ایک "نظریاتی ریاست” کی آپ بیتی

1947 تک: ایک ایسی ریاست کے قیام کا تصور جہاں مسلمان آزادانہ زندگی گزاریں گے اور جو سب کے لیے فلاحی ریاست ہوگی
15 اگست 1947 : انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ 1947 کے تحت اس دن دو علیحدہ آزاد برطانوی نو آبادیاں بنام بھارت اور پاکستان کی تشکیل
1948 : بانی پاکستان کی رحلت
1949 : قرار داد مقاصد کی منظوری جس کے تحت اسلامی فلاحی ریاست تشکیل دینے کی کوشش
1951 : پہلی فوجی بغاوت کی ناکام کوشش جسے راولپنڈی سازش کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی سال ملک کے پہلے وزیراعظم کا قتل
1954 : گورنر جنرل غلام محمد کا اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی معزولی اور امریکی نواز محمد علی بوگرہ کی امریکہ سے بلا کر بطور وزیراعظم ”تعیناتی“ ۔ ملک امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا گیا
1955 : عالمی سیاسی کشمکش میں پاکستان کا مکمل طور پر امریکہ کی طرف جھکاؤ۔ سیٹو اور سینٹو میں شمولیت سے امریکی غلامی کا طوق پہننا جبکہ بھارت کا غیر جانبدار رہتے ہوئے اس کے برعکس ”غیر جانبدار تحریک“ کی رکنیت
1956 : ملک کے پہلا آئین کا نفاذ جس کے مطابق ملک صدارتی نظام کے تحت برطانوی نوآبادی سے آزاد جمہوریہ بنا۔ یہ آئین 23 مارچ کو نافذ ہوا اسی اعتبار سے اس دن کو ”یوم جمہوریہ“ قرار دیا گیا
1958 : ملک پر فوجی بغاوت کے ذریعہ قبضہ، یوں ملک جمہوریہ سے فوجی ریاست بن گیا
1959 : ایوب خان کا ایبڈو (الیکٹڈ باڈیز ڈسکوالیفیکیشن آرڈر) کے کالے قانون کے ذریعہ سیاست دانوں کو سیاست سے دستبردار یا پھر اس قانون کا سامنا کرنے کی گھناؤنی کوشش
1962 : ملک کے دوسرے آئین کا نفاذ اور ملک میں دوسرے انتخابات کا انعقاد جس میں پہلی بار ”دھاندلی“ متعارف ہوئی، اسی سال 23 مارچ کو یوم جمہوریہ کے بجائے 1940 کی قرارداد لاہور کی نسبت دے کر ”یوم پاکستان“ کا نام دیا گیا
1965 : رن آف کچھ میں دفاعی مقصد کے لیے راستہ بناتے ہوئے چند کلومیٹر تک کا بھارتی علاقہ بھی شامل کر لیا گیا جس کے بعد عالمی مداخلت پر اس علاقے سے دستبرداری اور خفت مٹانے کے لیے کشمیر میں ”آپریشن جبرالٹر“ کے نام پر مداخلت جس کے جواب میں بھارت کا جوابی حملہ اور تب سے یہ ملک جو فلاحی ریاست تشکیل دینے کے لیے لیا گیا تھا، ”سیکیورٹی اسٹیٹ“ بن کے رہ گیا
1970 : ملک کے قیام کے 23 سال بعد پہلے عام انتخابات جس میں مشرقی پاکستان میں مکمل طور پر عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں اسٹبلشمنٹ کی پروردہ پیپلز پارٹی کامیاب ہوئیں جبکہ عوامی لیگ نے کل نشستوں کی 2 / 3 نشستیں حاصل کیں مگر حکومت بنانے نہ دیا گیا
1971 : انتخابات کے نتائج کے تحت حکومت تشکیل نہ دینے پر مشرقی پاکستان میں شورش اور علیحدگی کا اعلان جس نے ایک جنگ کے بعد ملک دو لخت کر دیا
1972 : پہلی منتخب حکومت کا قیام جس کے بعد ملک میں اشتراکیت کا تجربہ
1973 : ملک کے تیسرے اور پہلے متفقہ پارلیمانی آئین کی منظوری جس سے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست قرار دیا گیا۔ وہ کام جس کا ابتدائیہ قیام سے ہی تشکیل دیا جانا چاہیے تھا
1974 : نجی کاروبار اور صنعتیں اشتراکی فکر کے تحت قومیا لی گئیں جس نے ایک طرف معیشت کو دور رس ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تو دوسری طرف سرمایہ کاروں کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا
1977 : ملک میں دوسری بار فوجی بغاوت، آئین معطل اور انسانی حقوق کی شدید پامالی
1979 : پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی اور امریکہ کے لیے افغانستان میں ”ڈالر جہاد“ کا آغاز۔ تزویراتی گہرائی کا تصور اور ملک میں ناجائز اسلحہ، لاکھوں افغانوں کا ترک وطن، لاقانونیت، بدامنی اور منشیات کا فروغ
1985 : ملک میں غیر جماعتی انتخابات
1988 : غیر جماعتی منتخب حکومت کی برطرفی، آمر کی موت اور عام انتخابات جس کے نتیجہ میں بینظیر وزیراعظم بنیں
1990 : منتخب حکومت کی برطرفی اور سیاست دانوں کو خرید کر انتخابات کے نتیجہ میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) حکومت کی تشکیل
1993 : آئی جے آئی حکومت کی برطرفی اور پیپلز پارٹی حکومت کی تشکیل
1997 : پیپلز پارٹی حکومت کی برطرفی اور مسلم لیگ نون حکومت کی فقید المثال کامیابی
1998 : فوجی بغاوت اور سیاست دانوں کی جلاوطنی
1999 : سن 1971 کی جنگ میں بھارت کا پاکستان سے چھینا گیا علاقہ کارگل واپس لینے کی بھونڈی اور ناکام کوشش
2001 : امریکہ کے لیے متوازی ڈالر جہاد کا آغاز۔ اس بار یہ معرکہ انہی کے خلاف تھا جنہیں 1979 کی جنگ میں خود مقامی طور تیار کیا گیا تھا
2002 : اسٹبلشمنٹ کے سدا بہار حمایت یافتہ سیاست دانوں کے ذریعہ حکومت سازی
2007 : مئی کے مہینے میں کھلے عام ”طاقت کا استعمال“ اور دسمبر میں بے نظیر کا قتل جس کے بعد پورے ملک میں بدامنی اور لاقانونیت کی 3 دن تک چھوٹ
2008 : عام انتخابات جس میں پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ کی بھرپور مدد اور بینظیر سانحہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برسراقتدار آئی
2013 : عام عام انتخابات جس میں مسلم لیگ پچھلی حکومت کی ہر سطح پر ناکامی، فروغ پاتی دہشتگردی اور تباہ حال معیشت کی وجہ سے کامیاب ہوئی۔ اس حکومت نے بہت حد تک حالات پر قابو بھی پایا
2018 : اسٹبلشمنٹ کی مدد سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کا قیام جس میں سیاسی مخالفین کو جبر اور استبداد کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت نے معاشی، خارجہ اور عوامی بہبود کے لحاظ سے بہت سے منفرد اور اور اچھے اقدامات اٹھائے جن میں اکثر پایہ تکمیل تک نہ پہنچے۔ حکومتی جماعت کا سرفہرست مقصد بدعنوانی کا خاتمہ زیادہ تر سیاسی مخالفین کے خلاف ہی ہی استعمال ہو
2021 : منتخب حکومت کی برطرفی اور 11 جماعتی اتحاد کی حکومت سازی۔ جس بنیاد ہر یہ حکومت تشکیل دی گئی وہ مقصد نہ کبھی حاصل ہوا نہ ہی اس کی کوشش کی گئی۔ ملک میں شدید سیاسی ابتلا، معیشت کی مکمل تباہی اور آئین کی مکمل پامالی۔ ایک بار پھر انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی اور اور انتخابات کے انعقاد میں شدید غیر یقینی

