خاندانی نیوز چینل اور خواتین


زندگی میں کئی عقدے وا کیے، کئی سوالات کے جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہوا اور کئی ایسی چیزوں، باتوں اور نظریات کی وہ بنیادیں تلاش کرنے میں محو رہا جس کی اساس پر وہ معاشرے میں اپنی الگ پہچان اور الگ معیار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مگر دو چیزوں کی اصلیت جان نہ پایا۔ زندگی کی بیس بہاریں دیکھ چکا ہوں لیکن آج تک محو حیرت ہوں کہ آخر وہ کیا وجہ تھی کہ عورت اور لونڈوں کو تخلیق کرنا پڑا۔ وہ کیا غیبی دباؤ تھا جس کی بنیاد پر سماج میں عورت کو شامل کرنا پڑا۔

میں نہ مرد کا حامی ہوں اور نہ ہی عورت کا طرف دار۔ اور لونڈے لپاڑے کہلانے والی مخلوق سے عرصہ ہوا، راہیں جدا کر چکا ہوں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بھئی یہ لونڈے کیا ہوتے ہیں؟ مجھے یاد پڑتا کہ اس موضوع پر آپ سے پہلے ہی ”ہم سب“ پر ”لونڈے لپاڑے“ کے عنوان کے تحت گفتگو کر چکا ہوں۔ اب میں اتنا فارغ ہوں نہیں کہ دوبارہ وہی رام کتھا سنانے لگ جاؤں۔ اور اگر سنا بھی دوں تو آپ کہیں گے کہ کیا عجب آدمی ہے چبائی ہوئی باتوں کو دوبارہ چبا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ آپ یہ الزام بھی دھرنے لگیں کہ لگتا ہے کہ ساٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ کر بوڑھا ہو چکا ہے۔

اور آپ کو معلوم ہے کہ بندہ یہ تو برداشت کر سکتا ہے کہ یہ ”آدمی کسی کام کا نہیں رہا“ لیکن یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ اسے کہا جائے کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے۔ اور مثل تو آپ کو یاد ہی ہے۔ ہاں تو میں بات کر رہا تھا کہ عورت بھی کیا شاندار مخلوق ہے۔ خدا نے جب عورت بنائی ہو گی تو شاید وہ ساتھ کوئی اور کام بھی سر انجام دے رہا ہو گا، اس وجہ سے عورت کے خمیر میں کچھ اجزاء زیادہ شامل ہو گئے اور عورت کچھ اضافی اوصاف کی حامل ٹھہری۔ اور یہی وہ اوصاف کاملہ ہیں جن کی بنیاد پر عورت روز ازل سے ہی مرد کو کوستی آ رہی ہے کہ اس کی اس جہان میں اہمیت ہی کیا ہے۔ اور اوپر سے اقبال نے یہ کہہ کر اس کی ہمت میں مزید اضافہ کر دیا ہے کہ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

اور اگر مرد اس بات کی مخالفت کرتے ہوئے کوئی بات کرنا چاہے تو عورت (یہاں عورت سے مراد بیوی ہے ) جھٹ جگر بریلوی کا شعر کہہ اٹھے گی کہ:

وہ مرد ہے جو کبھی شکوۂ جفا نہ کرے
لبوں پہ دم ہو مگر نالہ و بکا نہ کرے
پھر کہے گی کہ تم شکوہ کر رہے ہو اس وجہ سے تم مرد ہو ہی نہیں سکتے۔ بندہ لاجواب نہ ہو تو کیا کرے۔

خواتین کی انہی خصوصیات کی وجہ سے جہاں کئی فسادات برپا ہوئے وہاں معاشرتی حسن میں صد جہت اضافہ بھی ہوا۔ میرے نزدیک فسادات سے زیادہ معاشرتی حسن شدت سے در آیا۔ انہیں صد جہات میں سے ایک جہت ان کی ”خبر رساں“ ادارہ کی صورت اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ میں بات شہر کی عورتوں کی نہیں کر رہا کیونکہ شہر کی عورت کے پاس وقت ہی کہاں ہوتا ہے۔ میں بات کر رہا ہوں کسی دور دراز علاقے میں بسی ان عورتوں کے متعلق جن کی خاندانی معلومات کا واحد ذریعہ فون ہوتا ہے۔

گاؤں کا خاندان ایسے کنبوں پر مشتمل ہوتا ہے، جن کی محبت اتنی ہی گہری ہوتی ہے جتنی دو سوتن عورتوں میں۔ اس وجہ سے وہ ایک گاؤں میں نہیں بلکہ چار پانچ گاؤں میں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ محبت کی شدت ایک دوسرے کے ہاں ملاقات کی خاطر تشریف لے جانے میں مانع ہوتی ہے۔ اس وجہ سے کنبہ کی عورتیں تمام کام فون سے ہی لیتی ہیں۔ اگر ایک خاندان پانچ کنبوں پر مشتمل ہے تو ہر کنبہ الگ گاؤں میں رہائش پذیر ہوتا ہے۔ کنبہ کی جہاں اور کئی خصوصیات ہیں وہاں ایک یہ بھی ہے کہ کنبہ کی بڑی یا بوڑھی عورت کا کنبہ میں وہی مقام ہوتا ہے جو ایک نیوز چینل کے چیف ایگزیکٹیو کو حاصل ہوتا ہے۔

اور کنبہ کی دیگر عورتیں نیوز رپورٹر کا کام سر انجام دیتی ہیں۔ رات کے نو بجتے ہی جس طرح نیوز چینلز پر شہ سرخیاں شروع ہوتی ہیں ایسے ہی خاندان کی بیبیاں کانفرنس کال پر ہر کنبہ کی شہ سرخیاں پہنچانا شروع کرتی ہیں۔ ایک کہے گی ”نی گل سن، راجو دی سس نے راجو نوں گھروں کڈ دتا ای“ دوسری کہے گی کہ ”میں تینوں کی دساں، باتے دی بہن کالو نال نس گئی آ“ شہ سرخیاں پہنچانے کے بعد باری آتی ہے ان عورتوں کی جو خود کو رپورٹر کے ساتھ ساتھ تجزیہ کار بھی تسلیم کرتی ہیں۔

وہ گھر کے تمام کام نپٹانے کے بعد فون پر تجزیے پیش کریں گی اور امثال کے ساتھ خبر کی تہہ کو اجاگر کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گی۔ جہاں خاندان کا ہر گھر ایک نیوز چینل کا کام دیتا ہے وہاں ہر خاندان نیوز ایجنسی کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ مخالف خاندانی ایجنسی سے خبریں حاصل کرنے کے لیے دو طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس خاندان کی کسی رپورٹر کی کال ریکارڈ کر لی جائے اور بعد میں بلیک میلنگ کے ذریعے خبریں حاصل کی جائیں یا پرانی خاندانی رشتہ داری نکالی جائے اور خبروں کا بہم تبادلہ کیا جائے۔ عالم گواہ ہے کہ عمل ہمیشہ پہلے طریقہ پر ہی ہوتا آیا ہے۔ بات کیا بیان کروں اور کہاں تک بیان کروں۔ موضوع وسیع ہے اور وقت کم۔

بس مرد حضرات کو ایک مشورہ دیتے ہوئے آپ سے وداع لیتا ہوں کہ اگر کسی دوسرے گھر کی کوئی عورت آپ کی کسی نازیبا یا شائستہ حرکت پر آپ کو دشنام طرازی کا نشانہ بنائے تو آپ خاموشی سے پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے گھر کی عورت کو آگے کر دیں۔

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب عورت مقابل ہو تو عورت نکالو

لیکن یہ خیال رہے کہ وہ عورت جسے دنگل میں اتارنے لگے ہو، آپ کی بیوی نہ ہو۔ ورنہ آپ کی حالت وہی ہو گی جو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان رکھے دانے کی ہوا کرتی ہے۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais