تحریک انصاف کو ختم کرنے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟
موجودہ سیاسی صورت حال پر ایک دوست سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے ایک بچپن میں پڑھی جانے والی کہانی کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ وہ بھیڑیے اور بھیڑ کے بچے والی کہانی ہے جس میں بھیڑیا اور بھیڑ کا بچہ ایک ندی پر پانی پی رہے تھے اور پانی کا بہاؤ اوپر سے نیچے کی طرف تھا۔ بھیڑیا اوپر جب کہ بھیڑ کا بچہ نیچے کھڑا پانی پی رہا تھا۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد بھیڑیا اس بھیڑ کے بچے سے بولا کہ تم پانی گندا کر کے میری طرف بھیج رہے ہو۔ بھیڑ کے بچے نے جواب دیا، سرکار پانی تو آپ کے پینے کے بعد میری طرف گدلا ہو کر آ رہا ہے جو میں پی رہا ہوں۔
بھیڑیے کی چونکہ اس بچے پر نیت خراب تھی اور وہ اسے کوئی بہانہ بنا کر ہڑپ کرنا چاہتا تھا جب اس نے دیکھا کہ یہ بہانہ تو رائیگاں گیا تو وہ بولا کہ اچھا تم نے مجھے ایک برس قبل گالی دی تھی وہ تو تمہیں یاد ہو گی۔ اس پر وہ بچہ بولا، سرکار میری تو اپنی عمر صرف چھ مہینے ہے۔ اس پر وہ بھیڑیا بولا اچھا تو وہ پھر تمہارے کسی بزرگ نے مجھے گالی دی ہو گی جس کا خمیازہ اب تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ اس کے بعد بھیڑیے نے چھلانگ لگائی اور اسے مار کر کھا گیا۔
کچھ ایسے ہی حالات آج کل قاسم کے ابو یعنی پی ٹی آئی چیئرمین (چونکہ ان کا نام لینے پر پاکستانی میڈیا میں پابندی عائد ہے اس لیے میں بھی پابندی کا احترام کروں گا) کے ساتھ درپیش ہیں۔ ان کی حالت اس بھیڑ کے بچے کی ہے جسے طاقت ور مخالفین اس بھیڑیے کی طرح کوئی بہانہ ڈال کر ختم کرنا چاہ رہے ہیں۔ اسی ضمن میں سانحہ نو مئی کے بعد ان کی جماعت سے کئی رہنما جماعت کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور جماعت ترین صاحب کی سربراہی میں استحکام پاکستان کے نام سے تشکیل دے دی گئی ہے جس میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جو پی ٹی آئی کے بھگوڑے ہیں۔ اب یہ تو وقت اور پبلک بتائے گی کہ اس ہنگامی طور پر تیار کردہ جماعت کو بھی خاص پذیرائی ملتی ہے یا نہیں۔
سانحہ نو مئی اور اس کے بعد جو کچھ بھی ملک میں ہوا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ کوئی بھی محب وطن کبھی بھی اپنے اداروں پر حملہ نہیں کرتا سوائے شرپسندوں اور غداروں کے۔ اس معاملہ میں چیئرمین تحریک انصاف نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ جو بھی ذمہ داران ہیں انہیں سزا ملنی چاہیے اور اس واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئیں۔ اس کے بعد بھی یوں لگتا ہے کہ بھیڑیے کی طرح کوئی بہانہ بنا کر چیئرمین پر حملہ کر کے ہر لحاظ سے قابو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ویسے چیئرمین پی ٹی آئی کے موجودہ حالات تک پہنچنے میں ان کا اپنا بھی کافی کردار ہے۔ ان کئی عوامل میں سے چند کا ذکر کروں گا۔
چیئرمین تحریک انصاف کا اسمبلیوں میں جا کر موجودہ حکومت کو مشکل وقت دینے کی بجائے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ غلط تھا۔ اسی طرح اپنی تقریروں میں اپنی حکومت گرانے کے معاملہ میں امریکی سازش کا بیانیہ الاپا گیا، اس کے بعد وہ بیانیہ سائیڈ پر رکھ کر ملبہ سابق آرمی چیف اور اسٹبلشمنٹ پر گرایا گیا۔ جب وہ وزیراعظم تھے اس وقت بھی اپنی تقریروں میں پاکستان کے مسائل پر گفتگو کرنے کی بجائے اکثر ان کا ہدف اپوزیشن کے رہنما ہوتے تھے۔
اس کی بڑی مثال ان کا دورہ امریکہ تھا جس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی عوام سے خطاب میں ان کا سارا دھیان اپوزیشن رہنماؤں کو سخت سزائیں دینے اور نواز شریف کو بغیر اے سی کے جیل مہیا کرنے پر تھا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسی تقریروں کی بجائے انہیں عوامی مسائل پر گفتگو کرنی چاہیے تھی کیوں کہ وہ پورے ملک کے وزیراعظم تھے۔
پھر انہوں نے تمام خیرخواہوں کی مخالفت کے باوجود پنجاب جیسا صوبہ نکمے شخص بزدار کے حوالے کر دیا۔ یہ وہی شخص ہے جس کی کرپشن کی تحقیقات ہونا ابھی باقی ہیں اور وہ فوری طور پر سابقہ وزیراعظم کو الوداع کہہ چکا ہے۔
ایک دوست جو حساس ادارے میں اہم عہدے پر فائز ہیں انہوں نے بتایا کہ جب چیئرمین صاحب وزیراعظم تھے تو ان سے درخواست کی گئی، سر آپ اپنی زبان پر ذرا قابو رکھا کریں کیوں کہ ہر بات سرعام کہہ دینا بھی نقصان کا باعث ہوتا ہے، مگر وزیراعظم صاحب نہیں مانے۔ شاید اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ وہ سچ جس سے شر پھیلے یا زیادہ نقصان کا خطرہ ہو اس سے بچنا چاہیے۔
اس سب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ عوام کی اکثریت کو ہی یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ ان کا وزیراعظم کون ہو کیونکہ جمہوری عمل کے لیے یہ سب ضروری ہے اور اس تناظر میں چیئرمین تحریک انصاف کا الیکشن کا مطالبہ آئینی اور جمہوری ہے۔
ان کی جماعت کو کھڈے لائن لگا کر یا اس جماعت کو توڑ کر نئی جماعتیں لانچ کر کے یقیناً جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں ہو گی۔
جمہوریت کی خدمت یقیناً اس میں ہو گی کہ آئین کے مطابق ملک بھر میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے، 9 مئی کی توڑ پھوڑ میں جو لوگ ملوث ہیں انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے اور تحریک انصاف کے جو گرفتار کارکن اور رہنما اس توڑ پھوڑ میں ملوث نہیں ان پر دباؤ ڈالنے کی بجائے جمہوری اقدار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر وہ بے گناہ ہیں تو ان کو رہا کیا جائے۔
اگر چیئرمین تحریک انصاف خود کسی جرم میں ملوث نہیں تو انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی بجائے ان کے ساتھ حکومت اور دیگر اداروں کو مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں۔ اور چیئرمین کو بھی چاہیے جمہوری اقدار کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی مفاد میں لچک کا رویہ اپنائیں۔ اگر الیکشن ہو جاتے ہیں تو اس کے نتائج کو بھی کھلے دل سے تسلیم کرنا سیکھیں۔ کاش وطن عزیز میں ایسی جمہوری اقدار آئیں کہ ہارنے والا امیدوار جیتنے والے امیدوار کو کھلے دل سے مبارک باد دے کر اپنی ہار قبول کرے۔ کاش وطن عزیز میں تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ اگر ہم خود کو جمہوری سمجھتے ہیں تو سیاسی انجنیئرنگ اور ہارس ٹریڈنگ کی بجائے سیاسی بحران کا حل مذاکرات، اور آئین پر عمل کرتے ہوئے شفاف الیکشن کے انعقاد سے ہی ممکن ہے۔
اگر سیاسی بحران کا جلد حل نہ نکلا تو ہم ملک میں معاشی بحران کے علاوہ آپس میں سیاسی اختلافات کے باعث ایک دوسرے سے نفرت میں بھی اضافے کا باعث بنیں گے۔


