بچوں کا ادب اور ہماری ذمہ داریاں


بچوں کے نام ور ادیب، ممتاز کہانی نویس، ہر دل عزیز مصنف اور سیرت النبی کے موضوع پر صدارتی ایوارڈ یافتہ قلم کار محمد فہیم عالم صاحب کا اسلوب نگارش کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ پاکستان چلڈرن لٹریری سوسائٹی کے ڈائریکٹر اور اسی ادارے کے زیر اہتمام لاہور سے شایع ہونے والے ماہ نامہ ’بچوں کا باغ‘ ، ماہ نامہ ’بچوں کی دنیا‘ ، ماہ نامہ ’جگنو‘ اور ماہ نامہ ’اقراء‘ کے مدیر اعلا کے طور پر ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

معروف اشاعتی ادارے ’بچوں کا کتاب گھر‘ کے سربراہ کے طور پر محکمہ سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کے ماہ نامہ ’روشنی‘ کے ناشر و مدیر بھی ہیں۔ فہیم صاحب کی ذرہ نوازی اور محبت ہے کہ وہ ہر ماہ رسالوں کے تحائف سے نواز کر عزت افزائی کرتے ہیں۔ اللہ پاک ان کے علم، حلم اور ادب نوازی میں بے کنار برکتیں عطاء فرمائے۔

خوش قسمتی سے ہمارا تعلق اس پیڑھی سے ہے جو ’پھول‘ پڑھ کر جوان ہوئی، والد صاحب ’نوائے وقت‘ سے منسلک تھے تو اخبار و رسائل کے ساتھ ساتھ ہر ماہ ’پھول‘ بھی باقاعدگی سے ہمارے گھر کی زینت بنتا تھا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ بچوں کے اس خوبصورت اور لاجواب میگزین کے ذریعے ہمارے ناپختہ ذہنوں میں علم، تفریح اور تربیت کی آبیاری آپو آپ ہی ہوتی رہی۔ آج کی ڈیجیٹل نسل اس ظرف اور اس تربیت سے محروم ہے جو ہمارے حصے میں آیا

فہیم صاحب کی طرف سے موصول ہونے والے رسالے ہمیں اپنے بچپن کی طلسم ہوشربا میں پہنچا دیتے ہیں۔ وہ خوب صورت بچپن کہ جس میں ٹوٹ بٹوٹ کی نظمیں تھیں، ٹارزن کے کارنامے تھے، کبھی چچا چھکن تو کبھی عمرو عیار اپنی چھب دکھلاتے تھے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا بچپن اتنا اچھا کیوں تھا؟ پیسے کی کمی کے باوجود شاید ہی اس وقت کوئی ایسا بچہ ہوتا ہو گا جسے احساس کمتری بھی ہو۔ وگرنہ سکول جانے والے اور پڑھنے لکھنے والے بچے ایسا کوئی خوف نہ رکھتے تھے نہ ہی ان کے والدین کو کبھی یہ گمان گزرتا تھا کہ ہماری ڈانٹ سے دل برداشتہ ہو کر یہ خودکشی بھی کر سکتے ہیں۔ اکثر گھروں میں بلا امتیاز سب کو ’لتر‘ پڑا کرتے تھے اور اس کارخیر میں اساتذہ اور اماں، ابا کے علاوہ دادا، دادی، چچا، ماموں حتی کہ کبھی کبھار پڑوسی بھی چھوٹی موٹی ’دھپ‘ مار دیا کرتے تھے اور کوئی مارنے والے کے گھر شکایت لے کر نہیں پہنچتا تھا کہ ”یقیناً تم نے ہی کوئی شرارت کی ہو گی“ ۔

آپ نے کبھی سوچا کہ اس زمانے کے بچوں میں اتنی برداشت کیسے تھی؟ آج بچے کیوں غصے میں اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ آپ اپنے بچپن میں کتابوں سے قریب تھے۔ اس وقت بچے مار دھاڑ سے بھرپور کارٹون، ڈرامے اور فلمیں دیکھ رہے ہیں۔ ہر چیز کا ذہن پر اثر ضرور ہوتا ہے۔ بچوں کے ذہن نازک ہوتے ہیں۔ پہلے پڑھنے والے کم لیکن رسائل اور کتب کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ یہاں اب یہ صورت حال یہ ہے کہ کوئی اہل دل ادیب اپنی جمع پونجی خرچ کر کے بچوں کا رسالہ نکالنا بھی چاہے تو وہ محض چند شمارے نکالنے تک ہی محدود رہتا ہے۔ کوئی کتاب پڑھنے والا نہیں رہا یا کتاب خرید کر دینے والا نہیں رہا۔ بچوں کو مہنگے کپڑے تو دلا دیے جاتے ہیں کہ وہ نظر آتے ہیں لیکن روحانی لباس؟ کوئی 50 روپے کا رسالہ نہیں خریدتا۔

’آنکھ مچولی‘ ، ’انوکھی کہانیاں‘ ، ’تعلیم الاطفال‘ اور ’ٹوٹ بٹوٹ‘ جیسے کتنے ہی خوبصورت رسالے معاشی بدحالی کی نذر ہو چکے اور کچھ بجھتی لو کے ساتھ اپنے آپ کو زندوں میں شمار کرنے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن کب تک؟ معاشرہ بچوں کے ادب کو نظر انداز کرے گا تو ایک دن یہ بھی بجھ ہی جائیں گے۔ چند ماہ قبل اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ بچوں کے ادب کی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں اس معاملے پر ایک سیشن میں شرکت کا موقع ملا تو کیا ادیب اور کیا ناشر، سب ہی اس مسئلے کی وجہ سے پریشان تھے۔

خدارا اپنی آنے والی نسلوں سے محبت کیجیے۔ اپنی شفقت کا دامن وسیع کیجیے۔ اپنے بچوں کو کتابوں سے جوڑیے۔

Facebook Comments HS