سیاست چھوڑ دی میں نے


آج کل سیاسی ٹمپریچر اپنے عروج پر ہے اور لوگ خوف اور ذاتی مفادات کی خاطر سیاست اور پارٹیاں چھوڑ رہے ہیں۔ نو مئی 2023 بھی پاکستان کی تاریخ پر ایک سیاہ باب کی طرح یاد رکھا جائے گا لیکن یہ نو مئی ہی ایک دن تو نہیں جس دن پاکستان میں کچھ ایسا ہوا جس پر اہل ضمیر کو شرمندگی ہوئی ہو، یہ سلسلہ ء شرمندگی با ضمیر بندگی اس دن سے شروع ہو گیا تھا جس دن پیٹرول ختم ہونے کی وجہ سے محسن پاکستان، قائداعظم کی ایمبولینس ہسپتال نہیں پہنچ سکی، جس دن جوگندر ناتھ منڈل کو استعفیٰ دے کر پاکستان کو خیر آباد کہنا پڑا۔

جس دن بیوروکریسی نے ملک پر غیر علانیہ قبضہ کر لیا تھا، جس دن پہلا مارشل لاء لگا، جس دن ملک میں جمہوری امنگوں پر پہلا شب خون مار گیا تھا، جس دن لیاقت علی خان کو قتل کر دیا گیا تھا، جس دن مادر ملت کو غلیظ الزامات لگائے گئے تھے، جس دن ملک دو لخت ہو گیا تھا، جس دن ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تھی، جس دن ملک میں امریکی اسلامی انقلاب کا اعلان کیا گیا تھا، جس دن اپنے وطن کے بچوں کو بیگانی جنگ میں جہاد کا نام لے کر جھونک دیا تھا، جس دن بی بی شہید بے نظیر بھٹو کو سربازار گولی مار دی گئی تھی، جس دن جمہوریت کو لپیٹ کر عوام کے نتھنوں میں گھسا دیا گیا تھا، جس دن گوجرہ میں اقلیتوں کی بستیوں کو اللہ اکبر کے نعروں سے جلا دیا گیا تھا، جس تین ماہ کی حاملہ عورت شمع اور شہزاد کو ثواب کی خاطر زندہ جلا دیا تھا۔ پاکستان کی تاریخ سیاست میں ابواب کو گننا چاہیں تو یہ کالم چھوٹا پڑ جائے گئی۔ ہماری تاریخ کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ نہیں کیے گئی۔ پس یہ صرف ایک سیاہ باب نہیں بلکہ پوری تاریخ ہی سیاہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہم میں سچ سننے اور سچ پڑھنے کی ہمت نہیں رہی۔

اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا ہمارے ملک کے سیاسی کردار ہمیشہ نئے سٹیج اور سکرپٹ کے منتظر رہے ہیں وہ چاہے نو ستارے ہوں، یا پھر مشرف کی سائیکل لیگ اور موجودہ ممکنہ ترین لیگ جس میں وہ سب لوگ آئیں گے جنہیں جان سے زیادہ مفادات عزیز ہیں۔ عروج کا ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ یہ غربت کی طرح انسان کی مت مار دیتا ہے اور ہمارے ہینڈسم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ پہلے ان کرداروں نے سانپ اور سیڑھی والی گیم کھلوائی اور پھر جب وہ سانپ کے منہ میں آ گیا تو خود ایک ایک کر کے سیڑھی سے اترنے لگ گئے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ انہیں ابھی اپنی کشتی بدل لینی چاہیے۔

کہتے ہیں نشہ دولت کا ہو چاہے طاقت کا انسان کو فرعون بنا کے ہی چھوڑتا ہے اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاؤں زمین پر ہوں تاکہ آپ خوشامد کے ہاتھوں یرغمال نہ بن جائیں۔ یہ سیاسی ٹولہ جو مختلف سیاسی جماعتوں سے ہوتا ہوا پی ٹی آئی میں آیا تھا اور کھایا پیا موج کی اب اگلی جماعت۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ انہیں اب عمران خان سمیت پی ٹی آئی میں خامیاں نظر آنی شروع ہو گئیں۔ یہ انہیں ماضی میں پی پی پی یا پھر نون لیگ میں نظر آئیں تھی۔ نہ کردار نئے ہیں نہ سکرپٹ نیا بس سٹیج بدل گیا ہے۔

حالات نازک نہیں بلکہ حالات کبھی نارمل ہوئے ہی نہیں۔ طاقت چاہے مقتدر حلقوں سے آئے چاہیے نام نہاد جمہوریت سے ووٹ دینے والوں کو آج تک سکھ نہیں ملا۔ ہمارے سیاسی حلقے ہمارے ملک کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں جس میں کمزور کی نمائندگی ہمیشہ طاقتور، سرمایہ دار اور جاگیر دار ہی کرتا ہے۔ یہ بھی کسی نو مئی سے کم نہیں کہ غریب کو اپنے مسائل کی آگاہی نہیں اسے معلوم ہی نہیں اس کی اس کسمپرسی کی وجہ کون ہو سکتا ہے۔ وہ بیچارہ سب کے جانے پر ڈھول کے آگے ناچتا ہے اور سب کے آنے پر مٹھائیاں بھی تقسیم کرتا ہے۔

اگر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تو وہ ہم عوام کو جو بیچارے ہر دفعہ اس آس پر ان نمائندوں کا ساتھ دیتے ہیں کہ شاید اب کی بار ان کے حالات بدل جائیں گے۔ عوام کے خیر کیا بدلنے ہیں ہاں سیاستدانوں کے تو بدل جاتے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کے ٹائیٹینک سے چھلانگیں مار نے والے جانے کس کی کشتی ڈبوئیں۔ بیچارے عوام خاص کر وہ یوتھ جو بیچارے اس نام نہاد انقلاب کے جھانسے میں آ گئے اور اپنے ہی ملک کی املاک کو بے دریغ نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔

شباب کی طاقت سیلاب کی طرح ہوتی ہے اگر پر ڈیم نہیں بناؤ گے تو یہ بستیوں کی بستیاں بہا کر لے جائے گا اور ایسا ہی کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ بہرحال پاکستان انتشار کی نہیں بلکہ امن، محبت اور صلح کی تربیت سے چلنا ہے۔ جہاں معاشی خوشحالی ہو، سماجی انصاف ہو تاکہ دنیا میں ہماری عزت ہو ورنہ پھر ہر کسی کو اپنی باری پر بھگتنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS