باجوہ صاحب ،اور سوشل میڈیا دانشوروں کا رویہ



کہا جاتا ہے کے کسی شخص کے ظرف کو ماپنا ہو تو اس سے اختلاف کر کے دیکھو، آپ کے سامنے اس کے باطن کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔ اس اصول کے تحت موجودہ دور میں آپ ایک مخصوص سیاسی شخصیت کی طرف جھکاؤ رکھنے والی عوام کا اگر ظرف دیکھنا چاہتے ہیں تو یہی فارمولہ اپنا سکتے ہیں۔ مگر یہ فارمولہ اس جماعت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اہل دانش پر بھی واضح ہو جاتا جب فرانس میں جنرل باجوہ صاحب کے ساتھ ایک پشتون بدتمیزانہ لہجہ اختیار کرتا ہے اور کچھ شعرا اور ادیب حضرات اس ویڈیو کی آڑ میں اپنے دل کے تعصب کو سامنے لا کر، اس پشتون جو کے باجوہ صاحب کو گالم گلوچ کر رہا ہے جب کے ان کی خاتون ساتھ موجود ہیں، اس بد تمیز شخص کو سراہ رہے ہیں۔

اختلاف ہونا کوئی جرم نہیں بلکہ صحت مند دماغ اور معاشرے کی نشانی ہے مگر اختلاف کے ساتھ اخلاق کا گرا ہونا، ذہنی پستی کی علامت ہے اور وہ قوم ہو یا کوئی سیاسی جماعت۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کے افواج کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ ان کوتاہیوں اور عناصر کو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کے آ کیا وجہ ہے کے لوگ اس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ آپ اسٹیبلیشمنٹ کی پالیسیوں سے اختلاف کریں مگر کسی شخص کی ذاتی زندگی کو ٹارگٹ بنانا اور وہ بھی اس قدر اخلاقی پستی سے بالکل بھی سراہے جانے کے لائق نہیں

بلکہ فریحہ نقوی صاحبہ سے معذرت کے ساتھ کے
” اب“ آپ کو منہ نہیں لگایا تو
آپ گالم گلوچ پر اتر آئے

یہ گالم گلوچ کلچر جس جماعت نے متعارف کروایا وہ لوگ آج اس کے اس بوئی ہوئی فصل کا پھل کاٹ رہیے ہیں مگر سوال یہ ہے کے وہ پھل مفید ہیں یا افیم کی کاشت کی طرح جو عوام کو وقتی شانتی تو دیتی ہے مگر حقیقت سے کہیں دور ایک تخیلاتی دنیا میں جہاں صرف مذہب کارڈ کا استعمال کیا جاتا ہے یا جب کام نہ بنے تو فوج مخالف نعرہ (یہ کام ہر سیاسی جماعت کرتی آئی ہے، یہی وجہ ہے کے، ضرورت کے مطابق سب تاش کے پتوں کی طرح استعمال کیے جاتے ہیں )

بہر حال بات دور نکل گی فرانس میں کی جانے والی بد تمیزی تو قابل مذمت ہے ہے مگر ان اہل قلم کے قلم بھی قابل مذمت ہیں جن کی قلم نے بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنے قلم سے فرانس کے واقعہ کی تائید کی اور اور سیاسی تزلزل کو جسٹیفائی کیا، بلکہ پنجابی میں جس کو ہاں ٹھنڈا کیتا، کہتے ہیں کیا۔

‏ٹالسٹائی نے ایک دن غلطی سے کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھ دیا تو اس شخص نے خوب گالیاں دیں۔
خاموش ہوا تو ٹالسٹائی نے معذرت کی اور کہا ”میں ٹالسٹائی ہوں
وہ شخص شرمندہ ہو کر کہنے لگا کہ کاش آپ پہلے اپنا تعارف کرواتے
ٹالسٹائی نے کہا
آپ اپنا تعارف کروانے میں مصروف تھے اس لئے مجھے موقع نہیں ملا۔ (منقول)

Facebook Comments HS