بائپرجوائے اور میرا وطن


1985 ء میں ہم نارتھ ناظم آباد میں رہائش پذیر تھے جون کی ایک صبح کا ذکر ہے اتوار کی وجہ سے چھٹی کا دن تھا ہم سب گھر والے دیر تک سو رہے تھے اچانک گھر کی گھنٹی بجی۔ میں نیند کے اثر سے آنکھیں مسلتا ہوا گھر کا صدر دروازہ کھولنے گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ہمارے ڈیفنس کراچی میں رہنے والے دو رشتہ دار مع اپنے خاندان کے موجود ہیں اور اپنے ہاتھوں میں سفری بیگز بھی تھامے ہوئے ہیں میں نے ان سب کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور ان کی خیریت دریافت کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ آج بہت تباہ کن سمندری طوفان کراچی کے ساحل سے ٹکرا نے والا ہے اس لیے ہم اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آ گئے ہیں۔

مزید تفصیلات معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقے میں آج صبح سے ہی نیوی کی گاڑ یاں اور عملہ میگا فونز پر یہ اعلان کر رہا ہے کہ لوگ اپنے گھر خالی کر دیں اور کسی محفوظ جگہ پر پناہ لے لیں کیونکہ کسی بھی وقت سمندری طوفان کراچی پہنچنے والا ہے اور کم از کم ڈیفنس اور کلفٹن کا علاقہ تو فوراً ہی سمندر برد ہو جائے گا۔ اس زمانے میں وی سی آ ر نیا نیا آیا تھا تو میرے ایک کزن کو کچھ اور نہ سوجھا وہ صرف اپنا وی سی آر اٹھا کر ہی دوڑ پڑا اور ہمارے گھر آ گیا بعد میں یہ طوفان کراچی کے ساحل پر پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا اور کراچی میں کسی قسم کی تباہی نہ آئی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مون سون کے مہینے میں بحریہ عرب میں بہت سے طوفان (سائیکلون) جنم لیتے ہیں وہ یا تو سمندر کے اندر ہی ایک لمبا سفر طے کر کے دم توڑ دیتے ہیں یا کچھ بھارت میں واقع گجرات کے ساحلوں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ کراچی کے جائے وقوع کچھ ایسی ہے کہ یہ سمندری طوفانوں کے عمومی روٹ کی زد میں نہیں آتا۔ 1985 میں نہ تو سوشل میڈیا تھا نہ ٹی وی چینلوں کی بھرمار تھی پھر بھی اس وقت کراچی کے شہریوں پر سمندری طوفان کا خوف طاری ہو گیا تھا۔

آج کل بھی سمندری طوفان ”بائپر جوائے“ کا غلغلہ بلند ہے اب تو منٹ منٹ پر بریکنگ نیوز آ رہی ہوتی ہے اور عوام پہلے سے ہی ٹینشن بھری فضاء میں مزید ٹینشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں پہلی مرتبہ تباہ کن طوفان (سائیکلون) کوئی سوا سو سال پہلے 1902 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جس کو امریکہ کے اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے 17 جون 1902 کے شمارے میں اس طرح رپورٹ کیا تھا:

” بمبئی 16 جون۔ ایک بڑے طوفان نے سمندری لہروں کے ساتھ کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کراچی، صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے، اور کافی اہمیت کی حامل بندرگاہ ہے۔ یہ حیدر آباد سے نوے میل جنوب مغرب میں، سندھ کے مغربی علاقے میں ایک چھوٹی سی خلیج پر واقع ہے، اور یہاں پر مصنوعی طور پر بنائی گئی ایک بہترین بندرگاہ بھی موجود ہے۔ گزشتہ سال کراچی کی آبادی 115,407 تھی۔ بندرگاہ کی بنیادی تجارت گندم، بیج، کپاس اور اون کی برآمد پر مشتمل ہے اس کے علاوہ بہت سی اشیاء کی درآمد بھی اس بندر گاہ سے ہوتی ہے۔ درآمد اور برآمد کی کل تجارت تقریباً 180,000,000 روپے سالانہ ہے۔

”لفظ“ سائیکلون ”یونانی نژاد ہے اور اس کا مطلب ہے“ سانپ کی کنڈلی ”۔ اس میں کوئی شک نہیں ایک سائیکلون نہ صرف سانپ کی کنڈلی سے مشابہت رکھتا ہے بلکہ اس میں تباہی پھیلا نے کے اعتبار سے ہزاروں سانپوں کا زہر ہوتا ہے۔ اس سائیکلون کے نتیجے میں نہ صرف متاثرہ علاقوں میں بہت تیز ہوائیں چلنی شروع ہوجاتی ہیں بلکہ غیر معمولی اونچی سمندری لہریں ساحل سے ٹکرا نے لگتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں سیلاب بھی آ جاتا ہے۔

جو بڑی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ آج کل میں آنے والے طوفان کا نام“ بائپر جوائے ”ہے، سن 2004 سے قبل طوفان کے اس طرح کے ناموں کی کوئی روایت نہیں تھی جس طرح آج ان کے نام رکھے جاتے ہیں۔ سمندری طوفانوں کے نام رکھنے کے حوالے سے جنوبی ایشیائی ممالک کا ایک پینل بنایا گیا جسے پینل اینڈ ٹروپیکل سائیکلون (پی ٹی سی) کہا جاتا ہے۔ اس پینل میں ابتدائی طور پر سات ممالک تھے جن کی تعداد بڑھ کر اب 13 ہو گئی ہے جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، میانمار، تھائی لینڈ، مالدیپ، سری لنکا، عمان، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ’بائپر جوائے‘ طوفان کو نام بنگلہ دیش کی جانب سے دیا گیا ہے اور بنگالی زبان کا لفظ ہے۔

کراچی میں سمندری طوفان کا خطرہ سال میں ایک آدھ ہی دفعہ محسوس کیا جاتا ہے وہ بھی عام طور پر ہمارے ساحلوں کو متاثر کیے بغیر گزر جاتا ہے لیکن میرا وطن پچھلے پچھتر سال سے مسلسل سیاسی اور سماجی طوفانوں میں گھرا ہوا ہے اور ان طوفانوں کے تباہ کن اثرات ہر طرف پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میرے پاک وطن میں ان کا آغاز اکتوبر 1947 میں ہی ہو گیا تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر ایک جنگ چھڑ گئی جس میں پاکستان کے حکمرانوں نے بے دریغ سرحدی، قبائلی مسلح جتھوں کا استعمال کیا۔

یہ جنگ یکم جنوری 1949 تک جاری رہی اس جنگ کا ایک منفی نتیجہ یہ بھی یہ نکلا کہ 1951 میں پاکستان کی حکومت کی کشمیر کے بارے میں پالیسیوں سے ناراض کچھ فوجی افسران نے بغاوت کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی۔ اس کوشش کو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ابھی اس طوفان کے اثرات ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ اس وقت کے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو اسی سال 16 اکتوبر کو قتل کر دیا گیا اس کے بعد پاکستان کا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ مسلسل طوفانوں کی زد میں آ گیا۔

1953 میں ملک کے دوسرے گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو بر طرف کر دیا۔ 1954 میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے گورنر جنرل نے پوری اسمبلی کوہی تحلیل کر دیا۔ 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین نافذ کیا گیا جو صرف 31 مہینے ہی چل سکا اس دوران صدر سکندر مرزا نے تین وزرائے اعظم کو یکے بعد دیگرے برطرف کر دیا اس کے بعد اکتوبر 1958 میں پاکستانی فوج کے کمانڈر ان چیف اور وزیر دفاع جنرل ایوب خان نے گورنر جنرل کے ساتھ ساز باز کر کے 1956 کا آئین ہی منسوخ کر دیا اور ملک میں تھوڑے ہی عرصے بعد جنرل ایوب خان کی قیادت میں نام نہاد فوجی انقلاب کی نوید سنائی گئی۔

یہاں تک کہ 1968 کا سال آ گیا اور ایوب خان کو عوام کے دباؤ میں آ کر اقتدار کا سنگھاسن چھوڑنا پڑا اب ایک نئے فوجی جرنل کی قیادت میں 1970 میں ملک گیر انتخابات کرائے گئے۔ لیکن برسر اقتدار فوجی ٹولا حکمرانی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوا نتیجے میں 1971 کی پاک بھارت جنگ شروع ہو گئی اور پاکستان کا 50 فیصد سے زائد حصہ ایک نئی مملکت کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا جو آج بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔

اتنے بڑے سانحہ کے باوجود ہمارے حکمران طبقے نے ہوش کے ناخن نہیں لئے اور ملک طوفانی جھکڑوں کا شکار ہی رہا۔ یہاں تک کے 1979 میں ملک کے ہر دلعزیز جمہوری طور پر منتخب شدہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی جنتا نے تختہ دار پر لٹکا دیا یہ ہماری قومی تاریخ میں بہت بڑا طوفان (سائیکلون) تھا جس کے اثرات قوم اب تک بھگت رہی ہے۔ 90 کی دہائی میں ایک اور شدید طوفان آیا اور ملک کے منتخب وزیر اعظم کو با قاعدہ ہتھکڑیاں لگا کر وزیر اعظم ہاؤس سے گرفتار کر لیا گیا۔

اور پھر ان کو دہشت گرد قرار دے کر اپنی من پسند عدالتوں سے فیصلہ کروا کے سزائے موت دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ لیکن بوجوہ اس سزا پر عمل درآمد نہ ہو سکا اس کے بعد بھی دو وزیر اعظم کو متنازعہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے گھر کی راہ دکھا دی گئی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج بھی 22 کروڑ عوام حیران و پریشان ہیں اور چاروں طرف سے طوفانوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں کب تک طوفانوں کی یہ سیاہ راتیں روشن صبح میں بدلیں گی۔

Facebook Comments HS