کہانی دو معاشروں کی


دنیا کے ایک دور دراز لیکن آباد خطے میں ایک شخص ڈیوڈ رہتا تھا۔ ڈیوڈ کو بچپن سے جوانی تک کبھی پڑھائی سے دلچسپی نہیں تھی۔ چنانچہ اسکول سے فراغت کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ پڑھائی جاری رکھنے کی بجائے وہ ملازمت کرے گا۔ چھوٹی موٹی مختلف ملازمتوں کے بعد ڈیوڈ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک ڈرائیور بنے گا۔ وہ مختلف کمپنیوں کی گاڑیاں چلاتا رہا۔ آٹھ گھنٹے روزانہ کام کر کے ایک معقول آمدنی حاصل ہوتی جو اس کے گزر بسر کے لیے کافی تھی۔

ڈیوڈ کو اپنی کلاس فیلو جینی بہت پسند تھی۔ جینی بھی اسے چاہتی تھی۔ دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا اور شادی کے بعد ڈیوڈ اور جینی ایک بہتر مکان میں منتقل ہو گئے۔ شادی کے دو سال بعد ان کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی بیٹے کی آمد نے گویا ان کی زندگی میں قوس قزح کے رنگ بکھیر دیے۔ جینی نے اپنی ملازمت سے ایک سال کی رخصت لے لی۔ ملک کے قانون کے مطابق اسے نو مہینے کی تنخواہ بھی ملی۔ ڈیوڈ دن بھر دل لگا کے کام کرتا، شام کو اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتا اور گھر کے کام کاج میں بیوی کا ہاتھ بٹاتا۔

ہفتے کے آخری دو ایام چھٹی ہوتی اور ہفتے کی شام وہ عموماً گھر سے باہر گزارتے۔ کسی نزدیکی پارک میں تفریح کے لئے جاتے اور رات کا کھانا کسی ریسٹورنٹ میں کھاتے۔ مہینے میں ایک مرتبہ ڈیوڈ اور جینی اپنے بچے کے ساتھ کسی نزدیکی علاقے میں تفریح کے لیے جاتے اور ویک اینڈ وہیں گزارتے۔ سال میں ایک سے دو مرتبہ وہ ہفتہ بھر کے لئے کسی تفریحی مقام پر ضرور جاتے۔ ان کی زندگی کی ایک قابل ذکر بات ان کی اپنے بچے کی نگہداشت میں انتہائی دلچسپی تھی۔ ان کی ریاست نہ صرف بچے کی نگہداشت کی نگرانی کرتی بلکہ اس سلسلے میں والدین کی مالی اعانت بھی کرتی۔

جب ان کا بچہ پانچ سال کا ہوا تو اسے علاقے کے سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔ سکول تعلیمی سہولتوں کے لحاظ سے اگر بہت اچھا نہیں تو برا بھی نہیں تھا۔ بچے کے سکول میں داخل ہونے سے جینی اپنی ملازمت کے اوقات بڑھانے کے قابل ہو گئی۔ اس سے پہلے وہ یا تو مختصر اوقات کار کے لئے کام کرتی یا دونوں میاں بیوی شفٹوں میں کام کرتے تاکہ بچے کی دیکھ بھال کے لئے والدین میں سے ایک گھر پر موجود رہے۔ تاہم یہ سلسلہ کچھ دیر ہی جاری رہا۔ اب چونکہ ان کا بیٹا 5 سال سے زائد عمر کا ہو گیا تھا دونوں میاں بیوی نے خاندان میں اضافے کا منصوبہ بنایا۔

اس مرتبہ اللہ تعالی نے انہیں بیٹی کی نعمت سے نوازا۔ بیٹی نے تو گویا گھر میں پہلے سے موجود رنگوں کو ایک یکسر نئی تازگی بخش دی۔ ڈیوڈ اور جینی اپنی بیٹی کے لیے نئے نئے کپڑے اور کھلونے خریدتے۔ ان کا بیٹا جواب 6 سال کا تھا بہت جلد اپنی بہن سے مانوس ہو گیا اور وہ بھی ماں باپ کے ساتھ مل کر بہن کا خیال رکھتا اور اس کے ساتھ کھیلتا۔

وقت تیزی سے آگے بڑھتا گیا۔ بیٹے نے اسکول کی تعلیم مکمل کر لی۔ بچہ پڑھائی میں بہت اچھا تھا اس کے یونیورسٹی جانے کا وقت آ گیا لیکن اچانک ڈیوڈ بیمار پڑ گیا۔ علاج کے لیے خطیر رقم درکار تھی۔ ڈیوڈ، جینی اور ان کے بچوں کی ہیلتھ انشورنس پالیسی تھی لہذا فکر کی کوئی بات نہ تھی۔ علاج کے تمام اخراجات انشورنس کمپنی نے ادا کیے۔ اس سے پہلے بھی دونوں بچوں کی پیدائش پر اٹھنے والے تمام اخراجات انشورنس کمپنی نے ہی ادا کیے تھے۔

ڈیوڈ کا بیٹا میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا وہ بہت ہونہار تھا لہذا یونیورسٹی نے اسے سکالرشپ کی پیشکش کی۔ لیکن سکالرشپ کے بعد بھی اخراجات اتنے تھے کہ ڈیوڈ اور جینی ادا نہیں کر سکتے تھے۔ بقایا اخراجات پورے کرنے کے لیے بیٹے نے بینک سے تعلیمی قرض حاصل کر لیا جو اس نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک طویل عرصے میں واپس کرنا تھا۔ ڈیوڈ اور جینی کی بیٹی بھی یونیورسٹی میں داخل ہوئی اور اس نے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ ان کا بیٹا امراض دل کا ڈاکٹر بننا اور بیٹی نے اپنا میوزک بینڈ بنایا۔ دونوں کا معیار زندگی اس معیار زندگی سے بہت بلند ہے جو ڈیوڈ اور جینی نے ان کو دیا۔

ڈیوڈ اور جینی اب پینسٹھ سال کے ہو گئے ہیں۔ وہ اپنی زندگی سیر و تفریح اور مطالعے میں صرف کرتے ہیں۔ جینی کو اچانک سے یونیورسٹی جانے کا شوق چرایا اور وہ اپنے شہر ہی میں ایک یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہی ہے۔ جہاں تک اخراجات کے لیے رقم کا سوال ہے تو ڈیوڈ اور جینی اپنی ماہانہ آمدنی میں سے کچھ رقم پینشن فنڈ میں جمع کروا دیتے تھے اور اب ہر مہینے انہیں ایک مقررہ رقم جو کہ ان کے اخراجات کے لیے کافی ہے پنشن فنڈ سے وصول ہو جاتی ہے۔

ادھر دنیا کے اور خطے میں میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ ماں باپ نے اس کا نام داؤد رکھا۔ داؤد کا باپ ایک معمولی مزدور تھا جو نہایت قلیل اجرت پر کام کرتا۔ وہ دو کمروں کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے۔ ان کا کنبہ دس افراد پر مشتمل تھا۔ آمدن محدود اور کھانے والے زیادہ بلکہ بہت زیادہ۔ دال روٹی بھی بمشکل پوری ہوتی۔ دو وقت کا کھانا ان کے ہاں محاورہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت تھی۔

داؤد پانچ سال کی عمر کو پہنچا تو اس کی ماں نے اسے علاقے کے سرکاری سکول میں داخل کروا دیا۔ سکول کی عمارت نہایت بوسیدہ تھی اور بیشتر اساتذہ باقاعدگی سے سکول نہ آتے۔ جو آتے ان پر جب کام کا اضافی بوجھ پڑتا تو وہ اپنا غصہ بچوں پر نکالتے۔ ہر دن کی مارپیٹ سے تنگ آ کر داؤد سکول سے بھاگ گیا۔ باپ نے اسے ایک ورکشاپ میں کام پر لگایا۔ ورکشاپ میں اتنے چھوٹے بچے کو کام تو کیا سکھایا جاتا البتہ مار پیٹ کے ساتھ ساتھ گالی گلوچ کا اضافہ ہو گیا۔ باپ نے بہت کوشش کی کہ داؤد کوئی ہنر سیکھ جائے لیکن یہ نہ ہوا۔ ان تمام جگہوں پر جہاں اس کا باپ اسے کام کے لئے لے کر گیا نہ صرف یہ کہ تربیت کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہ تھا بلکہ اس جگہ پر کام کرنے والے لوگوں کا بچوں کے ساتھ سلوک انتہائی ناروا تھا۔

جب داؤد کوئی 18 سال کے لگ بھگ ہوا تو ایک دوست نے مشورہ دیا کہ تم گاڑی چلانا سیکھ لو شہر میں ڈرائیور کی نوکری مل جائے گی۔ داؤد کے ایک اور دوست کے پاس ایک پرانا لوڈر تھا چند دن کی مشق سے داؤد نے بہت حد تک گاڑی چلانا سیکھ لی۔ تاہم پڑھا لکھا نہ ہونے کی وجہ سے اسے ٹریفک کے نشانات کی پہچان نہ تھی۔ نوکری کے لیے ڈرائیونگ لائسنس ضروری تھا اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیے ٹریفک کے نشانات کی تفہیم۔ اس موقع پر ایک اور دوست کام آیا۔ اس نے ایک ایجنٹ کے ذریعے داود کو لائسنس بنوا دیا۔ رہا نوکری کا سوال تو اس کے علاقے کا زمیندار اپنے بال بچوں کے ساتھ شہر میں رہتا تھا اس کے ہاں کئی ڈرائیور تھے۔ داود کے باپ نے اس سے بات کی تو وہ داؤد کو نوکری دینے پر آمادہ ہو گیا۔

ادھر داؤد کو ملازمت ملی اور ادھر اس کی ماں نے اس کی شادی کا سوچنا شروع کر دیا۔ داؤد کی عمر اس وقت 19 سال تھی اس کے چچا کی ایک بیٹی اس سے دو سال چھوٹی تھی اور داؤد کی ماں اسے پسند کرتی تھی گھر کی بات تھی لہذا رشتہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی اور تین ماہ بعد عید الفطر کی چھٹیوں میں دونوں کی شادی انجام پائی۔

شادی کے بعد سکینہ داؤد کے والدین کے ساتھ ہی رہتی تھی کیونکہ شہر میں داؤد کو جو رہائش زمیندار کی طرف سے ملی تھی اس میں اس کے ساتھ دو اور ڈرائیور بھی رہتے تھے۔ داؤد ہفتے کی رات کو گاؤں آتا اور پیر کو علی الصبح واپس چلا جاتا۔ شادی کے ایک سال بعد اللہ تعالی نے انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا لیکن چونکہ سکینہ کو حمل کے دوران مناسب خوراک میسر نہ تھی اس لیے ان کا بیٹا کمزور پیدا ہوا تھا۔ اسے بار بار بخار ہو جاتا۔

گاؤں کا حکیم اس کا علاج تو کرتا لیکن سکینہ کو بچے کو دودھ پلانے کے لیے جس خوراک کی ضرورت تھی وہ میسر نہ تھی۔ چنانچہ بچہ لاغر ہی رہا۔ ویسے بھی سکینہ زیادہ عرصہ اپنے بچے کو دودھ نہ پلا سکی۔ ایک سال کے بعد بعد ان کے ہاں دوسرے بچے کی ولادت ہوئی اور پھر ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ سال کے وقفے سے ان کے ہاں مزید چار بچوں کی پیدائش ہوئی۔

چھ بچوں کے بعد سکینہ مکمل طور پر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی۔ تمام بچے صحت کے اعتبار سے لاغر تھے۔ ہر وقت ان میں سے کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا رہتا۔ داؤد کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ زندگی کی ضروریات کسی طور پوری نہ ہو سکتیں۔ اگر اس کے باپ نے اپنے مکان کی چھت پر ان کے لئے ایک کچا کمرہ نہ تعمیر کر دیا ہوتا تو زندگی ناممکن ہوجاتی۔ اخراجات کو کم کرنے کے لیے اب داؤد مہینے میں صرف ایک مرتبہ ایک یا دو دن کے لیے اپنے بچوں سے ملنے آتا۔

گاؤں کے اس اسکول میں جہاں داؤد خود اپنے بچپن میں پڑھنے جاتا سکیں نہ نے بھی اپنے چھ بچوں کو داخل کروایا لیکن اسکول کی حالت پہلے سے بھی بد تر ہو چکی تھی۔ البتہ بچوں کی تعداد بہت بڑھ چکی تھی۔ بینچوں کی جگہ ٹاٹ نے لے لی تھی۔ بچوں نے اس اسکول میں نہ پڑھنا تھا نہ پڑھا۔ گاؤں کی بڑھتی آبادی کے باعث ملازمت کے مواقع پہلے سے زیادہ ہو چکے تھے۔ داؤد اور سکینہ کا ایک بیٹا چائے کے ایک کھوکھے پر کام کرنے لگا۔ ایک سنوکر کلب میں اور ایک شہر میں ڈرائیور کی نوکری کرنے لگا۔ بیٹوں کے برسرروزگار ہوتے ہی ان کی بھی شادی خاندان میں موجود لڑکیوں سے کر دی گئی۔ تینوں بیٹیوں کی شادیاں بھی کم عمری میں ہی ان کے چچا، تایا اور ماموں کے بیٹوں سے کر دی گئیں۔

داؤد کو شہر میں آئے اب پچیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا۔ سینئر ہونے کی بدولت اسے زمیندار کے سرونٹ کوارٹر میں ایک چھوٹا سا کمرہ اپنے لئے مل گیا تھا۔ گو کہ اس کی عمر زیادہ نہ تھی لیکن زندگی کی سختیوں کے باعث بوڑھا لگنے لگا تھا۔ ادھر سکینہ بھی بچوں کی ذمہ داری سے فارغ ہو گئی تھی۔ داؤد نے زمیندار سے اجازت لی اور سکینہ کو شہر لے آیا۔ چند روز فارغ رہنے کے بعد سکینہ نے بھی زمیندار کے گھر میں کام شروع کر دیا۔ ویسے بھی وہ سارا دن فارغ بیٹھ کے کیا کرتی۔ اس طرح اس کا دل بھی لگا رہتا اور زمیندار کی بیوی اسے کچھ رقم تنخواہ کی مد میں بھی دے دیتی۔ دونوں میاں بیوی اس بات پر بہت مطمئن تھے کہ ان کے بچوں کی شادیاں ان کی زندگی میں ہی ہو گئیں تھیں۔

دوستو مقصد تحریر افسانہ نویسی نہیں۔ اگر آپ کہانی کے کسی موڑ پر کسی ٹوسٹ کا انتظار کرتے رہے تو معذرت۔ اس تحریر کا مقصد آپ کے سامنے ایک ترقی یافتہ معاشرے اور ایک پسماندہ معاشرے کے ہم پیشہ شہریوں کے حالات رکھنا ہے۔ ایک ترقی یافتہ معاشرے میں پسماندگی نسل در نسل منتقل ہونے والی چیز نہیں جبکہ ایک پسماندہ معاشرہ پسماندہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے نچلے طبقے کے باسیوں کے حالات نسل در نسل غیر متبدل رہتے ہیں۔

ایک ترقی یافتہ معاشرے میں زندگی ایک خوشگوار سفر ہوتا ہے جبکہ ایک پسماندہ معاشرے میں ایک عذاب مسلسل۔ ایک پسماندہ معاشرے کے بیشتر لوگوں کو موت سے پہلے غم سے نجات میسر نہیں آتی۔ ان کے مستقبل کا تعین ان کی پیدائش کے وقت ہی ہو جاتا ہے جبکہ ایک ترقی یافتہ معاشرے میں فرد کا مستقبل مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کی خوشگواریوں کا صرف مرنے کے بعد کی زندگی میں متمنی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی نعمتیں اس دنیا میں بھی ان کی دسترس میں ہوتیں ہیں۔ لیکن سب سے اہم یہ کہ ایک پسماندہ معاشرے کی پسماندگی صرف معاشی نہیں ہوتی بلکہ ذہنی بھی ہوتی ہے۔ درحقیقت معاشی پسماندگی کی وجہ ہی ذہنی پسماندگی ہوتی ہے۔

اس سے پہلے کہ آپ یہ بتائیں کہ نہیں نہیں فلاں مزدور کا بیٹا ڈپٹی کمشنر اور فلاں چوکیدار کا بیٹا ڈاکٹر بن گیا یہ یاد رکھیے گا کہ ملک کے اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے۔ ایک بڑے طبقے کو صاف پانی کی سہولت بھی میسر نہیں، اعلی تعلیم اب بیشتر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے اور لوگ اپنا مستقبل ملک سے باہر دیکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کہانی دو معاشروں کی

  • 14/06/2023 at 4:24 صبح
    Permalink

    Spot on.

Comments are closed.