کیا آپ شادی کے قابل ہیں؟
شادی کے لئے قابل ہونے کی بات ہوتی ہے تو فوراً ایک دو باتیں ہی ذہن میں آتی ہیں۔ مرد اور عورت کا بلوغت کی عمر کو پہنچنا۔
عام طور پر اس بلوغت کی بنیاد پر فریقین شادی کی تقریبات کے لئے پلان بناتے ہیں اور بخیر و خوبی رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کو بہت بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ نہیں ایسا کرنا قطعاً عقلمندی نہیں ہے کہ صرف جسمانی بلوغت کو واحد قابلیت جان کر شادی کا کھیل رچایا جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتے زمانے اور بدلتی اقدار کو مد نظر رکھ کر شادی کے لئے قابلیتوں کا نئے انداز سے تعین کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسے باقاعدہ کل وقتی پروفیشن کا درجہ دیا جائے۔ جس طرح کسی بھی پروفیشن کو اختیار کرنے کے لیے مختلف استطاعتیں اور قابلیتیں درکار ہوتی ہیں اسی طرح شادی کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی ان قابلیتوں کا ہونا ضروری ہے ورنہ جیسے عدم قابلیت سے روزگار ختم ہو جاتا ہے اسی طرح شادی بھی ختم ہو سکتی ہے۔
نفسیات کی رصد گاہ کے مشاہدات کی رو سے جن قابلیتوں کا ذکر اس مضمون میں کیا جا رہا ہے وہ والدین اور ان کے جسمانی طور پر شادی کے قابل ہونے والے بالغ بچوں کے لئے یکساں طور پر قابل غور ہے۔ خواہ شادی ارینج میرج ہو، پسند کی شادی ہو یا کامن لاء کا نتیجہ ہو ہر صورت میں اس پروفیشن میں داخل ہونے سے پہلے تمام متعلقہ افراد مندرجہ ذیل قابلیتوں کو شادی کا لازمی چارٹر مان کر اسے مذہبی اور سماجی رسومات پر فوقیت دیں۔
جسمانی اور وراثتی صحت : اس کے لئے دونوں فریقین کو سب سے پہلے کھلے دل سے تمام طبی معائنے کروا لینے چاہیں اور اپنی صحت کے معاملات سے ایک دوسرے کو آگاہ کر دینا چاہیے۔ ان طبی معائنہ جات میں وہ بلڈ ٹیسٹ لازمی کروانے چاہیں جن سے وراثتی بیماریوں کا پتہ چل سکے جو آگے بچوں میں منتقل ہوتی ہوں۔ بانجھ پن اور جنسی طاقت اور دیگر معاملات بھی ٹیسٹ لسٹ میں شامل ہونے چاہیں۔ اور ایک دوسرے کو شادی سے پہلے ان کے سرٹیفیکیٹ دکھانا لازمی ہو۔
سیکشولی ٹرانسمٹڈ ڈزیز یعنی جنسی تعلقات کے نتیجے میں منتقل ہونے والی بیماریوں کا سرٹیفیکیٹ بھی ضروری ہے۔
ذہنی صحت کے سرٹیفیکیٹ : یہ سرٹیفیکیٹ بھی باقاعدہ مستند سائیکاٹرسٹ سے جاری شدہ ہوں۔ اس میں بلڈ ٹیسٹ بھی شامل ہوسکتے ہیں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی فریق پہلے سے موجود کسی ذہنی بیماری کا علاج کروا رہا ہے اور اس کو خفیہ رکھ رہا ہے تو کافی حد تک یہ بلڈ ورک حقیقت بتا سکتا ہے۔
مردوں عورتوں کے ہارمونز کے ٹیسٹ جن کے عدم توازن سے جسمانی اور ذہنی صحت اس قدر متاثر ہوتی ہے کہ شادی کے تمام معاملات بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اس میں عورتوں کے ہارمونز کا وہ ٹیسٹ ضروری ہے کہ جس کے عدم توازن سے بچے کی پیدائش کے بعد پوسٹ پارٹم ڈپریشن ہوتا ہے۔ پوسٹ پارٹم ڈپریشن اگرچہ عام ہے لیکن اگر طوالت اختیار کر جائے تو یہ شریک حیات اور پورے گھرانے کی زندگی کو اجیرن بنا سکتا ہے خاص طور پر بچے ذہنی صحت کھو بیٹھتے ہیں۔
اسی طرح دونوں فریقین کے دیگر ذہنی امراض کا بھی پہلے سے پتہ لگانا جو کہ ایک مشکل کام ہے لیکن پھر بھی شادی کی باقی رسومات سے زیادہ ضروری ہے کہ تحمل سے اس بات کی چھان بین پر ہوم ورک کر لیا جائے۔
تعلیم اور روزگار : شادی کے دونوں بالغ امید واروں [ مرد اور عورت] کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اتنی تعلیم اور روزگار کے مواقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی معاشی اور سماجی ذمہ داریوں، اپنی خواہشات اور منصوبوں کو کسی بیرونی مدد اور والدین کی جائیداد پر انحصار کیے بغیر عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ زمانے کے حالات کا تقاضا ہے کہ دونوں شریک حیات مکمل طور پر مالی طور پر مستحکم ہوں تاکہ وقت پڑنے پر ان دونوں کو کسی کا یا ایک دوسرے کا محتاج نہ ہونا پڑے اور نہ ہی اولاد کا۔
سیلف ہیلپ کی قابلیتیں : یہ ایسی ضروری اور ناگزیر قابلیتیں ہیں جس کے لئے بچوں کو گھر پر اور سکولوں میں بہت چھوٹی عمر میں ہی تیار کر دینا چاہیے۔ اس میں بلا تخصیص جنس لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ مہارتیں سکھا دینی چاہئیں۔ یعنی گھر داری کی تمام مہارتیں جن میں سر فہرست کھانا پکانا، بیمار کی دیکھ بھال اور نیوٹریشن سے آگاہی، اور بچوں کی دیکھ بھال شامل ہے۔ مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور پر امور خانہ داری میں سگھڑاپے کی اعلی ترین سند کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اگر شادی کرنے والے دو امید وار اوائل عمری میں یہ قابلیتیں نہیں سیکھ پائے تو شادی سے پہلے انہیں گھر داری کے باضابطہ کورس کر کے یہ سرٹیفیکیٹ پیش کرنے چاہئیں۔
ایک دوسرے کے خاندانوں کی معاشرت اور اخلاقی اقدار سے آگاہی اور مطابقت پذیری : شروع میں ڈیٹنگ اور رشتوں کے طے ہونے کے دوران تو ہر چیز سطحی ہوتی ہے۔ والدین اور خود شادی کے امیدوار ایک دوسرے کی اچھی بری عادات کو سر ہلا ہلا کر اوکے کرتے ہیں۔ اور ایک پیج پر ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں سب کچھ برعکس نکلتا ہے۔ اس میں کھانے پینے کے معاملات اور خوراک کی پسند اور ناپسند کے بارے میں اچھی طرح تبادلہ خیال ضروری ہے ورنہ بعد میں عادتوں اور ترجیحات کا تفاوت شادی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
بچوں کی پیدائش، تعداد اور پرورش کے طریقے : پر بھی تبادلہ خیال ہی نہیں بلکہ تحریری معاہدہ ہونا چاہیے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کے معاملات کے فیصلے یا تو دھونس کے ساتھ ایک پارٹنر اپنے ہاتھ میں لے کر حکمرانی کی خواہش کی تسکین کرتا رہتا ہے اور بچوں کو اپنی ملکیت بنا کر رکھتا ہے یا دوسری صورت میں کوئی ایک فریق اپنی ذمہ داریوں سے آنکھ چرا لیتا ہے اور بچے جیتے جی والدین میں سے کسی ایک کی توجہ اور شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
کرمنل ریکارڈ چیک : عام طور پر باہر کے ممالک میں ہمارے لوگ کردار کے یہ سرٹیفیکیٹ مسجدوں کے امام، عقیدے اور مذہبی کلٹ کے کرتا دھرتا سے حاصل کرتے ہیں جو ذاتی تعلقات کی بنیاد پر امیدوار کو اچھا ثابت کرتے ہیں نیز مسجدوں میں حاضری، مسجدوں کے چندوں کی رقم اور مالی قربانی اور عقیدے یا مذہبی رہنما سے دلی وابستگی کی بنیاد پر ملتے ہیں جن کا شادی کی اصل قابلیتوں سے دور کا واسطہ نہیں۔ بہت سے مجرم، ذہنی مریض، اور بد اخلاق لوگ بھی یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کر کے شادی کے قابل ٹھہرا دیے جاتے ہیں۔ جبکہ یہ سرٹیفیکیٹ بھی پولیس سے حاصل کرنے چاہئیں۔
معاشی معاملات کی قابلیتیں : ایک فریق کنجوس اور دوسرا بے حد فضول خرچ ہو سکتا ہے۔ قناعت اور چادر کے مطابق میانہ روی سے پیر پھیلانے کی قابلیت بھی شادی کی ہی قابلیت ہے۔
ایک دوسرے کی ترقی پر دلی خوشی : یقیناً یہ بھی ایک بہت بڑی قابلیت ہے۔ اگر شادی کے امید وار حسد کا منفی جذبہ رکھتے ہیں تو انہیں مشورہ ہے کہ وہ شادی سے گریز کریں ورنہ یہ حسد ان کی اپنی شادی کا قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔
برداشت کی قابلیت : معاف کرنا اور معافی مانگنے کی صلاحیت اور جذبات کا مناسب اظہار، کسی کی رائے کو مثبت لے کر غور کرنا، اور انا سے بالا ہو کر اپنی شخصیت کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش بھی ایک بہت اعلی قابلیت ہے۔
شکریہ کہنا اور جینوئن شکر گزاری بھی شادی کی قابلیتوں میں حسین اضافہ ہے۔
رومانوی قابلیتیں : شادی کے لیے یہ ایک اہم قابلیت ہے لیکن شادی کے امیدوار اگر گھٹنے ٹیک کر پروپوز کرنا، ہیرے کی انگوٹھی منگنی پر لینا اور دینا، عالی شان سجے سجائے قیمتی آراستہ مکانات میں رہنا اور ہر ہفتے کینڈل لائٹ میں ڈنر کرنا، شاپنگ اور بچگانہ لین دین، اور بے ہنگم ڈرائیو پر جانے کا نام ہے تو رک جائیں آپ میں رومانوی صلاحیت اور شادی کی قابلیت نہیں ہے۔ رومانس کا مطلب کسی بھی حال میں ایک دوسرے کی قربت اور سنگت سے خود بھی خوش ہونا اور دوسرے فرد کو بھی اس مسرت سے روشناس کرانا ہے۔
بہت سے جوڑے اپنی تمام تر انرجی غیر رومانوی کاموں، شکایتوں، مادی مطالبات اور منہ بسور کر گزار دیتے ہیں۔ خوش مزاجی اور رومانس بھی ایک مہارت ہے جس کو انسان اپنے ہی نا شکرے پن، بد مزاجی اور جذبات کے ناشائستہ اظہار اور شخصیت کی کجی سے خاک میں ملا دیتا ہے۔ غالباً اس بات کی ضرورت ہے کہ اس مہارت کو بھی نفسیاتی علاج کے سیشن کے ذریعہ سیکھ لیا جائے۔
انسانی ہمدردی کے رویے : شادی یقیناً خطرے میں پڑ جاتی ہے جب کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو اپنی طرح گوشت پوست کا انسان نہیں بلکہ کام کرنے کی مشین اور ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے ہمہ تن گوش رہنے اور بٹن دباتے ہی خواہشات پوری کرنے کا الیکٹرانک آلہ سمجھ کر اسے استعمال کرنے کا عادی ہو۔ یہاں شادی سے پہلے ہی عورت اور مرد کے روایتی فطرتی رول کو بھی مد نظر رکھ کر حقوق و فرائض کے مابین انصاف پر مبنی دستاویز پر دستخط ہونے ضروری ہیں۔
یہ بات اس لیے کی جا رہی ہے کہ نفسیات کی رصدگاہ سے مشاہدات بتاتے ہیں کہ بہت آزادی اور سہولیات کے حصول کو ایک فریق اپنا حق سمجھنے لگتا ہے اور دوسرا قربانی کا بکرا بنتا چلا جاتا ہے۔ ایک فریق بہت سست اور دوسرا ورک الکوحلک بن کر اپنی صحت خراب کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی صحت اور تکلیف کا احساس اور تکلیف دور کرنے کا جذبہ بھی ایک اہم قابلیت ہے۔
پری میرج کونسلنگ: پری میرج کاونسلنگ بہت ناگزیر ہے۔ جو کہ باقاعدہ سرٹیفائڈ میرج کاونسلنگ سیشن کے ذریعہ ہو۔ یقیناً اس سے شادی کے امید وار شادی کے قابل ہونے کی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔


