غلام عباس کا افسانہ ”اوور کوٹ“
غلام عباس کے افسانہ ”اوور کوٹ“ پر ژونگ کی پہلی آرکی ٹائپ Persona کے اثرات ہیں۔ یہ وہ آرکی ٹائپ ہے جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہے۔ مثال کے طور پر ہم شروع سے ایک بات سنتے آ رہے ہیں ”با ادب با نصیب“ یہ چیز نسلوں سے گزر کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ Persona کو ہم ماسک کہہ سکتے ہیں یہ ہمارا Public face ہے۔ یہ آرکی ٹائپ ہم نے اپنے اجتماعی لاشعور سے لی ہے۔
افسانہ ”اوور کوٹ“ اس آرکی ٹائپ کی بہترین مثال ہے کیونکہ اس افسانہ کے کردار نے بھی ایک ماسک پہنا ہوا ہے اس نوجوان کے ظاہر اور اس کی حقیقت میں بڑا فرق ہے۔ یہ افسانہ ہمیں سکے کے دو رخ دکھاتا ہے۔ غلام عباس نے جب کہانی کا آغاز کیا تو وہ ہمارے سماج تو وہ ہمارے سماج کی ایک پرت ہے۔ اور جب اس کا اختتام کیا تو معاشرے کی دوسری پرت کھولی اور یہی ہمارے سماج کا اصل چہرہ ہے۔
افسانہ کے آغاز میں غلام عباس نے ہمیں جو منظر دکھایا ہے وہ ہمارا Public face ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم دو زندگیاں جی رہے ہوتے ہیں۔ یعنی ایک وہ زندگی جو ہم اپنے لیے جیتے ہیں اور دوسری وہ جو ہم دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ دوسروں کے لیے جینے کا یہ عمل خاصا مشکل ہے۔ لیکن بسا اوقات ہمیں اپنے عہد کے سماجی رویوں کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ اور اس کے لیے ہم وہ امور بھی انجام دیتے ہیں جو ہماری شخصیت کا حصہ ہوتے ہی نہیں۔
افسانہ کا مرکزی کردار نوجوان بھی اسی اذیت سے گزرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جو روپ اس نے دھارا ہے وہ اس کی حقیقت نہیں ہے بلکہ اس نے خوشی سے یا مجبوری کے تحت اسے اپنایا ہے۔ بہرحال اسے اس لیے کرنا کیونکہ یہ اس کی معاشرتی ضرورت یا مجبوری ہے۔ یہ نوجوان جو شام کے وقت مال روڈ پر خراماں خراماں چل رہا ہے اس نے اپنی وضع قطع اپنے عہد کے بابو لوگوں والی بنائی ہوئی ہے۔ یعنی ایک خوبصورت اور صاف ستھرا اوور کوٹ زیب تن کیا ہوا ہے۔ سر پر فلیٹ ہیٹ ایک خاص انداز میں رکھی ہوئی ہے اور ہاتھ میں بید کی ایک چھڑی ہے۔ یہ سارا گیٹ اپ جو اس نے کیا ہوا ہے یہ اس کی اصل حقیقت نہیں ہے۔
یہی منظر نامی غلام عباس کے افسانہ ”کتبہ“ میں بھی نظر آتا ہے۔ ”کتبہ“ کا شریف حسین ایک معمولی کلرک ہونے کے باوجود عمدہ ذوق اور جمالیات رکھنے والا شخص ہے۔ لیکن کلرک کی تنخواہ سے وہ جس طرح زندگی کو گھسیٹ کر جینے کے اسباب بنا رہا ہے اس کی یہ حسیات اندر ہی اندر دبی ہوئی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ اس معمولی تنخواہ سے صرف گزارہ کر سکتا ہے گھر نہیں بنا سکتا۔ لیکن وہ سماجی مجبوریوں کے تحت گھر بنانے کی خواہش رکھتا ہے۔ اور کباڑیے سے سنگ مرمر کا ایک ٹکڑا خرید کر اس پر اپنا نام بھی لکھوا لیتا ہے۔ کہ جب وہ گھر بنائے گا تو یہ ٹکڑا اس پر لگے گا۔ یہ شریف حسین کا Public face ہے یعنی اسے معلوم ہے کہ وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی وہ اپنے اوپر ایک خول چڑھا لیتا ہے۔ ان خیالات کا خول کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔
بعض اوقات ہم یہ چہرہ اس لیے اپناتے ہیں تا کہ ہم سماج کے ساتھ چل سکیں۔ اور بسا اوقات ہمیں اس سے تسکین بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ جب ہم اپنی حقیقت چھپا کر وہ روپ دھارتے ہیں جو ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے تو ہم ایک طرح کے احساس کمتری سے نکل آتے ہیں۔ یہی صورت حال افسانہ ”اوور کوٹ“ میں بھی نظر آتی ہے۔ نوجوان جو بہروپ اختیار کرتا ہے اس سے وہ دوسروں کو دھوکہ دینے میں کسی حد تک کامیاب بھی رہتا ہے۔ اس میں چال ڈھال میں ایک خاص بانکپن ہے کہ تانگے والے دور ہی سے دیکھ کے سر پٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کی طرف لپکتے ہیں۔
وہ بھی اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتا ہے اور چھڑی کے اشارے سے نہیں کہہ دیتا ہے۔ ایک خالی ٹیکسی بھی اسے دیکھ کر رکتی ہے مگر اسے نو تھنک یو کہہ کر ٹال دیتا ہے۔ تانگے اور ٹیکسی والوں کو دیکھ کر اس نوجوان پر کسی امیر کبیر بابو کا گمان ہوتا تھا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی جیب میں انھیں دینے کے لیے کرایہ ہی نہیں۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ سب دیکھ کر اسے ایک گونا تسکین حاصل ہوتی ہے۔ پان والے لڑکے کو دیکھ کر نوجوان اپنی اسی ڈھال کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اپنی طرف بلاتا ہے اور اس سے دس روپے کا چینج طلب کرتا ہے حالانکہ اس کی جیب میں صرف اپنی اکنی ہوتی ہے۔ اس کا یہ خول اس وقت ٹوٹتا ہے جب ایکسیڈنٹ کے بعد ہسپتال میں اس کے کپڑے اتارے جاتے ہیں تو اس کہ جیب سے صرف ساڑھے چھ آنے نکلتے ہیں۔
یہی منظر نامہ غلام عباس کے افسانہ ”بہروپیا“ میں بھی نظر آتا ہے۔ اس کی کہانی ایک غریب طبقے کے گرد گھومتی ہے۔ اس متوسط طبقے میں ایک صاحب زادے بھی ہیں جو ایک پرانی حویلی میں رہتے ہیں اور اپنے نام کے ساتھ رئیس اعظم لکھنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ یعنی وہ شخص جس ایک درمیانے طبقے سے تعلق رکھتا ہے وہ بھی اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ اسے رئیس اعظم کہا جائے۔ یعنی درحقیقت تو وہ ایسا نہیں ہے مگر بننے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔
اس کا خود کو رئیس اعظم کہلوانا بھی Persona ہی کی ایک صورت ہے۔ اس طرح بسا اوقات انسان وہ زندگی جی رہا ہوتا ہے جو وہ جینا نہیں چاہتا لیکن وہ دوسروں کے لیے ایسا کرنے پر مجبور ہے۔ اور اس میں انسان کا کوئی اتنا دوش بھی نہیں ہوتا۔ ممتاز مفتی کا افسانہ ”دو مونہی“ بھی اسی صورت حال کا پیش خیمہ ہے۔ جس میں دو زندگیاں جیتی ہوئی ایک لڑکی نظر آتی ہے۔ وہ لڑکی پن سے نکل آتی ہے مگر خود کو عورت تسلیم نہیں کرتی۔ وہ سوچتی ہے سیانے کہتے ہیں دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں ہوتیں۔ یا تو جیو یا خود کو جیتے رکھو۔
”اوور کوٹ“ کا نوجوان بھی وہ زندگی جینے کی کوشش کرتا ہے جس سے وہ سماج میں نمایاں نظر آ سکے۔ اس لیے وہ ایک خوبصورت خول کے اندر چھپ کر جینا چاہتا ہے وہ خول جسے ہمارا سماج قبول کرتا ہے۔ غلام عباس کا افسانہ ”سایہ“ بھی ایک منظر نامے کا ایک عکس ہے۔ جس میں انھوں نے کوچوانوں کی اصل حقیقت اور ان کے ظاہری خول کو واضح کیا ہے۔ جو یوں تو کمر کے نیچے سے پھٹا ہوا خاکی پاجامہ پہنتے ہیں مگر قینچی سے کم درجے کا سگرٹ پینا ان کی طبع کو پسند نہیں۔
اور جب پیاس لگتی ہے تو پانی کی بجائے برف میں لگے ہوئے لیمن کے ادھے سے ان کی تسکین ہوتی ہے۔ ”اوور کوٹ“ کا نوجوان سینما کے باہر لگی ہوئی نئی آنے والی فلموں کی تصاویر بھی دیکھتا ہے۔ انگریزی موسیقی کی دکان میں موسیقی پر کتب اور ساز اور پھر قالینوں کی ایک دکان سے ایرانی قالین بھی دیکھتا ہے لیکن وہ کچھ بھی خرید نہیں سکتا۔ دراصل وہ ان چیزوں کو خریدنے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔ ممکن ہے اس کے پیچھے غلام عباس نے نوجوان کی یہ سائیکی دکھانے کی کوشش کی ہو کہ شام کے وقت عموماً لوگ خریداری کے لیے جاتے ہیں اور مختلف چیزوں کو دیکھ کر خریدتے ہیں۔
وہ بھی ایسا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ سعادت حسن منٹو کے افسانے ”سوراج کے لیے“ اور ”پانچ دن“ اس حوالے سے بہترین مثالیں ہیں۔ افسانہ ”پانچ دن“ میں منٹو نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد سے جھوٹ اور بے ایمانی کا عنصر بھی لیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار سکینہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے : یہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں فلسفیانہ بکواس ہے، سیدھی بات تو یہ ہے کہ میں اپنا کریکٹر اونچا کرتا رہا اور خود انتہائی پستیوں کے دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ میں مر جاؤں گا اور یہ کریکٹر۔ یہ بے رنگ پھریرا میری خاک پر اڑتا رہے گا۔
”اوور کوٹ“ کا نوجوان ان سب مناظر کو دیکھتے ہوئے اور کچھ خریدے بغیر مال روڈ پر چلتے ہوئے ڈاک خانے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں ایک جوڑے کے پیچھے مال روڈ عبور کرتے ہوئے وہ اینٹوں۔ سے بھری ایک لاری کی زد میں آ کر کچلا جاتا ہے۔ اسے ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔ اوور کوٹ اتارنے پر نیچے سے ایک بوسیدہ اونی سویٹر نکلتا ہے جس میں جا بجا سوراخ ہیں۔ ان سوراخوں سے سویٹر سے بھی زیادہ میلا کچیلا ایک بنیان نظر آتا ہے۔ جسم پر میل کی خوب تہیں چڑھی ہوئی ہیں۔ پتلون کو پیٹی کے بجائے ایک پرانی دھجی سے جو شاید کبھی نکٹائی ہو گی خوب کس کر باندھا گیا ہے۔ بٹن اور بکسوئے غائب ہیں۔ ایک پاؤں کی جراب دوسرے پاؤں کی جراب سے مختلف ہے اور دونوں جرابیں پھٹی ہوئی ہیں۔
”اوور کوٹ“ کا نوجوان جو خود کو ایک نفیس لبادے میں چھپاتا ہے، ایک جگہ پہنچ کر جب اس کا وہ لبادہ اتارا جاتا ہے تو جو صورت حال سامنے آتی ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ دراصل افسانہ نگار نے ”اوور کوٹ“ کے پس منظر میں ہمارا اجتماعی رویہ بیان کیا ہے۔ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہم خود پر ایک اوور کوٹ چڑھا لیتے ہیں۔ جس سے کم دوسروں کو صرف وہی دکھاتے ہیں جو ہم دکھانا چاہتے ہیں۔ لیکن کیا ہماری اصلیت ”اوور کوٹ“ کے نوجوان کی طرح کسی نہ کسی مقام پر سب کے سامنے نہیں آتی؟ یقیناً اس کا جواب ہاں میں ہے۔ اس افسانے میں ہمارے معاشرے کی اجتماعی صورت حال دکھائی گئی ہے۔ نوجوان کا ظاہری حلیہ دراصل ہمارے سماج کا ظاہری روپ یعنی Persona ہے۔ اور حادثے کے بعد نوجوان کی جو اندرونی حالت سامنے آتی ہے وہ ہمارے سماج کا حقیقی چہرہ ہے۔
ژونگ نے بھی اس ادب کو پر اثر کہا ہے جو کسی ایک شخص سے نکل کر پوری قوم یا عوام کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ جس میں کوئی شخصی چھاپ نہیں ہوتی۔ اردو ادب میں اس کی نمایاں مثالوں میں میر تقی میر، مرزا غالب اور علامہ محمد اقبال کی شاعری قابل ذکر ہے۔ اس ضمن میں علامہ اقبال کی نظمیں ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ ، ”خضر راہ“ اور ”جاوید نامہ“ نمایاں ہیں۔ انھوں نے اپنے کلام سے اپنی ذات کو نکال دیا۔ اسے آفاقی رنگ اور اجتماعیت عطا کی۔
علاوہ ازیں جوش ملیح آبادی کی آپ بیتی ”یادوں کی بارات“ ، اختر الایمان کی خود نوشت ”اس آباد خرابے میں“ ، ممتاز مفتی کا سفر نامہ ”لبیک“ ، مستنصر حسین تارڑ کا سفر نامہ ”منہ ول کعبے شریف“ ، عبداللہ حسین کا ناول ”اداس نسلیں“ ، شوکت صدیقی کا ناول ”خدا کی بستی“ ، سعادت حسن منٹو کے افسانے ”سہائے“ ، ”کھول دو“ ، ”نیا قانون“ ، ”ہتک“ ، ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ ، راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ ”لاجونتی“ اور پریم چند کا افسانہ ”کفن“ اس حوالے سے بہترین مثالیں ہیں۔ جنھیں ان کے تخلیق کاروں نے اجتماعی رنگ دیا۔ افسانہ ”اوور کوٹ“ کی بھی یہ نمایاں خوبی ہے۔


