کارٹون کے نام پر بے حیائی کی تربیت

بچپن اور لڑکپن انسان کی زندگی بناتے اور بگاڑتے ہیں عمر کے ان ادوار میں آپ کا دل و دماغ سب سے زیادہ سیکھتا ہے اور بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ان ادوار کو نفسیاتی طور پر استعمال کرنے اور کم عمر بچوں کا جذباتی استحصال کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ خود کش بمبار اسی عمر میں تیار ہوتے ہیں، کیونکہ یہ عمر صاف سلیٹ کی طرح ہوتی ہے اور ساتھ میں جذبات پنپ رہے ہوتے ہیں۔ اچھے برے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی، جو اس عمر کے بچوں کے دماغ میں ٹھونس دیں وہی ان کا عقیدہ بن جاتا ہے۔
ہم آج تک مغرب کو مور الزام ٹھہراتے آئے ہیں کہ وہ ہمارے اخلاق تباہ کر رہا ہے تو بھایؤ اور بہنو وہ ایسا کب کا کر چکا ہے اور اب اس نے ہماری آنے والی نسلوں سے بدلہ لینے کی ٹھانی ہے۔ وہ ہماری نئی نسل کو اپنے رنگ میں رنگ رہا ہے اور ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی کہیں اور سے مصلح آئے اور ہماری نہیں دوسروں کی اصلاح کرے۔ ہماری اصلاح کرنے کو ہمارے ڈرامہ چینل ہی کافی ہیں۔ یہ سارے چینل اخلاقیات سے عاری ہیں۔ کسی بھی چینل کی بات کریں تو وہ یہی بھیانک چہرہ دکھاتے ہوئے نظر آتا ہے کہ ہمارا نوجوان جنسی بے راہ روی کے راستے پر گامزن ہے اور یہ چینل اسے سیدھے راستے پر لانے کی بجائے اسے اور خراب کرنے کی بہم جستجو میں جٹے ہیں۔
کسی زمانے میں محبت کے جذبات کا اظہار کسی رشتے سے نہیں کیا جاتا تھا کوئی عام لڑکی ہوتی تھی جو راہ چلتے یا کسی بھی طور سے ہیرو کو ملا کتی تھی مگر اب ہمارے شمس و قمر نے عام لڑکی کی بجائے ان ڈراموں اور کہانیوں میں بیوی کی بہن، دوست بھابی، نند، بیٹے کی بیوی، ایسے محترم رشتے آ چکے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ ان سب سے بڑھ کر جو کام اس وقت ہماری نئی نسل کے ساتھ جاری ہے اس کا خمیازہ آنے والے چند سالوں میں ہمیں لازمی بھگتنا پڑے گا۔
اسی طرح اینی میشن کے اس دور میں کارٹون ایک تباہ کن ذریعہ بن گئے ہیں۔ لڑکوں بالوں کو بے راہ روی کے عملی طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال ایک چینل پر چلنے والے کارٹون ایڈونچرز آف میریکولس لیڈی بگ اینڈ کیٹ نائر ہیں۔ اس کی ہر قسط میں ٹین ایج یعنی تیرہ سے انیس سال کے بچوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور کسی نہ کسی طریقے سے لڑکے لڑکی کا معاشقہ آگے بڑھانے کی عملی مشق کروائی جا رہی ہے۔ بس چوما چاٹا نہیں باقی سب کچھ ہے کہ کیسے لڑکی لڑکے کو پروپوز کرے، کیسے لڑکا لڑکی کو ڈیٹ کی دعوت دے۔
کیسے شائی لڑکے یا لڑکی کو راضی کرنا ہے، اس میں صرف کہا ہی نہیں جا رہا بلکہ اس فرضی کہانی کے تمام کردار اسی کاز کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس سیریز کے کردار کارٹون بنانے والوں نے اپنے معاشرے کے مطابق ترتیب دیے ہیں اور وہاں جو لڑکا یا لڑکی لڑکپن میں معاشقہ نہ کرے یا ڈیٹ پر نہ جائے اسے ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لے جاتے ہیں کہ اسے کوئی طبعی یا نفسیاتی روگ ہے۔ مطلب ہمارے ہاں کی شریف النفسی ان کے ہاں ایک بیماری ہے۔
اسی چیز کو لے کر وہ ہمارے بچوں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔ گو ہمارا معاشرہ اور معاشرتی اقدار عرصہ دراز سے دھڑن تختہ ہو چکی ہیں مگر ان گرتی ہوئی دیواروں کو دھکے دینے کی بجائے ان کے لئے پشتے کا انتظام کرنا چاہیے شاید کہ یہ عمارت گرنے سے بچ جائے۔ اگر یہی باتیں ان کارٹون چینل نے سکھانی ہیں تو پھر انہیں بچوں کے لئے چلانے کی کیا ضرورت ہے ان کی جگہ بھی کوئی انتہائی بے حیا قسم کی سیریز جو کہ آج کل عام ہیں وہی چلا دیں۔ کم از کم ہم والدین اس دھوکے میں تو نہیں رہیں گے کہ ہمارے بچے کارٹون دیکھ رہے ہیں۔

