گرمی میں بھی سردی ہے


اس بار کا موسم گرما، گرمی بی سے بال بال بچا جا رہا ہے اور تا حال گرمیوں اور لو کا متہم نہ ہے۔ نا جانے اس بار موسم گرما کی گرمی سے مڈبھیڑ کیوں نہیں ہو پا رہی۔ ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار لوگوں کو جون کی راتوں میں کمبل میں دبک کر سوتے دیکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیوں کا لمبا ہاتھ ہے۔ مگر ہم تو ہر تبدیلی، آفت اور ہر سر گرمی کے پیچھے کسی نہ کسی کا ہاتھ تلاش کرنے اور ثابت کرنے کے خو گر ہو چکے ہیں۔

کسی چیز کے پیچھے انڈیا ہے تو کسی کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کوئی ہاتھ نہ مل سکے تو وردی آسانی سے ہاتھ لگ سکتی ہے۔ سچ ہے کہ کچھ قدرت کی طرف سے ہو تب بھی ہم اس کے پیچھے کوئی ید طولیٰ یا ید بیضا تلاشتے ہیں۔ علاوہ ازیں خود کچھ کر نہ پانے کی صورت میں تو آنگن کے ٹیڑھے پن کا رونا ہی فیس سیونگ رہ جاتا ہے۔ گرم خطے میں گرمیوں میں سردی کے آثار واقعی بڑی تبدیلی کے عندیے ہیں۔ ، کھمبے اکھاڑ، جھکڑ اور بارشوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے، نہ صرف دھرتی کو پانی پانی کیے ہوئے ہیں بلکہ، پیر گردوں، ، میدانی علاقوں میں مسلسل برف کے گولے بھی داغ رہا ہے۔

جنوبی پنجاب میں قتل آم کے بعد ژالہ باری کا عذاب جون کے وسط تک جاری ہے۔ کڑکتی، لپکتی اور گرتی بجلیاں، بنا سر منڈائے پڑتے اولے اور آفاتی ہوائیں ہم سب کو چکرائے ہوئے ہیں۔ اب اس صورت حال کے پیچھے کسی نیک یا کسی بد نیک حکمران کی کارستانیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ ان گرمیوں میں کبھی کبھار تو دسمبر کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ادھر بچہ لوگ اور استاد گرمیوں کی چھٹیوں کی تہمت لیے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ چادر میں لپٹے بچے اور استاد ہچکچاتے اور لجاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ، تعطیلات موسم گرما، پر ہیں۔

دوسری طرف موسم کی مانند ایک عشرے سے ملکی سیاست میں لگی آگ کے خطر ناک شعلے بھی معتدل دکھائی دینے لگے ہیں۔ گرم ترین سیاسی و اخلاقی منظر نامے میں سرد مہری نے بادی النظر میں ڈیرے ضرور جمائے ہیں بھلے اس کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہی ہو۔ سو اتنے گرم ماحول میں سیاسی ٹھنڈ کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ سب سے اہم اور خوش آئند امر سوشل میڈیا کی مخرب الاخلاق آتش پر کسی حد تک قابو پانا ہے۔ نا تھمنے والا طوفان بد تمیزی موسم کی طرح مائل بہ ٹھنڈ ہے۔ یوں گرمی میں سردی، آتشی سیاست میں خنکی اور لغویاتی سوشل میڈیا میں پڑی ٹھنڈ کے پیچھے جو ہاتھ بھی ہے، کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ وہ دست سروش بھی ہو سکتا ہے اور بیرونی و اندرونی ہاتھ بھی۔ اور اگر کسی ہاتھ کا سراغ نہ لگ پائے تو وردی کا ہاتھ مان کر ہر بات کسی کے سر تھوپنے کی رسم نبھانے میں کیا حرج ہے۔

 

Facebook Comments HS