقوق کی بات اسلام دشمنی شمار ہونے لگی، عبیداللہ سندھی کے بعد اس حوالے سے بڑا کام وحید الدین خان صاحب کا ہے۔ انڈین معاشرے میں وہ بھی مذہبی منشور کے نشانے پر رہے۔
یاد رکھیں، دنیا کو پرامن اور باہمی بقا کے ماحول سے جوڑنے کے لیے ہمیں تاریخی مغالطوں اور آسیب کی طرح چمٹے ہوئے کچھ نعروں سے دستبرداری کا اعلان کرنا ہو گا۔ قومیں اور گروہ اپنے نعروں کو اپنی آئیڈیالوجی اور پھر کسی آسمانی بادشاہت سے منسلک کرتے ہیں۔ یوں کچھ مقدسات کا گھیرا اور دائرہ کھینچ کر اپنے ماننے والوں کو باقی دنیا کے خلاف کھڑا کرتے ہیں۔ یہ نعرے کبھی فتح کے سلوگن ہوتے تھے۔ اور ان کی تخریبی حیثیت کا عام آدمی کو کم احساس ہوتا تھا۔ لیکن سائبر دنیا میں اس کی گنجائش نہیں۔ اگر ہے تو آپ دوسرے بیانیے کی سزا جھیلیں گے۔ یوں سماج اور یہ گلوبل سماج باہمی جدل و جنگ میں گھرا رہے گا۔
پاکستانی لال قلعہ فتح کرنا چاہتے ہیں۔ ترک گرجا اور مسجد کا فرق مٹا دیتے ہیں۔ اور اخوان یورپ پر قبضہ اور ایرانی واشنگٹن فتح کرنے کا سلوگن اپنے شہریوں کو دیتے ہیں۔ تو یہی ٹول امریکی فرانسیسی چینی اور دیگر ممالک کے لوگ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اور سیاسی اور معاشی حوالے سے کر بھی رہے ہیں۔ لیکن ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ وہ طاقتور ریاستوں کے باوجود بین الاقوامی ضابطوں اور جمہوری تقاضوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اپنے ممالک میں شہری حقوق پامال نہیں کرتے اور ان کے پاس اپنی توسیع پسندی کو مذہب اور متھ بنا کر دنیا کو فتح کرنے کے سلوگن نہیں۔
یاد رکھیں بنیادی طور پر ہر مذہب، قوم اور گروہ کے پاس ایسی متھ وافر موجود ہے۔ جو ان کو برتر دوسروں کو کمتر اور دنیا کی فتح کا انھیں استحقاق دیتی ہے۔ آپ پاکستان میں بیٹھ کر جو فتح کا فوبیا پھیلاتے ہیں۔ چند منٹ میں یہ پیغام کسی عیسائی یہودی اور ہندو تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ آنکھیں کان بند کر کے جو کھیل کھیلتے ہیں دوسرے آنکھیں کھلی رکھ کر وہی کھیل کسی اور انداز سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔
جدید زمانے اور ٹیکنالوجی نے ہمیں ایکسپوز کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہمارے راز اب دوسروں کی جیب میں ہیں۔ رواداری کا نعرہ اب ڈرائینگ روم اور اپنی تنہائیوں میں بھی بلند کرنا ہو گا۔ ورنہ آپ کے قول فعل کا تضاد آپ کے خلاف ایک ہتھیار ہو گا۔
ریاستوں اور تنظیموں کی اس انسان دشمنی پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ ریاستوں کی بدمعاشی کے خلاف ایک توانا آواز نوم چومسکی نے بلند کی۔ ارون دھتی رائے ایک اور صاحب عزیمت لکھاری ہیں۔ جنھوں نے دنیا کے امن اور ریاستوں کی بدمعاشی کی بات کی۔
المیہ ہے کہ بنارس کے ہندو کو اس کے گورو نہیں بتاتے کہ تمہارے دھرتی کو مخصوص انسانوں سے پاک کرنے والے نعرے سب سے پہلے ان تک پہنچتے ہیں۔ جن کے سینے کے لیے ہندو خنجر تیار رکھتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے سادہ لوح مسلمان کو کون بتائے کہ دلی اور واشنگٹن پر قبضہ کرنے والے ان کے مقروض ہیں۔ اور غافل بھی نہیں، اور اپنے نعروں کی قیمت ہمارے لہو سے چکاتے ہیں۔
نیتاؤں کی منافقت حرص لالچ اور ناعاقبت اندیشی قوموں کی بڑی دشمن ہے۔ مذہبی رہنماؤں کی توہم پرستی اور خبط، مذہب کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
انسانوں کے شعور کو کرپٹ کرنے والوں کو نوع انسان کی مشترکہ اقدار کا احیاء کرنا ہو گا۔ نہیں تو ان کی توہم پرستی اور نفسیاتی پراگندگی دنیا کے کسی کام کی نہیں۔ عام آدمی کو یہ بتانا ہے کہ مذہب خطرے میں نہیں ہوتا۔ مذہبی رہنماؤں کا بزنس خطرے میں ہوتا ہے۔ قومیں خطرے میں نہیں ہوتیں قوموں کے نالائق رہنما خطرے میں ہوتے ہیں۔ انسانیت خطرے میں تب ہے جب انسانیت کو ہانکنے والوں کی لالچ اور عیش کو خطرہ ہے۔
یوں خود کو بچانے اور اپنے اقتدار اور دولت کو بچانے کے لیے نوع انسان اور دیگر فطری انواع کی بقا کو خطرے میں ڈالنا خدا انسان اور انسانی شعور کی نفی ہے۔
جدید علم اور ٹیکنالوجی لیڈروں کے باوجود لوگ توہم پرست اور عوام ایک بے ہنگم ہجوم بن رہے ہیں۔ اس کی وجہ موجود ہے۔ نفسیاتی معالج ان انسانی امراض کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے لیڈروں کی نفسیات سب سے زیادہ منفی لہروں کی زد میں ہے۔ اس صدی میں اس حوالے سے کم تر شعور کا مظاہرہ انسانی دنیا کے لیے کسی بڑے حادثہ کا باعث بن سکتا ہے۔
تاریخی مغالطوں سے نکلنا اور دنیا کے لیے خونی جذبات کے منشورات اور ظالمانہ فیصلوں کی معافی مانگ لینا ہی اس کا حل ہے اور علاج بھی۔
کسی مذہب کسی قوم کے لیے شرمندگی یا خطرے کی بات نہیں کہ وہ اپنے مغالطوں کی تصحیح کرے اور اپنے غلط فیصلوں کی معافی مانگ کر اپنے منشور کو انسانی شعور اور عالمی بقا کے عین مطابق تشکیل دے۔
اگر امریکہ جاپان افغانستان اور عراق پر حملے پر ان اقوام سے معافی مانگ لے۔ واشنگٹن اور دلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے والے اور ان کے سرپرست اپنے اس اقوام دشمن منشور سے رجوع کر لیں۔ لاشرقیہ لاغربیہ کے نعروں کے مضمرات سے عالم عرب کے انقلابی رجوع کر لیں تو ترقی اور امن کے لیے آرزوئیں بار آور اور دنیا زیادہ حسین ہو جائے گی۔
یاد رہے قومیں اور جماعتیں ہٹ دھرمی اور ضد کے نتیجے میں تباہ ہوتی ہیں۔ دنیا کا امن خبط عظمت اور تسلط پسندی سے نجات میں ہے۔ یہ امراض مغربی اقوام اور مشرقی مذاہب کا مزمن عارضہ ہیں۔ اور اپنے جرائم پر معافی مانگنا قوموں کے اعتبار میں اضافہ ہے۔ انسانی شعور کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ ان جارح اقوام اور مذاہب کو جنگوں سے پرامن بقائے باہمی کی طرف آنا ہو گا۔ جن کی شدت پسندی اور جنگی نفسیات کی وجہ سے دنیا کا امن تباہ ہوا یا اب خطرے میں ہے۔ جنگی جنوں شعور کا دشمن ہے جس نے دنیا کو المیے اور تنزل کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ جنگ اور تاریخ کا ساتھ بھیانک یاد کے علاوہ کچھ نہیں۔ یاد رہے بقائے باہمی کا اصول عالمگیر ہے۔ کائنات کو انسانیت کا مشترکہ ورثہ تسلیم کرنا ہی زندگی کی غایت اور بقا کا ضامن ہے۔


