متاع وقت اور کاروان علم
ابن الحسن عباسی صاحب کے نام سے کون واقف نہیں۔ شباب کی سرمستیوں سے لے کر زندگی کی آخری گھڑی تک قرطاس و قلم سے محبت و عشق کا سلسلہ جاری رکھا۔ علم و دانش کے جویا۔ زبان و ادب کے رسیا۔ مطالعہ و تحقیق کے میدان میں پابہ جولاں۔ ہر خاص و عام کی علمی سطح کے مطابق متنوع موضوعات پر خامہ فرسائی فرمائی۔ اردو زبان کے معیار کو بڑھانے، اس کی ساخت و ساز اور لسانی قد و کاٹھ کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے قلم کو فقط طبیعت کی گرانی کو دور کرنے کے لیے احساس کو لفظوں میں نہیں ڈھالا بلکہ ایک مقصد اور ہدف کے مطابق زبان و ادب کی لسانی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہو انتہائی خوبصورت تحاریر سے نوجوان نسل کو اپنی جانب مبذول کیا۔
آپ جامعہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل تھے۔ جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کے استاذ اور دار التصنیف کے رکن رکین تھے۔ آپ رسالہ ”النخیل“ کے مدیر اعلی بھی تھے۔ خدا نے آپ کو مطالعہ و تحقیق کے ساتھ ادبی ذوق و ظرافت کی نعمت سے بھی نواز تھا۔ میرا مقصود ابن الحسن عباسی صاحب کی حیات پر لکھنا نہیں بلکہ آپ کی شہرہ آفاق کتاب ”متاع وقت اور کاروان علم“ کے بارے میں کچھ باتیں سپرد قرطاس کرنا ہے۔ امیر جان حقانی صاحب گلگت بلتستان کے معروف کالم نگار ہیں۔
ان کی کسی تحریر میں اس کتاب کے بارے میں پڑھا پھر دل میں اس کتاب کو پڑھنے کا خیال پختہ تر ہو گیا۔ بالآخر کل شب 11 بجے مطالعے کی میز پر لیپ ٹاپ کو آن کر کے ”متاع وقت اور کاروان علم“ کو پڑھنے بیٹھا تو اتنی کشش تھی کہ ایک ہی نشست میں صبح کی سپیدی پھیلنے سے پہلے پڑھ کر ہی دم لیا۔ واقعتا وقت کی قدر و قیمت اور نظام الاوقات (ٹائم مینجمنٹ ) کی اہمیت پر اتنی شاندار کتاب مارکیٹ میں شاید ہی دستیاب ہو۔ مستزاد مشاہیر اہل علم و قلم کے احوال مطالعہ کو پرا کندہ کتابوں سے کشید کر کے ایک جگہ پر ترتیب سے پڑھنے کے لئے دستیاب ہونا ایک نعمت سے کم نہیں۔
مشاہیر کے طرز مطالعہ سے آشنائی جہاں ذوق مطالعہ کو مہمیز کرتی ہے وہاں دل میں مطالعہ و تحقیق کی چنگاری کو سلگانے میں کلیدی کردار بھی ادا کرتی ہے۔ اس کتاب کی زبان اپنی شستگی، سلاست، شگفتگی اور روانی کے اعتبار سے ادبی شاہکار ہے۔ اسلوب بیان ایک کامیاب ادبی اسلوب جبکہ برمحل اشعار و ضرب المثل کا استعمال زبان و ادب پر قدرت حاصل ہونے کا بین ثبوت ہے۔ اس کتاب کو مصنف نے دو باب میں سمویا ہے۔ باب اول میں وقت کی قدر و قیمت کے مختلف پہلوں پر قرآن و حدیث اور اکابر اہل علم کی فرمودات کی روشنی میں عالمانہ و ادیبانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اس باب میں مختلف دلکش عناوین کے تحت دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ وقت کی رفتار کو مصنف نے کس انداز میں ایجاز کے ساتھ بیان کی ہے دیکھیے :
رو میں ہے رخش عمر!
”بچپن کی معصوم شوخیاں کس قدر ماضی کی حسین یادیں بن جاتی ہیں، عہد شباب کا سیل تندر وقت کے کوہ بیابان کو رفتار کی کس تیزی سے طے کر کے انسانی زندگی کا افسانہ پارینہ بن جاتا ہے۔ اور کہولت و بڑھاپے کی سنجیدگیوں کے دشت میں دوڑنے کے بعد جب زندگی کے اختتام پر راہ حیات کا مسافر برسوں کا لمحات پر مشتمل قافلہ وقت پر طائرانہ نظر ڈالتا ہے تو اس کی بچپن، جوانی کہولت، اور بڑھاپے کی شام و سحر سے مرکب حیات مستعار ایک ایسا خواب لگتا ہے جس کی ابتدا کا ابھی پوری طرح شعور بھی نہ ہوا ہو کہ آنکھ کھلنے سے اس کے اختتام کا مرحلہ بھی سر ہو جائے“
اس باب میں ”لفظ“ کل ”ایک دھوکہ“ پھر پچھتائے کیا ہوت، وقت ہی زندگی ہے، وقت کو کام میں لائے،
چند غیر مسلم شخصیات کی وقت شناسی اور وقت کی قدردانی کو بیان کرتے ہوئے نپولین، فرینکلن، سر والٹر سکاٹ کی کامیابیوں کے تذکرے کیے ہیں۔ جس سے قاری میں وقت کی اہمیت، نظام الاوقات (ٹائم مینجمنٹ ) کی پابندی اور وقت سے درست استفادہ کرنے کا لگن پیدا، جذبہ و شوق مطالعہ پیدا ہوتا ہے۔
”وقت اہل علم کی نظر میں“ کے عنوان کے تحت مختلف اکابر اہل علم و اساطین قلم کے فرمودات کو نقل کیا ہے جس سے وقت اہمیت و قیمت کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ وقت کی کیا اہمیت ہے جو ہم لاشعوری میں رائگاں کر رہے ہیں۔
باب دوم ”کاروان علم“ کے عنوان کے تحت تاریخ اسلام کے قرن اول سے عصر حاضر تک کے اکابرین و اساطین علم کی احوال مطالعہ کو مختلف کتابوں کے اوراق سے چھان کر یکجا زیب قرطاس کیا ہے۔ واقعتا ان احوال کو پڑھ کر دل کرتا ہے کہ ہم بھی دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر دنیا و مافیا سے بے خبر ایک گوشے میں شب کی سیاہی کو صبح کی سپیدی میں تبدیل ہونے تک کتابوں کی ورق گردانی میں گزار دیں اور ان اوراق سے پھیلتی خوشبووں سے طبع شوریدہ کی تسکین کا ساماں فراہم کریں۔
اسی باب میں مصنف ”ابن جوزی، کی زبانی ابن جوزی کے احوال مطالعہ لکھتے ہیں :“ میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی، جب کوئی نئی کتاب نظر پڑ جاتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا اگر میں کہوں میں نے طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو بہت زیادہ معلوم ہو گا۔ اسی کے تسلسل میں لکھتے ہیں :میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانہ کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار کتابیں ہیں، جب ان کی تصانیف کا اندازہ لگایا گیا تو روزانہ نو جز کی تالیف کے حساب سے تصنیفی رفتار کا نتیجہ نکلا ”۔
مشہور نحوی امام ابن مالک اندلسی کے بارے لکھتے ہیں :ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سیرو تفریح کے لیے نکلے راستے میں ساتھیوں کی توجہ نہ رہی آگے نکلے تو آپ غائب تھے، جب تلاش شروع کیا تو کیا دیکھتے ہیں امام مالک کسی گوشے میں مطالعہ میں مصروف ہیں۔
دنیائے اسلام کے شہرہ آفاق سائنس دان نابغہ روزگار فلسفی ابن سینا کے بارے میں لکھتے ہیں :دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا، حساب، ادب کلام، طب، قانون، فقہ کا بالاستیعاب مطالعہ کیا، اسی تسلسل میں لکھتے ہیں :کہ اٹھارہ سال کی عمر تک وہ دن رات پڑھنے میں مشغول رہے، وہ محنت و مطالعہ کے عالم پوری رات نہیں سوئے، کتب بینی رات کا مشغلہ تھا۔ رات کو نیند آتی تو کچھ پی کر نیند دور کرتے اور مطالعہ میں مشغول ہو جاتے، آگے لکھتے ہیں :مابعد الطبیعات پر ایک کتاب چالیس بار پڑھی، پوری کتاب حفظ ہو گئی مگر سمجھ نہیں آئی تو کسی نے اس موضوع پر فارابی کی کتاب خریدنے کا مشورہ دیا، خریدی، پڑھی، موضوع سمجھ میں آ گیا تو اس علم کے جویا درگاہ خداوندی میں سجدہ ریز ہو گیا۔
طوالت کے خوف سے ایک دو نمونہ مطالعہ احوال پر اکتفا کرتا ہوں۔ واقعتاً کس طرح ان اکابرین علم و اساطین قلم نے اپنی اوقات کو مطالعہ و تحقیق میں صرف کیا پڑھ کر ہر قاری کے دل میں وقت کی اہمیت اجاگر ہوجاتی ہے اور ذوق مطالعہ کی چنگاری دل میں روشن ہوجاتی ہے۔ ابن الحسن عباسی صاحب کی یہ کتاب ہر نوآموز قاری کے پاس ہونا چاہیے اور بار بار پڑھنا چاہیے تاکہ دل میں ذوق مطالعہ کی تپش برقرار رہے۔

