بچے پیدا کرنا ایک فیشن ہے کیا؟
دنیا میں اتنے بچے ہیں، آبادی آٹھ ارب کو پہنچ چکی ہے۔ پر ہم سب کو اپنا بچہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ نا کریں تو دنیا باتیں کرتی ہے کوئی خرابی ہے کیا، یہ ڈاکٹر وہ ڈاکٹر، فلاں حکیم، ایسا ٹوٹکا۔
پھر آتے ہیں وہ لوگ جو بچے کے لیے دوسری شادی کرتے ہیں، ویسے تو کوئی گارنٹی نہیں، پر اکثر اولاد ہو جاتی ہے اور سر فخر سے بلند اس کے بر عکس مصطفٰی آفریدی نے ایک ڈرامے اسیر زادی میں خوبصورت انداز میں لکھا ہے جہاں پہلے دو بیویوں سے اولاد نہیں ہوتی۔ نسل در نسل اور تیسری خاندان کو وارث دیتی ہے۔
نسل و نام بڑھانے کا زعم، دنا میں اپنا اپ منوانے کی چاہ میں اولاد پیدا کرنے کا علاوہ کچھ لوگ جوڑیوں کے لیے بھی اولاد پیدا کرتے ہیں۔ پہلے وہ ہوتے ہیں جو ایک بچے کے کھیلنے کے لیے دوسرا بچہ پیدا کرتے ہیں، پھر وہ کہ ایک بیٹا ہے، دوسرا ہو جائے تو جوڑی ہو جائے گی، اب دو بیٹیاں ہو جائیں۔ ہمارے ایک ملنے والی ہیں انہوں نے آٹھواں بچہ اس خواہش میں پیدا کیا کہ تین بیٹے ہیں، چار ہو جائیں گے تو مکمل ہو جائیں گے۔ تھوڑا جو سانس پر زور چلتا تو پیدا بیٹا ہی کرواتی۔
غریب لوگ بچے اس لیے بھی پیدا کر لیتے ہیں کہ جتنے زیادہ ہوں گے اتنے ہی کما کر لائیں گے۔ باقی کے لوگ جتنے بھی ہوتے ان میں ننانوے فیصد بس یوں ہی پیدا کر لیتے۔ اور یوں ہی پیدا ہوئے بچوں میں سے اکثر یوں ہی چھوڑ دیے جاتے۔ ایدھی سینٹر اور یتیم خانے میں ایسے بچوں کے علاوہ بھی ایسی بہت بڑی تعداد ہے بچوں کی جن کے ماں باپ ان کو پیدا کر کے بھول جاتے ہیں۔ ایک طرف جوڑی کے چکر میں اولاد کی لائن، پھر وہ جو دو لوگوں کے ملاپ پر دنیا میں آ تو گئے پر اب پالنا کسی عذاب سے کم نہیں لگتا۔ روٹی کپڑا اور مکان ہی کسی بچے کی ضرورت نہیں ہوتے۔ تربیت، محبت، اور وقت بھی ہوتے ہیں۔ دو لوگ ایک دوسرے کو سمجھے ہوتے نہیں، پہلے اولاد پیدا کر لیتے ہیں، اور معاشرہ بھی یہی کہتا ہے، بچہ انڈر سٹینڈنگ پیدا کر دے گا۔ جس کے پیدا ہونے سے پہلے انڈرسٹینڈنگ نہیں اس کے ہونے سے کیا ہو گی۔ پرورش تو گئی تیل لینے۔ سپیریشن ہو جانے کے بعد تو صورتحال الگ ہوتی ہے، جہاں دو لوگ ایک چھت کے نیچے مل نہیں پاتے وہاں کے بچوں کی حالت بھی کسی مطلقہ لوگوں کے بچوں جیسی ہی ہوتی ہے۔ بچے گیند کی طرح ادھر ادھر لڑھکتے رہتے ہیں، اس کی ذمہ داری یہ پالے، اس کی ذمہ داری وہ پالے۔ بچوں کی شخصیت میں ایسے خلا پیدا کر دیتی ہے۔ یہ صورتحال کہ پھر زندگی بھر پر نہیں ہوتے یہ خلا۔ کسی ان پڑھ سے کیا گلہ کرنا، دنیا میں پڑھے لکھے جاہل بہت ملیں گے، جن کے رویوں نے بچوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ اپنی انا کے چکر میں۔ نا جانے یہ لوگ پیدا کرنے سے پہلے کیوں نہیں سوچتے۔ دنیا میں جہاں اتنے بچے بھوک سے مرتے ہیں وہیں ایسے بچوں کی بھی بڑی تعداد ہے جن کو اپنے ہی والدین کے رویہ اور حرکتیں مار دیتی ہیں، فرق صرف اتنا ہوتا ہے وہ ہمیں سانس لیتے نظر آتے تو ہیں پر مکمل نہیں ہوتے۔ دنیا میں بچہ پیدا کرنا بھی کسی فیشن سے کم نہیں رہا جو ضرورتاً اپنایا جاتا ہے دنیاداری کے لیے۔


