محمد اظہار الحق کی تصنیف: ”اے آسماں نیچے اتر“
گزشتہ صدی میں تو ایسا ہوتے بہت سنا اور قصوں میں پڑھا مگر کیا 2023 میں آپ ایسے کسی واہمے کا شکار ہوئے کہ جاگتی آنکھوں بہتے چشمے کی صدا سن لیں۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ اور چرخے کی گھوک سنائی دے۔ اور تو اور آنکھوں میں سبز رنگ درختوں اور ابابیلوں کے پرے کے پرے اور سرشار بچوں کی کلکاریاں گونجتی ہوں۔ سحر دم خمیدہ کمر مناجات سے لرزتے ہونٹوں کی سرگوشیاں رقص کرتی سماعتوں کو لبریز کریں اور نوجوان دلوں کی سر خوشی میں پلتی قلبی واردتیں ہمیں اپنی مردہ حسیات کو خبردار کرتی پائیں تو
سمجھ لیجئیے کہ آپ محمد اظہار الحق صاحب کی نوخیز تصنیف ”اے آسماں نیچے اتر“ کو ورق ورق اپنے شب و روز میں شامل فرما چکے ہیں اور اب اس وارفتہ کام جادوئی زنبیل کا شکار بن چکے ہیں۔
مانند نازنین و سبک آسمان رنگ، و دل کش، سرورق انتہائی دل آویز!
(گگن شاہد اور امر شاہد تزئین حرف و کتاب میں حسن آرائی و جلوہ نمائی کے نہ صرف داعی ہیں بلکہ موجد بھی)
ھم سب کے ممدوح کا سحرانگیز تاریخی ”عمق“ سراسر ان کے وسیع تر مطالعات ( عربی، فارسی، اردو کلاسیک) کا مرہون منت ہے۔ اور یہی ان کے جادوئی قلم کی مہا نشانی۔
قرون اولی کی قدیم زمینوں، سمندروں، محلوں، پادشاہوں اور کنیزوں سے بھری قلم روؤں کی ابدی کہانیوں اور ان کی خطیر مثالوں سے لبالب اس جادوئی الفاظ کی گٹھڑی سے جو خواب چاہیں برآمد کر لیں ہر ان بنی آرزو کی کیفیت دارد!
اسی پہ موقوف نہیں!
مشام جاں کو معطر کرتا بنگالی منظروں کے آبی حسن کا جادو اور ماں دھرتی کی تقدس بھری مہکار اس پہ مستزاد،
ستارے گر رہے ہیں وقت تھر تھر کانپتا ہے
وہ منظر ”ہیں“ کہ دل سینے کے اندر کانپتا ہے
صاحب! ہم، آپ یہ کتاب پڑھنے بیٹھیں تو گویا آئینہ رکھ لیا سامنے،
اے رنج روزگار کڑکتی تیری دوپہر
دالان سارے عشق کے سونے پڑے ہوئے
قالین خشک گھاس کا مٹی کے فرش پر
باہر وضو کی ناند پہ کوزے پڑے ہوئے
ذرا خود کا محاسبہ کیجئیے کہ کتنے ہیں جو اب ان تلمیحات کے مفاہیم کو حزر جاں کر پائیں گے؟
کتاب میں غزلیں سب کی سب جادو بھری ہیں۔
بس نظموں میں دھیان لگائیے!
جو جان اٹکانے جیسی ہیں!
یہ پگڈنڈی، یہ ساتھ تیرا
بادل تک جائے ہاتھ تیرا
دن تیری سوانح لکھتا ہے
کہتی ہے قصیدہ رات تیرا
اور۔
اور اس لفظ گری میں پوشیدہ سروں کا کمال دیکھئیے۔ بلکہ آنکھیں مند کے سنئیے
پہرے پہ پھول بنفشے کا
وہ منظر تیرے دریچے کا
تیرے صحن میں اپنا دل بو دوں
تجھے شوق ہے باغ باغیچے کا
اس بار پوری کتاب کا عرق ”دلشاد نامہ“ ہے جو نسائیت سے لبریز فراق کی مکمل تفسیر ہے۔
سر تا قلب حیرت زدہ ہوں کہ لطیف تر اندوہ نازک اس جادوئی زنبیل میں کیسے سلامت رہا!
لے بن کے سروں پر تن جائے
سرکنڈا بانسری بن جائے
ہتھ باندھ کے پیچھے ہٹ جاؤں
گر تیری میری ٹھن جائے
کوئی لکھ تعویذ محبت کا
میرے سر سے رنج و محن جائے۔
کوئی سحر کوئی افسوں ایسا
ترے دل تک میرا سخن جائے
کوئی سادھو، غوث، ابدال کوئ
یہ عشق کی بگڑی بن جائے۔
محمد اظہار الحق صاحب کی ہر علمی فصل تازہ ہماری ملی یادداشت و پرداخت پہ ایک مہر تجدید ثبت کرتی دکھائی دیتی ہے کہ
محبت ہے اور اک دیوان ہے اور ایک چھاگل
یہ اسباب سفر ہے، مرو سے رے جا رہے ہیں
اور ہم واقعی جا رہے ہیں ( یقیناً جائیں گے )


