مسیحی علما کی عربی زبان کی خدمات (2)
لبنانی مصنف، زبان داں اور شاعر ناصیف بن عبد اللہ بن جملات بن سعد ال یزجیجس کے بارے میں مشہور تھا کہ "یہ وہ عیسائی اہل علم تھا جو قرآن کریم کی ایک کے بعد ایک آیت یاد کیا کرتا تھا, اور انہیں قرآن حفظ تھا، متنبی کے اشعار زبان ازبر تھے، عربی کہاوتیں، محاورے لطیفے و کہانیاں ہر گفتگو میں اس کی زبان پر ہوتی تھیں، عربی محاوروں کی اصل، عرب اشعار کے شعراء کے ریفرنسز اس کے کمال حافظے کا خاصہ تھے”۔
ناصیف الیازجی ۲۵ مارچ سنہء ۱۸۰۰ (25 مارچ سنہء 1800) میں لبنان کے ساحل کے ایک دیہات کفرشیما میں پیدا ہوا۔ وہ مطالعے کا بے پناہ شوق رکھتا تھا، حوران سے تعلق رکھنے والے ناصیف الیازجی کے یزگی خاندان نے سترہویں صدی میں مغربی لبنان حمص میں ہجرت کی تھی، ان کے خاندان کے بہت سے افراد نے فکر و ادب میں عبور حاصل کیا تھا۔ ناصیف الیازجی کے والد عبداللہ الیازجی کفرشیما کے حاکم خاندان "شہابی خاندان” کے خاندانی مصنف کی حیثیت سے کام کرتے تھے، عبداللہ الیازجی ڈاکٹرین آف ابن سینا کے ماہر اور ادبی ذوق رکھتے تھے ، اسی بنیادوں پر ناصیف الیازجی کی ابتدائی تعلیم کے محرک عبداللہ الیازجی ہی تھے جس کی بنیاد پر انہوں نے صرف و نحو ، گرائمر ، فصاحت ، زبان اور شاعری کے علاوہ میں مہارت حاصل کی، بلکہ طب، فلسفہ, موسیق اور فقہ میں بھی اپنے عہد میں کمال حاصل کیا۔
سولہویں برس سے ہی ناصیف الیازجی نے اپنا علمی رنگ دکھانا شروع کردیا تھا، ناصیف الیازجی کی شہرت کی بنیاد پر اس وقت لبنان کے مقامی حکمران شہزادے بشیر الشہابی نے اسے اپنے محل میں علمی اسکالر متعین کیا۔ شہابی خاندان کے ملک چھوڑنے کے بعد سنہء ۱۹۴۰ (سنہء 1940) میں ناصیف الیازجی بیروت چلے آئے، جہاں امریکہ مشنریز کے ساتھ کام کیا، اسی عرصے میں اپنی شاعری کا دیوان لکھا، بطرس البستانی اور میخائل میثاقہ کی ہمراہی میں ناصیف الیازجی نے سنہء ۱۸۴۷ (1847) میں "شام کی انجمن برائے سائنس اور آرٹس” کو تشکیل دیا۔ یہ "عرب دنیا کی پہلی ادبی سوسائٹی” تھی، اس حلقے نے خواتین کے حقوق ، تاریخ اور مقامی توہم پرستی کے خلاف اور ان جیسے کئی متفرق موضوعات کو اپنے مباحث میں شامل کیا اور جرائد کی شکل میں ابلاغ کے لئے شائع کیا۔ اس سوسائٹی کو سنہء ۱۸۵۲ (1852) میں تحلیل کردیا گیا تھا، لیکن اس کا اندرونی دائرہ چند سال بعد شام کی سائنسی ایسوسی ایشن کے قیام کے سلسلے تک بالآخر پہنچ گیا، اس وقت عرب کے اہل علم اور دانشوروں کا ایک بہت بڑا ، کثیر المکاتیب فکر معاشرہ بن گیا تھا۔جس نے عثمانیوں کے مقابل عربوں کی آزادی کے لئے راہ ہموار کی تھی۔
اسی عہد میں امریکن ڈاکٹر اسمتھ اور ڈاکٹر کارنیلیس وان ڈیک بائبل کے عربی ترجموں پر کام کررہے تھے, ناصیف الیازجی کی عربی فصاحت و بلاغت پر دسترس دیکھ کر انہیں امیریکن اسکول میں نوکری دے دی گئی، سنہء ۱۸۶۳ (1863) میں ایک اور اہل علم عیسائی بطرس البستانی انہیں بیروت میں اپنے قائم کردہ اسکول قومی مدرسہ میں لے آئے، جہاں اس نے بطرس البستانی کی کتاب "محیط المحیط” پر بھی معرکتہ آلآرا کام کیا، اس کے علاوہ عیسائی مذہب کی مقدس کتاب بائبل کا اصل زبان سے عربی زبان میں ترجمہ کرنے میں ناصیف الیازجی نے ڈاکٹر کارنیلیس وان ڈیک، بطرس البستانی اور شیخ یوسف الاسیری الاظہری کے ساتھ مشترکہ کام کیا اور بالآخر بائبل کا پورا ترجمہ ۲۳ اگست سنہء ۱۸۶۴ (23 اگست 1864) کو مکمل ہوا، ناصیف الیازجی نے بائبل کے پہلی مرتبہ عبرانی زبان سے عربی زبان میں ترجمے کے عمل میں اپنا حصہ ڈالا تھا اور یہ ترجمہ ۲۹ مارچ سنہء ۱۸۶۵ (29 مارچ 1865) کو مکمل طور پر چھاپا گیا تھا۔ ناصیف الیازجی نے بائبل کے انڈیکس کی تکمیل میں حصہ لیا تھا، عربی میں بائبل کا پہلا ایڈیشن ۲۹ مارچ ۱۸۶۵ کو شائع ہوا تھا، اور بائبل کا اشاریہ ۱۸۷۵ (1875) میں پہلے ایڈیشن میں شائع ہوا۔ جسے بعد میں بیروت کی جامعات میں نصاب کا حصہ بنایا گیا۔
انیسویں صدی میں عربوں میں عربی کلاسیکل زبان کے احیاء میں ناصیف الیازجی کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، ناصیف الیازجی نے عربی زبان سے محبت اور لگاؤ میں جو قابل ذکر کام کیا اس کی وجہ سے وہ النھضہ تحریک کے ایک بڑے محرک کردار بن گئے، عربی کلاسیکل زبان کے ادبی نشات ثانیہ کے ورثے کے احیاء اور فروغ کے لئے انیسویں صدی کے ایک بڑے نام کی حیثیت سے ابھرنے والے ناصیف الیازجی سنہء ۱۸۷۱ (1871) میں انتقال کرگئے، ان کی مشہور تصنیفات میں مجمع البحرين، مقامات فصیل الخطبات ( عربی قواعد پر مشتمل کتاب) الجوهر الفرد ( عربی صرف ) نار القرى في شرح جوف الفرا (عربی نحو پر) مختارات اللغة ( لسانیات لغت) العرف الطيب في شرح ديوان أبي الطيب ( ابو طیب المتنبی کے دیوان کی شرح جسے بعد میں ناصیف الیازجی کے بیٹے ابراہیم الیازجی نے مکمل کیا تھا), ابراہیم الیازجی بھی النھضہ تحریک کے ایک سرگرم کارکن کے طور پر مشہور رہے تھے۔ اس کے علاوہ ناصیف الیازجی کے تین شعری مجموعے النبذة الأولى (بمعنی اردو ترجمہ خلاصہ اول)، نفحة الريحان، ثالث القمرين (بمعنی اردو ترجمہ دو چاندوں میں سے تیسرا) اور "الشيخ ناصيف اليازجی” جسے عیسی میخائیل صبا نے ناصیف الیازجی کی ادبی و سوانح عمری پر لکھا ہے۔ (جاری ہے)
Facebook Comments HS


