وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے


شجاع کے لیے آج کا دن کس قدر مسرتوں سے لبریز دن تھا کہ برسوں کی تمنا اور ایک خواب اپنے تعبیر کے پیراہن میں رونما ہو کر دعاؤں کو قبولیت بخش رہا تھا۔ ماحولیات کے شعبے میں انسپکٹر بننا شجاع کی دیرینہ خواہش تھی اور برسوں کی ان تھک محنت، امتحانات کے طویل سلسلے سے نبرد آزمائی اور چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد آج ہی یہ آرڈر موصول ہوا تھا کہ اسے امونیا گیس (Ammonia Gas) کی ایک فیکٹری کا دورہ کرنا ہے۔ آرڈر میں یہی لکھا تھا کہ اسے شہر کے صنعتی علاقے کے ایک برف کے کارخانے میں جانا ہو گا اور ایک مفصل رپورٹ تیار کرنا ہوگی کہ اس کارخانے میں برف جمانے کے لیے جو زہریلی امونیا گیس استعمال کی جا رہی ہے، اسے ماحولیاتی قوانین کے تحت کس حد تک محفوظ کر کے رکھا جاتا ہے یا کون سی مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے۔ شجاع نے علی الصبح ماں کے ہاتھوں سے بنا ہوا گرما گرم ناشتہ کیا، دعائیں لیں اور اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے مطلوبہ کارخانے کی تلاش میں شہر کے صنعتی علاقے کی جانب روانہ ہو گیا۔

عین اسی لمحے اسی شہر کی ایک انتہائی مصروف سڑک پر جو صنعتی علاقے کی جانب چلی جاتی تھی، ایک موٹر سائیکل پر سوار دو خوش پوش نوجوان چہروں پر امید کی جگمگاہٹیں لیے اپنے راستے پر رواں دواں تھے۔ دونوں لڑکوں نے سیاہ پینٹ پہن رکھی تھی البتہ دونوں کی شرٹس کی رنگت مختلف تھی تاہم جاذب نظر تھی۔ دفتری اصول و ضوابط کے مطابق دونوں نے ٹائی لگا رکھی تھی۔ ٹائی لگانے کی پابندی سے وہ دونوں اسکول کے زمانے سے ہی ناخوش رہتے تھے۔ بالخصوص موسم گرما میں تو ٹائی لگانا ایک دوہرا امتحان ثابت ہوتا۔ یہ دونوں نوجوان پلاسٹک کا دانہ بنانے والے ایک معروف کارخانے میں کام کرتے تھے جہاں انھیں سخت گرمی میں مختلف امور کی انجام دہی اور چلنا پھرنا پڑتا تھا۔ لہذا کارخانے جاتے ہی وہ پینٹ، شرٹ اور ٹائی اتار کر ڈانگری، جو کہ آفس کی پابندیوں میں سے ایک تھی، پہن لیتے تھے اور سر پر ہیلمٹ لگا لیتے تھے۔ یہ وضع قطع اختیار کرنے کے بعد ، جو ان کے خیال میں ان کی وجاہت کو متاثر کرتی تھی، وہ دونوں پلاسٹک کا دانہ بنانے والی مشینوں کی جانب چل پڑتے تھے جہاں بے اندازہ گرمی پڑ رہی ہوتی تھی۔ اس وقت وہ جس سڑک پر رواں دواں تھے، وہاں خوب ہوائیں چل رہی تھیں اور وہ دونوں اس وقت بھی یہی باتیں کر رہے تھے کہ جب ڈانگری پہن کر ہی کام کرنا ہے تو ٹائی لگانے کا اصول کیوں بنایا گیا ہے۔ تاہم وہ ایسا صرف اپنے دل میں ہی سوچ سکتے تھے کیوں کہ جن لوگوں نے یہ اصول بنایا تھا اور اسے لاگو کروایا تھا، وہی تو انھیں تنخواہ دیتے تھے۔ یہ بات دونوں نوجوانوں نے گرہ میں باندھ لی تھی کہ جب نوکری کرنی ہے تو پھر نخرے کس بات کے!

شجاع اور وہ دونوں نوجوان صنعتی علاقے کی ایک ہی گلی میں داخل ہوئے تھے۔ اسے گلی کہنا معنوی و ارضی اعتبار سے درست نہ تھا بلکہ یہ ایک ڈبل روڈ تھی اور خاصی وسیع و عریض بھی، لیکن پوسٹ آفس والے اسے گلی نمبر 8 ہی کہتے تھے۔ اس گلی میں داخل ہوتے ہی امونیا سے برف جمانے کا کارخانہ سب سے پہلے آتا تھا جب کہ پلاسٹک کا دانہ بنانے والی فیکٹری اس ڈبل روڈ کے کونے پر واقع تھا۔

شجاع جب برف کے کارخانے میں داخل ہوا تو اس کا استقبال نہایت گرم جوشی اور پرتپاک انداز میں کیا گیا تھا اس کا سبب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا کہ وہ ایک آن ڈیوٹی ماحولیاتی انسپکٹر تھا اور اسے یہ اختیار حاصل تھا کہ محض ایک رپورٹ کے ذریعے اس کارخانے کو کچھ دنوں، مہینوں یا ہمیشہ کے لیے بند کرا دیتا۔ لیکن شجاع کو اس کارخانے کی انتظامیہ سے کوئی ذاتی دشمنی، پرخاش یا خاندانی عداوت تو نہ تھی کہ وہ یہ سب کچھ کرنے کے بارے میں سوچتا۔ اسے تو بس دیانت داری اور اپنے فرائض کی نیک نیتی کے ساتھ بجا آوری کی فکر تھی کہ وہ ایک رپورٹ کی صورت میں ایک حقیقی منظر نامہ تیار کر کے اپنے افسران بالا کی خدمت میں پیش کرے جو کہ اس کی اولین ڈیوٹی بھی تھی اور ملک و قوم اور افراد معاشرہ کی حفاظتی ذمہ داریوں کے درست خطوط کی نشان دہی بھی۔ لیکن کارخانے کی انتظامیہ کے دانت مثل ہاتھی تھے کہ۔ کھانے کے اور، دکھانے کے اور۔ شجاع کو علم نہ تھا کہ آگے کیا واقعہ پیش آنے والا ہے۔ اسے تو بس یہی سمجھ آیا کہ کارخانے کی انتظامیہ نے اس کا پرتپاک استقبال کیا اور امونیا گیس سلنڈروں کے معائنے سے پہلے اسے چائے کے ساتھ لوازمات پیش کیے گئے اور اب وہ مرحلہ قریب تر تھا کہ اسے کارخانے کے حفاظتی امور کا جائزہ لینا اور رپورٹ تیار کرنی تھی۔

وہ دونوں نوجوان بھی اب اپنے پلاسٹک کے کارخانے میں داخل ہو کر اپنا لباس تبدیل کرچکے تھے اور مطلوبہ مشینوں کی جانب چل پڑے تھے۔ ابھی وہ اپنی اپنی مشینوں سے کچھ فاصلے پر ہی تھے کہ اچانک ایک ملازم بھاگتا ہوا آیا اور انھیں ایک نیلا پرچہ تھما دیا۔ ”بلیو نوٹ! یا اللہ خیر۔ کہیں نوکری سے سے تو نہیں نکال دیا گیا۔ “ دونوں کے دلوں میں بیک وقت یہی خیال آیا لیکن اس خیال کو انھوں نے زبان پر نہ آنے دیا اور نیلا پرچہ پڑھنے لگے۔ نیلا پرچہ ان کے کارخانے میں خاصا اہم سمجھا جاتا تھا۔ اس میں لکھی ہوئی تحریر پر حکم درآمد، فرض اولین سمجھا جاتا تھا۔ نوکری سے برخاستگی کی جان لیوا اطلاع بھی اسی نیلے پرچے میں ملبوس ہو کر آتی تھی لیکن آج اس نیلے پرچے پر ایک حکم درج تھا کہ آج ان دونوں لڑکوں کی ڈیوٹی عقبی دروازے کے پاس لگائی گئی تھی جہاں انھیں اپنی نگرانی میں دروازے کے قریب زیر زمین سوئی گیس کے پائپ میں ویلڈنگ کروانی تھی۔ ”سوئی گیس کے پائپ میں ہم کیوں ویلڈنگ کروا رہے ہیں؟ یہ کام تو گیس کمپنی والوں کا ہے۔“ لیکن اس مرتبہ بھی اس خیال کو انھوں نے اپنی زبان پر نہ آنے دیا تھا اور حکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق خاموشی سے عقبی دروازے کی جانب چل پڑے۔ شجاع کی طرح انھیں بھی نہیں معلوم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ وہ تو بس یہی اندازہ لگا سکے کہ جب ویلڈنگ کے بعد سوئی گیس کے پائپ کا سائز بڑھ جائے گا تو سوئی گیس کا پریشر بھی بڑھ جائے گا اور اس سے فیکٹری میں خوش حالی آئے گی۔

امونیا سلنڈر والی جگہ میں داخلے سے قبل شجاع کو پہلے اپنے کپڑے تبدیل کرنے پڑے اور ایک تنگ ڈانگری پہننی پڑی۔ یہ کارخانے میں کسی بھی جگہ جانے کا لباس تھا۔ اس جگہ پر ڈھیلا ڈھالا لباس پہننے کی ممانعت تھی۔ شجاع بھی ڈانگری پہنے اپنی ناک پر گیس ماسک لگائے امونیا گیس کے اسٹور میں داخل ہوا۔ یہ گیس ماسک اسے کارخانے کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امونیا گیس جن سلنڈروں میں بند تھی، وہ سات طویل قطاروں میں ایستادہ تھے۔ گویا اسے سات چکر لگانے تھے ہر سلنڈر کو باری باری چیک کرنا تھا۔ پہلی قطار اس نے کامیابی سے چیک کرلی۔ ہر سلنڈر ٹھیک تھا۔ ماحولیاتی و حفاظتی اصولوں کے عین مطابق۔ دوسری قطار میں داخل ہوتے ہی شجاع نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

پولیس نے جب تفتیش کی تھی تو چوتھی قطار میں شجاع کے جوتوں کے دو تین نشانات پائے گئے تھے جو اتنے مدھم تھے کہ شامل تفتیش ہی نہیں کیے گئے تھے۔ اس کی لاش برف کے کارخانے سے کچھ دور اس کی ایکسیڈنٹ شدہ موٹر سائیکل کے پاس پڑی ملی تھی۔ اس نے وہی لباس پہن رکھا تھا جسے پہن کر وہ آج گھر سے نکلا تھا۔ کارخانے کے ریکارڈ کے مطابق وہ تو آج کارخانے پہنچا ہی نہ تھا۔ لیکن یہ بات کارخانے کا ہر شخص جانتا تھا کہ چوتھی قطار کے سلنڈر لیک ہو رہے تھے اور انھیں تبدیل کرنے کا فی الوقت مالکان کوئی ارادہ نہ تھا۔ اسی لیے جب شجاع نے انھیں چیک کرنے کی کوشش کی تھی تو ایک خستہ حال سلنڈر سے ایک دم سے امونیا گیس نکل کر اس کے منہ پر پڑی تھی۔ اس کا ماسک، گیس کے حملے کو روک نہ پایا تھا اور اسے اپنے خوابوں سمیت ختم ہونے میں محض چند ہی سیکنڈ لگے تھے۔

وہ دونوں نوجوان بھی ویلڈنگ کے معاملے میں ناتجربہ کار تھے۔ کام جائز ہو یا ناجائز، ہر دو میں عقل اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویلڈنگ کا کام مکمل کروانے کے بعد انھوں نے گرم پائپ کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار ہی نہ کیا اور سوئی گیس کے گرم پائپ میں ہی دوبارہ گیس چھوڑ دی۔ ایک خوف ناک دھماکا ہوا۔ پائپ بھی اڑ گیا اور وہ دونوں بھی جان سے گئے۔ گیس کا الگ نقصان ہوا۔ یہ کیس بھی کارخانے کی سابقہ روایات کے تحت دبا دیا گیا۔

اگلے روز اس شہر کی ایک معروف جامعہ کے لیکچر ہال میں ایک خاتون پروفیسر لیکچر دے رہی تھیں : ”ان دونوں کو جب ویلڈنگ کا کام ہی نہیں آتا تھا تو انھوں نے فیکٹری انتظامیہ کی اجازت کے بغیر ویلڈنگ کیوں شروع کی؟ اگر انھوں نے سوئی گیس لیک ہوتے دیکھی تھی تو فوراً اپنے سیفٹی افسر کو مطلع کرنا چاہیے تھا۔ اللہ کے بندوں کو کیا پڑی تھی کہ چلتی گیس کے پائپ میں ویلڈنگ شروع کر دیں؟ میں نے ان کا تعلیمی ریکارڈ دیکھا ہے۔ وہ زمانہ طالب علمی میں بھی سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوتے تھے۔ “ جونئیر طلبہ خاموشی سے خاتون پروفیسر کا لیکچر سن رہے تھے۔ وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ ٹیچر کی بات سے ذرا سا اختلاف اور نتیجہ فرسٹ ڈویژن سے سیکنڈ ڈویژن میں تنزلی، اور زیادہ مزاحمت پر جامعہ سے بے دخلی یا پورے تعلیمی سال کا نقصان۔

لیکن اسی لیکچر ہال میں بیٹھے ان دو طلبا کے دلوں میں اپنے گریڈ کی تنزلی کا خوف نہ تھا۔ انھوں نے فی الحال تو اپنی پروفیسر سے اختلاف نہ کیا لیکن اپنے دل میں یہ ضرور سوچا: ”ہم ایک خط لکھ کر ان دونوں نوجوانوں کے قتل کا معاملہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں اٹھائیں گے۔“ ان دونوں نے کلاس سے باہر نکل کر اس بات کا بھرپور عزم کیا۔ ان کا عزم جنگل کی آگ کی طرح پوری یونیورسٹی میں پھیل گیا تھا۔ آخری خبر یہی تھی کہ وہ دونوں پرعزم طلبا یونیورسٹی کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایک پکنک منانے ساحل سمندر گئے تھے اور ڈوب کر مر گئے تھے۔

سوچنے کا مقام یہ ہے کہ فرد اور ذمہ داران کے باہمی ربط کا وہ اصول جس میں عداوت، گریز، دشمنی اور دوری کے بجائے محبت، رواداری، ذمہ داری اور بجا آوری کا احساس پیدا ہو، وہ معاشرے، جامعات اور اداروں میں کیوں کر مفقود ہے۔ نا انصافی، جھوٹ، بد امنی، لوٹ کھسوٹ پر مبنی اس معاشرے میں تباہی اور موت کی کہانیاں صرف ان کارخانوں میں ہی تو رقم نہیں ہو رہی ہیں۔ اٹھارہویں صدی کا انقلاب فرانس فرد کی آزادی کا علم بردار تھا لیکن چشم انساں نے یہ بھی دیکھا کہ مشینی ترقی کے سیلاب نے دولت اور ذخائر دولت کو چند افراد کی ملکیت بنانے کا آغاز کیا اور سرمایہ داروں نے سامراجیت کے ساتھ ساز باز کر کے سواد اعظم کو جب ان چند افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو المیے کی یہ داستان رقم ہوتی گئی اور ہوتی ہی چلی گئی۔

Facebook Comments HS