Pakistan left review, then and now
لیکن آج بھی ہم اس زمانے کے بیانیوں اور دلائل سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان لیفٹ ریویو کا مقصد ان دیو قامت شخصیتوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جن کے کندھوں کا ہم آج بھی سہارا لے کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ (یا پھر اس پر آشوب دور میں کچھ لمحات آرام کے گزار سکتے ہیں ) ۔ پاکستان لیفٹ ریویو کے مصنفین کا مقصد ورکرز اور ان لوگوں کو سامنے لانا ہے جنہیں اہمیت نہیں دی گئی یا نظر انداز کیا گیا۔ مارکسی، لیفٹ کے دانشورانہ نکتۂ آغاز کو لے کر چلنے والے یہ لوگ سب سے پہلے اپنے والدین کی روایات سے ٹکرائے۔
وہ اس تاریخ اور مفروضوں کے بھی مخالف تھے کہ نیکو کاری کیا ہے اور ہمیں زندگی میں کیا مطلوب ہے۔ سچ پوچھیے تو انہوں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کام کیا۔ اور کچھ نے تو ساری عمر اس کام کو جاری رکھا۔ 1960 کا عشرہ وہ تھا جب ایشیا اور افریقہ کی بہت سی نو آبادیوں نے یورپ کی غلامی سے آزادی حاصل کی۔ 1968 تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ نو آبادیاتی نظام دیر پا نہیں ہے۔ ذرا سے مبالغے کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1970 تک کے سالوں میں تاریخ کا سفر تیز تر ہو گیا تھا۔
یہ ایک پر آشوب دور تھا لیکن یہ سیاسی فکر اور عمل کے لئے بہت زرخیز زمانہ تھا۔ کتاب کے مرتبین کے تعارفی مضمون کے بعد پہلا مضمون سلیمہ ہاشمی کا ہے۔ جو اس زمانے میں آرٹ کے بارے میں لکھی ہوئی تحریروں کے حوالے سے ہے۔ وہ اس زمانے میں لندن میں تھیں۔ اور ہر اتوار کی سہ پہر کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے ٹریفالگر اسکوائر پر نسل پرستی کے خلاف دھرنا دیتی تھیں۔ یہ لوگ ایٹمی اسلحہ میں تخفیف کی مہم کے لئے مارچ کرتے تھے۔
اس زمانے میں ویتنام کی جنگ کے خلاف گراسوینور اسکوائر پر ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے میں انہوں نے گھڑ سوار پولیس کا بھی مقابلہ کیا تھا۔ یہ برطانیہ کی ساری یونیورسٹیوں، آرٹ اسکولز اور لندن اسکول آف اکنامکس میں دھرنوں کا زمانہ تھا۔ مئی 1968 میں طلبہ نے پیرس میں کاروبار زندگی کو معطل کر دیا تھا۔ اقبال خان نوجوانوں کو اپنی سرگرمیوں کو ڈاکیومنٹ کرنے پر زور دیتے تھے۔ اسی زمانے میں پاکستان میں ایوب خان کا عشرہ ترقی منانے کا آغاز ہوا۔
اقبال خان اور عزیز کرتھا نے لندن میں اس بارے میں بحث کا آغاز کیا اور احباب سے چندہ جمع کر کے ایک رسالہ نکالنے کی تیاری کی گئی۔ یہ پاکستان لیفٹ ریویو تھا، جس کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کی لندن آمد پر ان کا انٹرویو کیا گیا۔ اس پر عزیز کو لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے طلب کر لیا۔ ہائی کمشنر اور کوئی نہیں محمود ہارون تھے، سلیمہ اور دیگر دوست عزیز کے لئے فکرمند تھے مگر منجھے ہوئے سیاستدان اور سفارت کار نے نے ہلکے پھلکے انداز میں عزیز سے بات کی اور رخصت کرتے ہوئے رسالے کے لئے دس پونڈ کا چندہ بھی ان کی مٹھی میں تھما دیا۔
اس جریدے کے لئے سلیمہ کے مضمون کا عنوان“ ریفلیکشن آن آرٹ ”تھا۔ دوسرا مضمون رحمان سبحان کا ہے“ شناخت اور اخراج۔ تین قوموں کا بننا ”۔ اس مضمون میں پاکستانی ریاست کی تشکیل میں شناخت اور اخراج یا علیحدہ کرنے کے مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ شمولیت کے مسئلے کے حل میں ناکامی تقسیم ہند کا سبب بنی۔ پھر شناخت کے اس غیر حل شدہ مسئلے کے تنازعات نے بنگلہ دیش کو جنم دیا۔ اقبال خان لیفٹ ریویو کے شریک مدیر تھے۔ مبارک علی ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ ایک ترقی پسند ادیب اور سماجی اور سیاسی ایکٹوسٹ تھے۔
انہوں نے سندھ یونیورسٹی کے سٹی کالج حیدرآباد سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ امریکہ گئے اور وہیں شادی کی۔ 1990 میں انہوں نے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ اور ایک پبلیکیشن این جی او مشعل کے ایڈیٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔ پاکستان لیفٹ ریویو کے 1968 کے خزاں کے شمارے میں لیفٹ کا نقطہ ء نظر کے بارے میں اداریہ لکھا گیا۔ اس شمارے میں ذوالفقار علی بھٹو کا انٹرویو اور ان کے نام طارق علی کا خط بھی شائع کیا گیا۔
بھٹو نے 1966 میں حکومت چھوڑنے کے بعد مختلف نکات پر حکومت پر تنقید کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ تو پھر وہ خود آٹھ سال تک حکومت میں کیوں رہے؟ اس کے جواب میں بھٹو نے ایوب حکومت کی زرعی اصلاحات کو سراہا اور کہا کہ وہ خارجہ پالیسی میں کچھ تبدیلیاں لانے میں کامیاب رہے تھے اور ایوب حکومت میں ان کی شمولیت کو ملک میں سراہا گیا تھا۔ بھٹو کا کہنا تھا کہ سیاست کے لئے ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس زمانے میں اپنی ٹیم بنانے پر کام کر رہے تھے۔
پیپلز پارٹی بننے کے بعد طارق علی نے بھٹو کو ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ نیشنل عوامی پارٹی نیپ کے ہوتے ہوئے انہیں ایک نئی پارٹی بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ابتدائی شماروں میں انقلاب کی اخلاقی بنیادوں پربھی بات کی گئی۔ پاکستان لیفٹ ریویو میں پہلی بار جو نظم شائع کی گئی وہ فیض کی تھی* چاند نکلے کسی جانب تیری زیبائی کا ۔ رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا ۔ 1969 کے موسم بہار کے شمارے میں رحمان سبحان کا مضمون "حالیہ بحران کی اقتصادی بنیاد” مشرقی پاکستان کے بارے میں اقبال خان کا مضمون شامل تھا۔ عزیز کر تھا نے 1962 کے آئین کا تنقیدی جائزہ لیا تھا۔
اداریہ ایوب خان کا حکومت کو فوج کے سپرد کر کے چلے جانے کے بارے میں تھا۔ اور سوشلسٹ عناصر پرزور دیا گیا تھا کہ وہ متحد ہوجائیں۔ رحمان سبحان بتاتے ہیں کہ ملک۔ میں پائے جانے والی بے چینی کا آغاز شہری اور متوسط طبقے سے ہوا تھا کیونکہ انہیں سیاسی عمل میں شراکت کی آزادیاں اور مواقع حاصل نہیں تھے۔ شہری علاقوں میں سماجی عدم مساوات بہت بڑھ گئی تھی۔ محنت کش طبقہ بھی بے چینی کا شکار تھا۔ دیہی علاقوں میں پائے جانے والی بے چینی کا سبب اقتصادی تھا۔
ایوب حکومت کی زرعی حکمت عملی سے صرف جاگیر داروں اور بڑے زمینداروں کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ مشرقی پاکستان میں سیاست کا مرکز متوسط طبقہ رہا تھا۔ بنگال کے لئے بورژوازی انقلاب جس میں متوسط طبقہ اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے، پاکستان بننے کے بعد کبھی نہ آ سکا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں معیار زندگی اور اقتصادی مواقع میں تفاوت مغربی پاکستان کے فیصلہ سازوں کی ترقیاتی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ مشرقی پاکستان کے مسئلے کے بارے میں اپنے مضمون میں اقبال خان کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کو جو خود اختیاری ملنی چاہیے تھی وہ اسے نہیں دی گئی۔
ایک ہزار میل کی دوری کی وجہ سے مغربی پاکستان کے فیصلہ سازوں کے لئے مشرقی پاکستان کے روزمرہ کے انتظامی امور سنبھالنا ممکن نہیں تھا۔ موسم گرما 1969 کے شمارے کے اداریے کا عنوان تھا ”آتش فشاں شانت ہو گیا”۔ مدیران کے بقول 1969 کے ابتدائی تین مہینے پاکستان میں سیاسی شعور اور عمل کی خوش کن تجدید نو کے لئے یاد رکھے جائیں گے۔ اداریے میں نئی تعلیمی پالیسی، نئی لیبر پالیسی بنانے کی بات کی گئی۔ اقبال خان کی رائے تھی کہ خواندگی اور آبادی میں اضافے کی روک تھام سے ہم اپنے دشمنوں کا صفایا کر سکتے ہیں۔
این ایچ اسلام کی عمرانی رپورٹ میں افسر شاہی، اشرافیہ اور کرپشن کے بارے میں بتایا گیا۔ اس شمارے میں“ معاشیات اور فلسفیانہ مسودات ”کے چند حصوں کا ترجمہ ’مارکس کی نظر میں انسان کا تصور“ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ ایس نیاز ”ایڈ کا شکنجہ“ کے عنوان سے قرضوں کے بوجھ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ حمزہ علوی اور امیر خسرو نے فوجی امداد کے بارے میں اپنے مضمون میں ملٹرائزیشن اور سماج کی بات کی ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان پہلے ہی اپنے وسائل سے بڑھ کر فوجی مقاصد کے لئے خرچے کر رہا تھا، امریکی فوجی امداد کے پروگراموں نے پاکستان کی مزید حوصلہ افزائی کی ہے کہ فوج پر اور زیادہ خرچ کیا جائے۔
ابتدا میں سلیمہ ہاشمی کے جس مضمون کا ذکر کیا گیا تھا ”ریفلیکشنز آن آرٹ“ وہ اسی شمارے میں شائع ہوا تھا۔ 1970 کے موسم بہار میں پاکستان لیفٹ ریویو کا الوداعی شمارہ شائع ہوا۔ اداریہ بھی ”قارئین کو الوداع“ کے عنوان سے لکھا گیا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ بہت سے اسباب کی وجہ سے جس میں مالی اسباب بھی شامل ہیں، ہم نے ریویو کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقبال خان کے مضمون کا عنوان تھا۔ کیا پاکستان میں انقلاب آ گیا ہے؟
ان کا کہنا تھا پاکستان میں کچھ غیر معمولی ہو رہا ہے۔ پرانی اور پکی سیاسی روایات، ذاتی دشمنیوں اور صوبائی نفرتوں کے درمیان پاکستان میں ایک عوامی تحریک ابھر رہی ہے۔ اسے صرف ایک آئیڈیالوجی سے تحریک نہیں مل رہی بلکہ یہ سماجی انصاف کے ٹھوس مطالبات سے ابھری ہے۔ پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اور حال ہی میں مشرقی پاکستان میں ماہی پور میں یہ صدائیں بلند ہوئی ہیں : پورب پچھم ایک ہے۔ گھر گھر ٹوبہ ٹیک ہے۔ لوڑ بے کارا لوڑ بے کارا۔
شوربو ہارا، شوربو ہارا۔ جیت بے کارا، جیت بے کارا؟ شوربو ہارا، شوربو ہارا۔ مغربی پاکستان میں بائیں بازو کی ڈیبیٹ میں فیروز احمد لکھتے ہیں کہ ملکی تاریخ کے اس اہم موڑ پر پاکستانی عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں پاکستانی مارکسسٹوں کے نظریات کا جائزہ لینا بہت مشکل ہے کیونکہ پاکستان میں نہ تو کوئی قانونی مارکسی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی مارکسی جریدہ نکلتا ہے۔ 1954 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد مارکسسٹس یا تو زیر زمین چلے گئے تھے یا آزاد پاکستان پارٹی یا عوامی لیگ میں چلے گئے تھے، مگر 1957 سے نیپ اینی متحد شکل میں بائیں بازو کا گڑھ رہی۔
نیپ کوئی مارکسی پارٹی نہیں تھی بلکہ علاقہ پرستوں، قوم پرستوں اور سوشلسٹوں کا ملغوبہ تھی۔ بائیں بازو کے عناصر میں یکجہتی کی کمی تھی۔ جس زمانے میں یہ مضمون لکھا گیا، اس وقت مصنف کی رائے میں بائیں بازو کے لوگ پیپلز پارٹی، نیپ ولی خان عثمانی گروپ اور نیپ سی آر اسلم گروپ میں سے کسی ایک سے جڑے ہوئے تھے۔ اس شمارے میں فیض احمد فیض اور ماؤ زے تنگ کی دو نظمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس شمارے میں تاریخی اہمیت کا حامل طارق علی کا بھاشانی سے لیا ہوا انٹرویو کا پہلا حصہ شامل ہے۔
مولانا بھاشانی کا کہنا تھا کہ بر صغیر میں ابو الکلام سے بڑھ کر سیاسی ذہانت رکھنے والا کوئی سیاسی رہنما نہیں تھا۔ مظلوموں کا تہوار کے عنوان سے احمد بشیر نے بہت شاندار مضمون لکھا جس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کانفرنس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے نادر چیمہ اور اسٹیفن لیون کی یہ کتاب شائع کر کے 60 اور 70 کے عشرے کے نوجوان لیفٹسٹس کو ایک بیش بہا تحفہ دیا ہے۔ میں تو یہ کتاب پڑھتے ہوئے اپنے کراچی یونیورسٹی کے دور میں پہنچ گئی تھی۔ میں مجاہد بریلوی کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے یہ کتاب مجھے تحفتاً عطا کی حالانکہ میں کتاب خرید کے پڑھنے کی قائل ہوں۔

