یہ چھٹیاں: شیطان اور عورت کی چال


شریعت موسوی میں تو ایک دن چھٹی کا تھا۔ یہواہ نے کہا تھا ”چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا لیکن ساتواں دن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔“

پہلے کرسچن بازنطینی قیصر کرسٹینین نے اتوار کو مقدس ٹھہرا کر چھٹی کا فرمان جاری کیا۔

سوریا دیوتا اور دوسرے دیوی دیوتاؤں کی پوجا کا دن اتوار تھا۔ ہندوستان میں ہمیشہ سے اتوار کو ہفتے کا پہلا دن گردانا جاتا تھا۔ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے اور اس شعبہ میں کسی دن بھی چھٹی نہیں ہو سکتی۔ فصل ہو یا جانور اس کو ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے سنبھالنا پڑتا ہے۔ سو ہمیشہ کام جاری رہتا۔ انگریز کے آنے کے بعد وہ تو اتوار کو چرچ جاتے اور ہندوستانی مزدور ساتوں دن کام کرتے، پھر مل مزدوروں نے مہم چلائی اور یہاں پہلی بار 1890 میں ہفتے میں ایک دن آرام کرنے کی منظوری ہوئی۔

ہفتہ میں ایک دن آرام کرنا تو دیوتاؤں، خداؤں اور مذہبی رہنماؤں کا رواج تھا یہ تین تین ماہ کی چھٹیاں کس نے ایجاد کیں۔ خدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ انہیں جانچنے کے بعد ہی میرا اس کے وجود پر ایمان مستحکم ہوا ہے۔ ان چھٹیوں میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی مصلحت نہیں ملتی۔ تین ماہ آرام کے تو نہیں ہو سکتے، لگتا ہے کہ یہ شیطان اور عورت کی چال ہے۔ جنت سے نکلوانے والے دونوں اب جنت نظیر میں کچھ دن گزارنے کے لیے یہ گٹھ جوڑ کرتے ہیں۔

عورتوں نے یہ ڈھونگ اپنی آزادی اور تفریح طبع کے لیے رچایا ہے۔ شیطان بچوں میں حلول کر کے موج مستی کرتا ہے۔ بچے الول کلول حرکتوں سے باپ کے ناک میں دم کر دیتے ہیں اور عورتیں مزے سے تماشا دیکھتے ہوئے فرمائش پہ فرمائش کیے جاتی ہیں۔

ہماری بیگم کے پاؤں میں تو بلیاں بندھی ہیں۔ اگر آپ کو یہ تعارف مناسب نہیں لگتا تو ایسا سمجھ لیں کہ وہ سیربین فطرت کی مالک ہے۔ چھٹیاں شروع ہوتے ہی کوئی نئی جگہ ڈھونڈ کر ادھر جانے کی فرمائش کرنے لگتی ہے۔ بچے اس کے ڈھولچی ہیں، آواز میں آواز ملا کر ڈونڈی پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ذرا ڈانٹ دو تو بیگم دند مچا کر بیٹھ جاتی ہے۔

اس ملک کی اکثریت نے میری طرح بیگمات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تو ٹھنڈے علاقوں میں ہوٹلوں پر ہوٹل کھلنا شروع ہو گئے۔ ہر پہاڑی کے اوپر، ہر گھاٹی کے اندر حتیٰ کہ ہر دریا کے راستے پر ہوٹل بن گئے۔ دریائی راستے بھی بند ہوئے اور پانی کے ساتھ ساتھ لوگوں کا سیلاب بھی امڈ آیا۔ کس کافر کا خیالی جنت جیسے مناظر سے لطف اندوز ہونے کو دل نہیں کرتا بس معاشی مجبوریاں انسان کو دوزخ میں رہنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ گو اس حکومت کے دور میں ہر موج بلا سر چڑھ کر شور مچا رہی ہے مہنگائی نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ہم تنخواہ دار لوگوں کو پیسے پیسے کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ ایک پیسہ بھی بیکار اٹھ جائے تو رات کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔

کشمیر کے ایک نئے ہوٹل سے جاب کی آفر آئی تو بیگم نے زور دے کر ادھر بھیج دیا۔ میں نے لاکھ سمجھایا کہ تنخواہ تھوڑی ہے۔ کہنے لگی، ”علاقہ تو ٹھنڈا ہے۔“
” مجھے تو ادھر بھی گرمی نہیں لگتی۔“

”ہاں ہاں! تم خود سارا دن سنٹرلی ائر کنڈیشنڈ میں موجیں مارو اور ہم گرمی سینکیں، اب ہم بھی پوری گرمیاں ٹھنڈے علاقے میں رہیں گے۔“

میں تو فروری میں ادھر پہنچ گیا۔ پچھلے ہفتے واپس گیا تو دیکھا وہ سامان باندھے تیار بیٹھی تھی۔ پہلی چھٹی والے دن ہی وہ آن دھمکے۔ سب ہشاش بشاش تھے، کسی کے چہرے پر تھکاوٹ یا ماندگی کا کوئی احساس نہیں تھا۔

کشمیر بھی عجیب جگہ ہے ہر ملازم کے گھر والے یہی سمجھتے ہیں کہ ادھر سب کچھ مفت ہی ملتا ہو گا۔ ہوٹل اپنا اور کھانا تو وافر ہو گا۔ میرے جونیئر منیجر کی شادی اسی فروری میں ہوئی تھی۔ پورے دو ماہ کی چھٹیاں گزار کر واپس آیا۔ اس کی بیگم بھی ادھر پہنچ گئی۔ میں نے کہا کہ تمہیں تو ہنی مون کے لیے گرم علاقوں میں جانا چاہیے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اکثر غائب ہو جاتا۔ ہوٹل میں ہوتا بھی تو القط ہو کر بیٹھا رہتا۔ ہر شام بھاگنے کی جلدی میں ہوتا۔ اس رنگ کی کدخدائی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ہم دعا گو تھے کہ اس کے ہوٹل سے یہ غوطے رنگ لے آئیں، بیگم کا دلہناپا ختم ہو تو جان چھوٹے۔

پہلے دن میں نے کہا کہ میرے بچے آئے ہیں اس لیے جلدی جاؤں گا تو منہ بسور کر کچھ دیر بیٹھا رہا پھر کھرے کی طرح بے مروت ہو کر بولا ”آج اس کا جنم دن ہے۔ پرن بندھنے کے بعد پہلی سالگرہ پر نہ پہنچا تو ساری عمر طعنے سہنا پڑیں گے۔“

جنم دینے والے اپنا بوجھ اس کے سر پر ڈال کر سکون میں ہوں گے۔ ان کی لمحوں کی خطا اب سزا بن گئی تھی جو اس نے سہنی تھی اور کچھ بوجھ مجھے بھی اٹھانا تھا۔ سو مجھے ہی ڈیوٹی کرنا پڑی۔

تھکا ہارا گھر پہنچا تو دیکھا، بچوں نے دھماچوکڑی مچائی ہوئی تھی۔ کھیل جاری تھا اور ایک دوسرے کو پٹخنیاں دے رہے تھے۔ بیگم لڑکیوں بالیوں کی طرح ان کے ساتھ اتھل پتھل مچا رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے،

”ہم نے دریا پر جانا ہے۔ رات کا کھانا ادھر ہی کھائیں گے۔“
”میرا تو خیال تھا کہ تم نے کھانا تیار کیا ہو گا۔ کبھی کبھار تو گھر کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔“
”آج تو اتنا لمبا سفر کر کے پہنچے ہیں۔ کل سے پکا لیا کروں گی۔“
”آتے ہی تو تم سب سو گئے تھے۔“

”بچے کہاں سونے دیتے ہیں؟ شور شرابا ہی بہت تھا۔ اس وقت سے کھیل رہے ہیں ابھی تک تھکے نہیں۔ تمہارا انتظار کر رہے تھے۔ “

ان کی لذت شوق میری بدنصیبی تھی۔ وہ تیار ہونے لگے اور میں کمرے میں جا کر بیڈ پر لیٹ گیا۔ اس وقت بھوک اور تھکن کے سوا کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

کھانا کھا کر واپس آئے تو رات کا ایک بج چکا تھا۔ شور و شغب اور ہنسی مذاق جاری تھا۔ خوب ٹھٹھے لگ رہے تھے۔ بچے کبھی ایک دوسرے سے بھڑ جاتے اور پھر فوراً ہی کھیلنے لگتے۔

دو بج گئے تو ماں نے ان کو ڈانٹ کر سونے کا کہا۔ دس منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ وہ پھر اٹھ گئے۔ چھوٹا چیخ رہا تھا،

” مجھے مچھر کاٹ رہے ہیں۔ “
”اتنی سردی میں مچھر کہاں سے آ گئے؟ خاموشی سے سو جاؤ۔“
تھوڑی دیر بعد وہ خارش کرتے ہوئے پھر جاگ گیا۔
”لگتا ہے کہ بستر میں کھٹمل ہیں۔ اسے صوفہ پر لٹا دیتے ہیں۔“
وہ اسے اٹھا کر صوفہ پر لٹا آئی۔ بچے نے رونا شروع کر دیا ۔
”اکیلے سوتے ڈرتا ہے۔ تم جاؤ اس کے ساتھ لیٹ جاؤ۔
جائیے، جائیے ؛ اٹھیے بھی۔ ”
بچہ آنکھیں پھاڑے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ کھجلی بھی جاری تھی۔
”بابا، یہ کھٹمل بھی مچھر ہی ہوتے ہیں؟“
میں خاموش رہا۔
”بابا یہ انسانی خون پیتے ہیں؟
خون سے ان کا پیٹ تو لال ہو جاتا ہو گا؟ ”
سوال جاری تھے۔ اسے نیند آ رہی تھی، نہ مجھے۔
”بابا یہ مچھر رات کو سوتے کیوں نہیں؟“
میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔

”اس لیے نہیں سوتے کیونکہ یہ میری طرح فالتو ہوتے ہیں۔ غیر ضروری، بالکل غیر ضروری۔ ان کو سونے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملتی۔“

نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ صوفے پر پہلو بدلنے کی جگہ نہیں تھی۔ کمر تختہ بن گئی۔ سب سو رہے تھے۔ رات کی خاموشی کو توڑتے ہوئے بیگم کے خراٹے کمرے میں گونج رہے تھے۔

میں خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔ صبح صادق طلوع ہو رہی تھی۔ پر سکون بادل ہر طرف گھوم رہے تھے۔ مجھے چھو کر وہ بھی بیتاب ہو جاتے۔ تھوڑی دیر بعد ہی ایک نئے دن کا آغاز ہو جائے گا۔ نئی مشکلات اور بیگم بچوں کی خواہشات سامنے آ کھڑی ہوں گی۔ ان کی موجیں ہوں گیں اور میرے لیے مسائل۔ دن میں کیا ڈھونڈنا! مجھے تو رات کی راحت بھی نہیں ملی تھی۔ انہیں خیالات میں گم سم گھوم رہا تھا تو پتھر پر بیٹھا ہوا ایک شخص نظر آیا۔ رات کے اس وقت جب کشمیر کے کتے بھی سو جاتے ہیں، یہ کون ہو سکتا تھا؟ ذرا غور سے دیکھا تو میرا جونئیر منیجر تھا۔

”تم اور اس وقت یہاں؟“
”قدرت کا نظارہ کر رہا تھا۔“
”اصل قدرت کو چھوڑ کر ادھر پہاڑی چوٹیوں پر نظر جمائے بیٹھے ہو۔“
” اس پہاڑی کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ دلہن کہہ رہی تھی کہ کل اسے سر کرنا ہے۔“
”سوچ کیا رہے تھے؟“
”دن رات پہاڑیاں سر کرنا کوئی آسان کام ہے؟ میرا تو آدھے راستے میں سانس پھول جاتا ہے ۔“
میں بھی سر پکڑ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
دکھ اپنے اپنے!
یہ چھٹیاں سب کے لیے بھاری ہیں،
یہ چھٹیاں حقیقتاً شیطان اور عورت کی چال ہیں۔
(ماخوذ)

Facebook Comments HS