کنگز پارٹی ملک کے لیے نقصان دہ ہوگی


دورہ چین اختتام پذیر ہوا، پہلے مرحلے میں چینی قونصلیٹ لاہور کی جانب سے بھیجے گئے وفد میں شامل تھا پہلا مرحلہ مکمل ہوا تو دیگر وفد کے اراکین وطن واپس روانہ ہو گئے جبکہ میں چینی وزارت خارجہ، انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز چین، انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز چین، انسٹیٹیوٹ آف اکنامک اسٹڈیز چین اور پیکنگ یونیورسٹی چین کی دعوت پر کچھ دن کے لئے چین میں مزید ٹھہر گیا۔ چین میں پاکستان کی اس وقت کی خارجہ امور میں کارکردگی کا بہت گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

محسوس یہ کیا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو کی گفتگو میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا بھی ٹچ ہوتا ہے جب کہ سفارتی گفتگو میں بھی بسا اوقات انداز سیاسی ہوجاتا ہے۔ اس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ خارجہ امور پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر نبھائے جا سکے۔ بیجنگ میں اس معاملے کا بھی بہت باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے کہ وہ کیا حالات تھے کہ جن کی وجہ سے پاکستان میں سی پیک جیسے فائدہ مند منصوبہ کے آگے بریک لگا دی گئی تھیں۔ جن کی وجہ سے چین کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے وہ ثمرات دونوں ممالک کے سامنے نہیں آ سکیں ہیں۔

اس پر وہاں یقین پایا جاتا ہے کہ گزشتہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین اور کچھ دیگر عوامل کی وجہ سے اس منصوبے کی بھی مخالفت ہو گئی تھی پھر وہ ایک کمزور سیاسی حکومت تھی جس کو کھلم کھلا سیاسی انجینئرنگ کر کے مسند اقتدار پر بٹھا دیا گیا تھا اور کمزور حکومتوں کے لیے بڑے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔

ان کے لئے اس میں بہت دلچسپی ہے کہ پاکستان میں آئندہ سیاسی منظرنامہ کیا ہو گا؟ پاکستان میں انتخابات اب زیادہ فاصلے پر نہیں رہ گئے ہیں اور انتخابات کے بعد کیا صورتحال ہوگی؟ اگر کمزور مخلوط حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس صورت میں اس حکومت کے لیے سی پیک کو اس کی رفتار کے مطابق چلانا ممکن نہیں ہو گا۔ میں نے چینی دوستوں سے استفسار کیا کہ آپ کو یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ کہ آئندہ کمزور حکومت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

بات صاف ہے کہ اس وقت بھی آپ کے ملک میں دو کام بہت تیزی سے اور کھلم کھلا کیے جا رہے ہیں۔ اول تو سیاسی انجینئرنگ کرنے کی مکمل طور پر کوشش کی جا رہی ہے۔ کنگز پارٹی کے طور پر ایک نئی سیاسی جماعت یا ایک دو جماعتوں کو تشکیل دیا جا رہا ہے کیونکہ ان لوگوں کو پہلے بھی کھینچ کھانچ کر کنگز پارٹی میں لایا گیا تھا اور اب نئی کنگز پارٹی یا پارٹیوں میں دھکیلا جا رہا ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں ان لوگوں کے ذریعے سے موثر پریشر گروپ کو قائم کیا جا سکے اور دوسرا یہ کام کیا جا رہا ہے کہ کچھ لوگوں کی شخصیت سازی ان جماعتوں کی سربراہی کی غرض سے کی جا رہی ہے حالانکہ آپ ان مجوزہ جماعتوں کے قائدین کے اگر ناموں پر غور کریں تو ان کے حوالے سے یہ بات بھی یقینی طور پر نہیں کہی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے انتخابی حلقوں میں بھی کامیابی اپنے زور بازو پر حاصل کر سکیں گے یا نہیں؟

اب ایسے لوگوں کی قیادت میں اگر جماعتیں سامنے آئے گی تو ان کی حیثیت بلوچستان کی باپ پارٹی سے زیادہ نہیں ہوگی کہ جو صرف مائی باپ کی خوشنودی تک قائم رہ سکے گی اور اس کی خوشنودی کے لیے ہی کام کرے گی۔ اس لیے پاکستان میں دوبارہ سے سیاسی انجینئرنگ سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔

میں اس دورے کے دوران ہواوے، چائنہ الیکٹرک پاور اینڈ ایکوپمنٹ کمپنی، چائنہ اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کمپنی اور بی وائے ڈی جیسے کاروباری اداروں میں بھی گیا وہاں پر بھی پاکستان کی آئندہ کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک تشویش پائی جاتی ہے۔

پاکستانی سفارتخانے کی کارکردگی ان حالات کی وجہ سے مایوس کن ہوتی جا رہی ہے چینیوں کا سفارت خانے میں آنا جانا بہت کم ہو گیا ہے جو ان کی عدم دلچسپی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی سفارتخانہ کوئی پروگرام بھی منعقد کروائے تو اس میں کوئی قابل ذکر چینی شخصیت نہیں آتی ہے جب کہ دیگر ممالک کے سفراء میں سے بھی بس گنے چنے ہے جو کہ ہر موقع پر دکھائی دیتے ہیں۔ چینیوں نے جن این جی اوز اور شخصیات کے ساتھ مل کر پاکستان میں آگے بڑھنا چاہا وہ بھی پاک چین تعلقات، عوامی روابط کے شعبے میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں۔

وطن واپسی کے روز ہی سفیر اٹلی کی جانب سے ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی وہ میری چین روانگی سے قبل ہی مجھ سے اس پروگرام میں شرکت کے لئے وعدہ لے چکے تھے۔ وہ اور نائب سفیر دونوں پاک اٹلی تعلقات کی مزید بہتری کے لئے بھی نہایت متحرک رہتے ہیں۔ اس پروگرام میں بھی جب شرکت کی تو پاکستانی دوستوں کی زبان سے بھی نئی کنگز پارٹی کی تشکیل کی خبریں سنی اور سبھی اس پر متفق تھے کہ سیاسی انجینئرنگ اگر ہوتی رہے گی تو معاشی بحالی کی منزل بھی دور ہوتی رہے گی۔

Facebook Comments HS