بندریا کے پاؤں جلنے لگے تو


بچپن؛ عمر کا ایسا دور ہے جب بچہ اچھے برے کی تمیز کا فرق نہیں کر پاتا۔ وہ ہر چیز کو زبان کے ذائقہ سے محسوس کرتا ہے اور ترش و میٹھا ہونے کا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ بچپن میں دادا ابا کی گود میں دبک کر گھنٹوں بلی کے بچے کی طرح پٹوسیاں مارنا بہت لگتا تھا۔ اماں آتیں اور کھینچ کر لے جاتی۔ ناظرہ قرآن کے لیے مدرسہ جانا بڑا تکلیف دہ عمل تھا۔ بہرحال یہ وقت بھی گزرا۔ مجھے دھندلا، دھندلا سا یاد ہے ؛ اسکول کا پہلا دن۔

مجھے دادا ابا اسکول داخل کروانے لے کر گئے تھے۔ گھر میں دادا ابا نے ”الف انار، ب بکری ت طوطا“ والا قاعدہ پڑھا رکھا تھا۔ ایک سے سو تک گنتی بھی یاد کروائی تھی۔ ایک سے پانچ تک پڑھائے اور بارہ سورتیں حفظ کروائی تھیں۔ لکڑی کی تختی پر روزانہ املا کی مشق بھی کرواتے تھے۔ گویا گھر میں ہی اسکول کھلا تھا۔ اس وقت میں چھے سات برس کا تھا۔ ہمارے بچپن کے زمانے میں داخلہ کے لیے بنیادی ٹیسٹ اسی قسم کے سوالات پر مبنی تھا تھا۔

کلاس کا پہلا دن تھا۔ ڈیڑھ سو کے قریب بچے کلاس میں تھے۔ میں سہما ہوا کھلے میدان میں ٹاٹ پر ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھ گیا۔ سبھی بچے اپنے دوستوں کے ساتھ مگن تھے۔ مجھے کسی نے منہ نہ لگایا۔ ماسٹر جی تختہ سیاہ پر جلی حروف میں حروف تہجی لکھ رہے تھے۔ انھیں میرے اکلاپے کا احساس ہوا۔ ماسٹر جی میرے پاس آئے اور بڑی اپنائیت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا :ادھر میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔ کہانیاں تو میں نے سیکڑوں سن رکھی تھیں۔

دادا ابا اور دادی اماں کے ساتھ سوتا تھا اور ہر روز ایک نئی کہانی سنتا تھا جس میں بیشتر بادشاہوں کے قصے تھے جنھیں جانوروں کی عادات و افعال اور فطری روئیے سے واضح کیا جاتا تھا۔ ماسٹر جی نے کہانی سنا نا شروع کی تو سبھی بچے ماسٹر کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ماسٹر نے کہا ایک بندر اور بندریا تھی۔ ان کے دو بچے تھے۔ بندر سارا دن محنت کرتا اور شام کو بندریا اور بچوں کے لیے بہت سا پھل فروٹ لے کر آتا۔ سب مل کر خوشی سے کھاتے اور فرط مسرت سے درختوں کی شاخوں پر جھولتے۔

ایک دن اچانک جنگل میں آگ بھڑک اٹھی۔ سب جانور بھاگ بھاگ کر جان بچا نے لگے۔ بندر تو کھانا لانے کے لیے کہیں دور نکل گیا تھا۔ بندریا نے دونوں بچوں کو سینے سے چمٹا لیا اور ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتی جان بچانے کی کوشش کرنے لگی۔ آگ کسی طرح بجھ ہی نہ رہی تھی۔ بندریا کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے ایک اونچے درخت کی شاخوں پر اپنے بچوں کو بٹھایا اور خود دوسرے درخت کی جانب لپکی۔ بچوں نے ماں کو خود سے جدا ہوتے دیکھا تو زور زور سے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔

بندریا نے بچوں کی چیخ و پکار تو دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ دوڑ کر واپس اسی درخت پر آئی اور بچوں کو سینے سے لگا لیا۔ آگ تیزی سے درختوں کو جلائے جا رہی تھی۔ بندریا نے درختوں کی شاخوں کو کودتے پھاندتے دور ایک شیشم کے سوکھے درخت کے تنے میں پناہ لی۔ جنگل میں ایک دفعہ آگ لگ جائے تو پھر اس کو بجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہ آگ ہر چیز کو جلا کر راکھ بنا دیتی ہے۔ کہانی میں ماسٹر جی نے ایسا تجسس بھر دیا کہ ڈیڑھ سو کی کلاس ہمہ تن خاموش گویا دم بہ خود ساکت تھی۔

میں ماسٹر جی کے چہرے پر نظریں گاڑے آنکھ جھپکے بغیر ماسٹر جی کو تکے جا رہا تھا۔ ماسٹر جی کے چہرے میں مجھے دادا ابا کی پرچھائی نظر آنے لگی تھی۔ ماسٹر جی نے کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بندریا نے ابھی خود کو شیشم کے تنے میں چھپایا ہی تھا کہ آگ کا ایک بگولا تند ہوا کے ساتھ لرزتا ہوا تنے کی کھوہ میں آ گرا۔ بندریا کے جسم کے بال شعلے کی تپش سے جل گئے۔ بچے بھی تپش سے چیخنے لگے۔ بندریا نے تنے سے باہر جھانک کر دیکھا تو شیشم کا سوکھا درخت تقریباً جل چکا تھا اور آگ تیزی سے تنے کی کھوہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔

بندریا نے سوچا کہ آگ بہت جلد ہم سب کو جلا دے گے۔ کیوں نہ یہاں سے نکلنے کی کوشش کی جائے۔ بندریا نے جب قدم باہر رکھا تو سوکھی شاخوں سے لپٹے شعلے بندریا کے پاؤں پر گرے تو اس نے جھٹ پاؤں اندر کر لیے۔ بندریا اسی کشمکش میں تھی کہ اب کیا جائے۔ وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ آگ کے شعلوں نے کھوہ کی باہری سطح کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بندریا نے بچوں کو سینے سے چمٹایا اور تنے سے باہر پاؤں رکھے تو دہکتے ہوئے شعلوں سے اس کے پاؤں جلنے لگے۔

اس سے تکلیف برداشت نہ ہوئی۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے اپنے پاؤں تلے دونوں بچوں کو رکھ دیا۔ بچے چیختے چلاتے رہے اور تکلیف سے بلکتے رہے لیکن بندریا نے پاؤں اوپر نہ ہٹائے۔ ماسٹر جی اچانک خاموش ہو گئے۔ ایک گہری سانس لی اور پھر جیسے آنکھوں میں نمی آ گئی ہو۔ آواز بھرا گئی تھی۔ ہم سب ماسٹر جی کے چہرے کو دیکھ رہے تھے اور متجسس تھے کہ آگے کیا ہو؟ ماسٹر جی خاموش ہو گئے۔ پوری کلاس خاموش بیٹھی تھی۔ ماسٹر جی بھی خاموش کرسی پر بیٹھے رہے۔

کہانی ختم ہو گئی تھی مگر انجام کا کسی کو علم نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد بچے آپس میں باتیں کرنے لگے اور ماسٹر جی ٹہلتے ہوئے جانے کہاں چلے گئے۔ میں خاموش بیٹھا کہانی کے انجام پر غور کر رہا تھا اور کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ بندریا کا کیا بنا؟ وہ بچ گئی تھی؟ اور بچے کیا جل گئے تھے؟ یا بچ گئے تھے؟ آگ بجھ گئی تھی یا نہیں؟ آگ کس نے لگائی تھی؟ بندر کو آج گھر سے دور کیوں جانا پڑا؟ بندریا نے ایسا کیوں کیا تھا؟

اپنے ہی بچوں کو اپنے پاؤں کے نیچے کیوں دیا؟ بندریا ایسا کیسے کر سکتی ہے؟ یہ سوالات ایک وقت تک ذہن میں گردش کرتے رہے اور میں ان کے جوابات کا منتظر رہا۔ ماسٹر جی سے ان سوالات کے جواب پوچھنے کی ہمت نہ تھی۔ دادا ابا اور دادا اماں سے بھی میں نے گاہے گاہے اس کہانی کا انجام جاننے کی کوشش کی لیکن وہ بھی مجھے تشفی بخش جوابات سے مطمئن نہ کر سکے۔ وقت گزرتا رہا اور میں زندگی کے نشیب و فراز سے گزر کر عمر کے اڑتیس سال کو جا لگا۔

غم جاناں، غم دوراں اور غم روزگار کے تھپیڑے کھائے۔ محبت بھی کی اور فراق و وصال کے خوشگوار لمحات کو جیا۔ ہر طرح کی آسائش اور آزمائش سے گزرا۔ ایک آزمائش ایسی آئی کہ جس نے بچپن کی سنی اس کہانی کو عملی شکل میں میرے سامنے لا کھڑا کیا۔ دو مختلف مزاج کے حامل افراد نے بطور میاں بیوی ایک دوسرے کو پسند کیا۔ زندگی کی پہلی بہار ابھی پوری طرح باغ میں جلوہ گر نہ ہوئی تھی کہ خزاں کی آمد سے باغ کی شادابی ؛ویرانی میں بدل گئی۔

ایک ننھی کلی نے اس ناآسودہ سنگم سے نمو پائی جسے باغباں نے خودساختہ انا سے مغلوب ہو کر بہار کے حوالے کر دیا۔ بہار نے بڑے گھمنڈ سے گود میں لیا۔ بہار کا بھی ایک وقت ہے ؛ وہ کب تک کلی کو چٹخنے اور پھول بننے سے روک سکتی ہے۔ سو وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ بہار سے کلی کی مہک سنبھالی نہ گئی۔ اس نے کائنات کے وسیع افلاک کو سر کرنے کے لیے رخت سفر باندھا۔ ہوا کے دوش پر سوار ہوئی اور ان دیکھے خلاؤں کی تسخیر میں چل دی۔ وہ ننھی کلی رہ رہ کر معصوم نگاہوں سے کبھی بہار کو دیکھتی ہے ؛کبھی باغ کو ، باغباں کو اور پھر اپنے آپ کو ۔ بچپن کی سنی ہوئی کہانی کے سبھی جواب مل گئے کہ بندریا کے پاؤں جلنے لگے تھے تو اس نے کیوں اپنے بچوں کو پاؤں تلے رکھ دیا تھا!

Facebook Comments HS