ماہتاب محبوب کے دو مختصر افسانے


مترجم: یاسر قاضی
اشکوں کا راز:

جب بھی کوئی المیہ سندھی گیت ریڈیو سے بجتا تھا، تو چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ شرطیں لگایا کرتی تھی کہ ”دیکھنا! ابھی امی رونے لگیں گی۔“ اور جب اس کی ماں کی آنکھوں سے اپنے برسوں کے بچھڑے واحد بھائی کو یاد کرتے ہوئے اشکوں کی لڑیاں بہنے لگتی تھیں، تو انہیں ہنسی آ جاتی تھی۔

”دیکھا! ؟ امی رو پڑیں! بھلا گانے میں ہے کیا کہ ایسے رونا آ جائے؟“
اسے اپنی ماں کی یہ ”عادت“ انتہائی عجیب اور مضحکہ خیز لگتی تھی۔ ان کو بھلا سکھوں دکھوں کی کیا خبر!

آج جب وہ خود ایک بیوی اور ماں بن چکی ہے، تب جب ریڈیو سے اس قسم کے المیہ گیت سنا کرتی ہے، جن میں اپنوں کی فکر اور یاد میں روز و شب رونے کا ذکر ہوتا ہے، تو اپنے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے بھائیوں کو یاد کر کے اب اس کی آنکھوں سے بھی آنسو چھلک جاتے ہیں۔ اب اسے ان اشکوں کا راز سمجھ آ چکا ہے۔

 

دیکھے دکھائے کلنک:
”ارے دلہن! تیری ساس کدھر گئی ہے؟“
”چاچی تو، خورشید بہن لوگوں کے وہاں گئی ہے۔“
”ارے، تو کس وقت لوٹے گی؟“
”بس شام تک سورج ڈوبنے سے پہلے لوٹ آئے گی۔“
”میں نے کہا جا کر اس کے پوتے کو دیکھ کے آؤں۔ بڑی منتوں مرادوں کے بعد جو پیدا ہوا ہے۔“
”خوش آمدید!“
”تیری ساس نے تو بڑی دیر کر دی۔“ پرس میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔
”دیر تو ہو گئی ہے انہیں، مگر بس ابھی آتی ہی ہوں گی ۔“
”اچھا، تھوڑی دیر دیکھ لیتی ہوں۔“ پرس سے خالی ہاتھ نکالتے ہوئے۔
”بس ابھی راستے میں ہوں گی ۔“
”اب تم بھی گھر کی بہو ہو، ایک ہی بات ہے۔“ واپس پرس میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔
”۔ ۔“

”تیری ساس میری بہنوں جیسی ہے۔ کمال کی عورت ہے۔ روز بھی نہیں آ سکتی میں۔ آئے تو میرا سلام دینا۔“ پرس سے خالی ہاتھ نکالتے ہوئے۔

”۔ ۔“

”تیری ساس تو نہ آتی ہے نہ جاتی ہے۔ اس نے تو بھلا ہی دیا ہے۔ یہ تو میں ہی ہوں کہ کبھی آنا نہیں بھولتی۔ ابھی بھی میں نے کہا کہ جا کر مبارکباد دے آؤں۔“

پرس میں ہاتھ ڈالتے ہوئے۔
”خالا، پھر ایک ہی بات ہے۔ جیسی چاچی ویسی میں۔ آپ بھلے بچے کو دیکھیں!“
”رہنے دو، اگلی بار تیری ساس بھی ہو تو پھر دیکھ لوں گی۔“
یہ کہہ کر وہ اپنا پرس ہلاتی ہوئی گھر سے باہر چلی گئی۔

Facebook Comments HS