مسیحی علماء کی عربی زبان کی خدمات: لوئیس معلوف

خطہ عرب میں ایک عرصہ حکمرانی ترکوں کی عثمانی سلطنت کے زیر سایہ قائم رہی تھی، اس عہد میں مقامی عرب ترک سلطنت سے کئی معاملات میں نالاں رہے، ایک بڑی وجہ ترکوں کی اس خطے میں اپنے پسندیدہ افراد کو گورنری دے کر ہر معاملے سے بے خبری اور ترکوں کی سویلائزیشن کو زبردستی نافذ کرنے کی وجہ سے عربوں میں نیشنلزم کی تحاریک اٹھی تھی۔ جس میں عرب ثقافت کے تحفظ اور زبان کے فروغ شامل رہا، عرب ثقافت و زبان کے تحفظ کے لئے جہاں بہت سے مسلمان عربوں کی اس عہد میں خدمات کو سراہا جاتا ہے ان میں چند معروف عیسائی اہل علم کی خدمات کو بھی عرب دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے، ان عیسائی اہل علم کی عربی زبان کے لیے خدمات نے بعض ایسے باریک نکات بھی نکالے ہیں جس سے قرآن کریم کی معرفت میں مدد ملتی ہے، چونکہ قرآن کریم کو علم نحو اور لغت کا اولین مآخذ قرار دیا جاتا ہے۔ عربی کے لغوی علوم میں دسترس رکھنے کے لئے قرآن کریم کو وسیع پیمانے پر جاننے کا تقاضا کرتا ہے۔ آج بھی قرآن کریم عربی زبان کے قواعد کا حوالہ دینے کے لحاظ سے پہلا مصدر ہے اور اس کے بعد دوسرا اہم ترین مصدر حدیث ہے۔
دور حاضر میں آج بھی کلاسیکل عربی زبان کی احیاء کے افق پر جہاں مسلمانوں عربوں کا گرانقدر کام موجود ہے وہیں پر بعض عیسائی اہل علم کے نام بھی دمکتے ہیں جنہوں نے عربوں کے لیے قرآن کی زبان کی حفاظت کی تھی اور ان مسیحی اہل علم نے عربی زبان کی حفاظت کا کام اس وقت سر انجام دیا، جب بیشتر مشرق وسطی کا حصہ (شام، عراق، اردن، سعودی عرب، لبنان اور اسرائیل) عثمانی ترکی خلافت میں شامل تھا۔ اور سنۂ 1914 میں پہلی جنگ عظیم چھڑی جس میں جرمنی اور عثمانی ترکی اتحادی تھے اور ان کے مقابل برطانیہ و فرانس تھے۔
برطانوی اور فرانسیسی اتنے طاقتور نہیں تھے کہ وہ مشرق وسطی میں لشکر کشی کر سکتے۔ اس مسئلے کا حل مشرق وسطی میں موجود ”عربسٹوں“ نے نکالا۔ یہ اصطلاح ان عیسائی دانش وروں اور ادباء کے لیے استعمال ہوتی ہے، جنہوں نے مغربی استعمار کی مدد سے مشرق وسطی میں انیسویں صدی کے دوران عرب قوم پرستی کا ساتھ دیا۔ اس تحریک کے ذریعے عربوں کو ترکوں کے خلاف ابھارا گیا۔
مگر یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عثمانی ترک حکومت کی نا انصافیوں نے بھی عرب قوم پرستی کو پنپنے میں مدد دی تھی ان کے نزدیک عثمانی ریاست عربوں پر ترکوں کی ثقافت کو مسلط کرنے یعنی انہیں ترک زبان کا پابند بنانے کے لیے کوشاں تھی۔ ان چند چنیدہ اہل علم میں سے ابتدائی چار شخصیات اپنی تالیفات کے ذریعے عثمانیوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے اور انہوں نے قرآن کی زبان کو محفوظ کرنے میں حصہ لیا۔ انہی عیسائی علماء کی عربی زبان کی خدمات پر آج کے ہمارے دینی مدارس کے بنیادی نصاب کی لسانیات کی صرف و نحو کا دار و مدار موجود ہے۔ آخری اور پانچویں شخصیت عثمانی دور کے اواخر میں پیدا ہوئی تھی جن کے تعارف اور علمی کام کا مختصر جائزہ یہ ہے۔
لوئس معلوف
لوئس بن نکولس ظاہر نجم معلوف الیسوعی عرب کا ایک نامور عیسائی ادیب و ماہر لسانیات جو لبنان کے شہر زحلہ میں سنۂ 1867 میں ایک عیسائی مذہبی گھرانے میں پیدا ہوا، اس کا والد چرچ کے مذہبی عہدے پر تھا، لوئس ملفوف ایک با اثر، پر اعتماد و مالی وسعت والی زندگی گزارنے والے گھرانے میں پیدا ہوا تھا، ابتدائی تعلیم بیروت کے الیسوعیہ کالج سے اور پھر تعلیم کے حصول کے لئے تین بار یورپ گیا، پہلے برطانیہ سے فلسفے کی تعلیم اور چونکہ مذہبی گھرانے کی نسبت کی وجہ سے فرانس سے الہیات میں تھیولوجی کی تعلیم حاصل کی، یورپ میں دس برس رہنے کی وجہ سے مغربی و مشرقی کئی زبانوں عربی، انگریزی، فرانسیسی، لاطینی، سریانی، یونانی اور عبرانی سے اچھی واقفیت حاصل کی، یورپ کے قیام کے دوران دنیا بہترین لائبریریوں لندن بڑش میوزیم، نیدرلینڈ کی لیڈن لائیبریری، اور فرانس میں پیرس قومی لائیبریری میں کتابیں پڑھنے کا موقع ملا اور ان لائبریریوں سے کئی نایاب عربی کتابوں کے ترجمے نقل کیے ۔ یورپ میں لوئس معلوف نے فلسفہ و الہیات کے علاوہ زبان اور ادب کے علوم کو بھی سیکھا۔
لوئس معلوف نے یورپ سے واپسی کے بعد تعلیم کے شعبے میں ہی کام کیا، لوئس معلوف مصر اور لبنان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرتے رہے، پھر بیروت کی الیسوعیہ یونیورسٹی میں عربی زبان و اسباق کے نگران کی ذمہ داری سونپی گئی، انہی دنوں وہ سنۂ 1906 سے سنۂ 1933 تک مقامی اخبار ”البشیر“ کے بھی چیف ایڈیٹر رہے، لوئس ملفوف کی دلچسپی اس وقت تک صرف فکر و ادب تک محدود نہ تھی بلکہ لوئس معلوف زراعت میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔
لبنان میں وہ بکفایہ کے علاقے میں کھیتی باری میں بھی دلچسپی لیتے رہے اور لوئس معلوف نے باغات کی کھیتی کی تجدید کے لیے ایک تنظیم بھی قائم کی۔ لوئس معلوف عیسائی مذہبی اسکالر بطور پادری بھی شہرت رکھتا تھا، لیکن عرب زبان اور کلچر کی بنیاد پر عرب نیشنلزم سے بھی متاثر رہا، اس نے اپنی فکری اثرات اور ادبی افکار پر یہ کتابیں تصنیف کیں۔ لوئس معلوف کی اہم ترین تالیفات میں یہ کتب ہیں۔
”المنجد فی اللغۃ“
سنۂ 1908 میں بیروت کے کیتھولک پریس سے شائع ہونے والی یہ کتاب اس عہد سے لے کر آج تک عربی زبان کی لغت میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ عربی زبان میں اس کے ہزارہا ایڈیشن چھپ چکے ہیں، بلکہ پوری دنیا کی کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی چھپ چکے ہیں، خصوصاً پاکستان کے کئی علماء بطور لغت طلباء کے لئے ”المنجد“ کو ہی اپنی کچھ ترمیمات سے شائع کرتے ہیں۔ یہ کتاب ایک نمایاں ترین لسانی لغت ہے، جس میں لفظوں کی تفہیمات تشریحات کے علاوہ محاورے اور کہاوتوں کی وضاحت کے ساتھ تبصرے موجود ہیں، عربی لغات میں ایک بھرپور اضافہ ہے۔
تاریخ آداب اللغۃ العربیۃ
عربی لغت کی تعریف و تاریخ پر مشتمل یہ کتاب بھی نصاب کا حصہ بنی۔
کتاب فی تاریخ حوادث الشام ولبنان
اس کتاب میں سنۂ 1782 سے سنۂ 1841 تک شام اور لبنان کے مختلف واقعات کی تاریخ ہے۔
سیاسیۃ ابن سینا
یہ لوئس معلوف کی ابن سینا کی سیاسی زندگی پر مشتمل کتاب ہے۔
لوئس مالوف کو اس کے سائنسی اور تعلیمی صلاحیتوں کی بنیاد پر مشرق کے ممالک میں چمکے، اور اس نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک سائنس کی خدمت کی جو اس نے تعلیم اور تصنیف میں گزاری۔ اس سراہنے کے لئے لبنان نے حکومتی سطح پر لبنانی میڈل آف آنر برائے میرٹ سے نوازا، لوئس معلوف کی وفات سنۂ 1946 میں ہوئی۔

