اقبال اور تہذیب مغرب


علامہ اقبال نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مغربی دنیا کا سفر کیا۔ مغربی علوم اور جدید فلسفہ و ادب سے تو انھوں نے استفادہ کیا لیکن مغربی تہذیب سے وہ متفق نہ ہو سکے۔ وہ جس قدر مغربی تہذیب کے قریب تر ہوتے گئے ان کے ذہن جب اس کے خلاف ردعمل پیدا ہوتا گیا۔ قیام یورپ کے دوران ہی مغربی تہذیب کے بارے میں اقبال نے یہ رائے قائم کر لی تھی:

تمہاری تہذیب، اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا

علامہ اقبال نے مغرب کی تمدنی اور معاشرتی خوبیوں کی تعریف بھی کی ہے، کہ وہ لوگ وقت کے بڑے پابند ہیں اور اس کا پورا پورا دھیان رکھتے ہیں۔ اہل مشرق کی طرح اس معاملے میں کوئی سمجھوتا نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ چیز ان کی ترقی کی ضامن ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ وہ صفائی کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ اور کاروباری معاملے میں کسی کے ساتھ بھی بددیانتی نہیں کرتے۔ مگر انھیں خدشہ تھا کہ کہیں ہم مشینی ترقی کی ظاہری شان و شوکت میں الجھ کر نہ رہ جائیں۔ علامہ اقبال کو بہت جلد احساس ہو گیا تھا کہ یہ شان و شوکت فقط دکھاوا ہے اور اس کے ظاہر و باطن میں بڑا تضاد ہے۔ تو اس کے بارے میں اقبال نے جو رائے قائم کی:

فساد قلب و نظر ہے، فرنگ کی تہذیب
کہ روح، اس مدنیت کی، رہ سکی نہ عفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیر پاک و خیال بلند و ذوق لطیف

علامہ اقبال نے مغربی تہذیب کا جب مزید مطالعہ کیا تو انھیں بخوبی اندازہ ہوا کہ یہ جو ظاہری چمک دمک ہے یہ اندر سے کتنی تاریک تر تہذیب ہے۔ اس کا تذکرہ یوں کرتے ہیں :

نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے
کہ بجلی کے چراغوں سے ہے، اس جوہر کی براقی
”بال جبرئیل“ کی نظم ”لینن“ میں مغربی تہذیب کی حقیقت یوں واضح کرتے ہیں :۔
یورپ میں بہت، روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
رعنائی تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے کے ہیں بنکوں کی عمارات
یہ علم و حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات؟
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اقبال کو مغرب سے جس بات کا سب سے زیادہ اختلاف تھا وہ یہ ہے کہ مغرب میں دین کا کوئی تصور نہیں۔ وہ لادینیت پر قائم ہونے والا ایک معاشرہ ہے۔ اور اقبال کے نزدیک جس معاشرے میں دین کا کوئی تصور نہیں اس کی ظاہری شان و شوکت بھی بے کار ہے۔ مغربی لادینیت کے بارے میں کہتے ہیں :

مری نگاہ میں ہے یہ سیاست لادیں
کنیز اہر من و دوں نہاد و مردہ ضمیر
ہوتی ہے ترک کلیسا سے حاکمی آزاد
فرنگیوں کی سیاست ہے دیو بے زنجیر
مثنوی ”پس چہ باید کرد“ میں مغربی لادینیت کے بارے میں کہتے ہیں :
یورپ از شمشیر خود بسمل فتاد
زیر گردوں، سم لادینی نہاد

جب اہل مشرق، مغربی سحر میں جکڑ رہے تھے تو اقبال نے اس مرعوبیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ انھوں نے جب مغربی دنیا کا بغور جائزہ لیا تو ان کے سامنے اسلام کی اہمیت واضح ہو گئی۔ اور مغربی دنیا پر اسلام کو فوقیت دی۔ اقبال ذہنی طور پر کا ادراک تو رکھتے تھے لیکن یورپی دنیا سے واقفیت کے بعد وہ قلبی طور پر اسلام کی حقیقی روح سے بھی آشنا ہو گئے۔ یورپ کی مادہ پرست تہذیب اور لادین سیاست کے محرکات و نتائج کے گہرے مطالعے نے اقبال کے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں زیادہ مغرب مخالف تنقید ہی ملتی ہے۔ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ اس کے اندر اور باہر فساد ہی فساد دکھائی دیتا ہے گویا یہ تمام کارخانہ ابلیس کی تجلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کو مسلمانوں کی فلاح کی ضمانت سمجھتے ہیں۔

اس ساری بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اقبال نے مغرب کی علمی ترقی اور سماجی خوبیوں کا اعتراف تو کیا مگر وہ اس کی ظاہری شان و شوکت کو جانچ گئے۔ اس سے مرعوب نہ ہوئے اور اس پر اسلامی نظریہ حیات کو فوقیت دی۔

Facebook Comments HS