بارے ’ہجو نگاری‘ کا کچھ بیاں ہو جائے


Critical Discourse Analysis  (بیانیے کا تنقیدی تجزیہ ) کے آلات تکنیک میں ایک  We and Them or Us and Othersہے یعنی ’ہم اور وہ یا ہم اور دوسرے‘ ۔ اس تکنیک کے مطابق افراد ( بزعم خود) اپنے آپ کو نیک، اچھا، صحیح اور اسی ترتیب سے دوسرے کو (بہ زبان خود ) بد، برا اور غلط کہہ رہے ہوتے ہیں۔ سیاسی بیانیے یا اخبارات میں چھپنے والے سیاسی بیانات کو اس آلہ تکنیک کے آئینے سے دیکھتے ہیں۔ اس تحریر کے لیے Them ’وہ‘ (ان ہی کے نہیں ) ہمارے بھی نشانے پر ہے۔

یہ صبح کے ایک کثیر الاشاعت اخبار کے صفحہ اول سے منتخب کی گئی سرخیاں ہیں۔ جن سیاست دانوں کے نام کے ساتھ بیانات تھے ؛وہ نام حذف کر دیے ہیں۔ دوسری طرف اگر بیان میں ہی Themکی جانب واضح اشارہ / نام موجود ہے تو اس کا نہ کچھ کیا جا سکتا تھا نہ کچھ کیا گیا ہے۔ اخبار اور خبریں الل ٹپ لی گئی ہیں۔ املا بھی وہی رکھا ہے (یہ سب ہماری غیر جانب داری کے منہ بولتے ثبوت نہیں تو اور کیا ہیں ) ۔

1۔ اپنی مردہ سیاست کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
2۔ دیکھ ہی لیں یہ کیا طوفان لانا چاہتے ہیں۔
3۔ جیلیں بھرنے کا دعویٰ کرنے والے دس سال اپنی جیبیں بھرتے رہے۔
4۔ مریم کو مسز منڈیلا بنا کر پاکستان میں لانچ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔
5۔ جو اپنی بیٹی کو نہیں مانتا وہ قوم کی بیٹیوں کا کیسے ہو گا۔
آزادی تم نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی چھین کر لی ہے، میرے نام پر صرف ایک پائن ایپل نکلا، اب ڈوب مرو۔
6۔ ملک کا کوئی قانون ہے یا ملکہ کے حکم پر چلانا ہے۔
7۔ جس کو زرداری نے بیٹا بنایا ہے اس کی ساکھ کیا ہوگی؟
8۔ زرداری کی کون سی ساکھ تھی جو خراب ہوئی۔
9۔ عمران کا ایک ہی بیانیہ ”االلہ کا واسطہ اقتدار دلا دو“ ۔
10۔ عمران نے آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان گروی رکھا۔
11۔ برگر مارچ والوں کو کہا تھا اپنا روٹ بتائیں لیکن عمرانی ٹولہ کسی رول کو خاطر میں لاتا ہی نہیں۔
12۔ بزدل کی نشانی ہے کہ جانے والے چیف کا گریبان اور آنے والے کے پاؤں پکڑے۔
13۔ ان کو عقل ہے نہ سیاست کی سمجھ۔
14۔ کوشش کریں گے کرپٹ ٹولے کی حکومت جلد ختم ہو۔
15۔ پی ٹی آئی کا وائٹ پیپر جھوٹ کا پلندا، گمراہ کن اور معاشی حقائق کے برعکس ہے۔
16۔ عمران کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے۔
17۔ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد عمران خان بادشاہ سے فقیر ہو جائیں گے۔

18۔ عمران خان نے شہباز شریف کا بندوبست کر دیا۔ صدر اعتماد کے ووٹ کا کہیں گے تو شہباز کو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔

19۔ پہلے ہمیں اس گند کو صاف کرنا ہے۔
20۔ ڈاکو چوروں کی چھتری کے نیچے اکٹھے۔
21۔ جلد شہباز کی نیندیں حرام کرنے والے ہیں۔
22۔ گھڑی بیچ کر پاکستان کی عزت خاک میں ملا دی۔
ووٹ خدمت کرنے والوں کو دینا ہے یا جھوٹے نعرے لگانے والوں کو۔
23۔ عمران اقتدار کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی منتیں کر رہے ہیں۔

24۔ بد عنوان گروہ معیشت کا جنازہ نکال چکا، قومی سلامتی کو زرداری کے سیاسی نابالغ فرزند کے رحم و کرم پر چھوڑنا مجرمانہ غفلت۔

25۔ عمران سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اب بھی سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث ہے۔
26۔ کراچی میں غنڈوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے، باپ امی بن گئی
لگتا ہے ایم کیو ایم لیڈر شپ نرسری کے بچوں نے سنبھالی ہوئی ہے۔
27۔ عمران کے دور حکومت میں غیر علانیہ آمریت تھی۔
28۔ عمران کو نشان عبرت نہ بنایا تو ملک کی تباہی کا ذمہ دار ہم سب کو سمجھا جائے گا۔
29۔ سازشی بیانیہ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ چکی، عمران خان کا مکروہ چہرہ قوم دیکھ لے۔

30۔ عمران آئی ایم ایف پروگرام کے خلاف، چاہتا ہے ملک میں عدم استحکام کی آگ بھڑکے، سڑکوں پر فتنہ فساد اسی کے ایجنڈے کا حصہ۔ عدالت کو تلاشی اس لیے نہیں لینے دیتا کیونکہ مجرم ہے۔

31۔ فتنے سے نجات دلاؤں گا۔
32۔ فارن ایجنٹ گھڑی چور گیدڑ بزدل اور خوف کا نمونہ عبرت بن چکا۔
33۔ نواز، زرداری مارشل لاء لگانے پر متفق
34۔ PTIغیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دے۔ PTIوالوں کی زبانیں نکلی ہوئی تھیں۔
35۔ عمران فراڈیا، دو نمبر

36۔ عمران نے کرسی بچانے کے لیے معیشت پر خودکش حملہ کیا، اب کہتا ہے فوج میری مدد کے لیے آئین توڑے۔ چیئر مین پی ٹی آئی ماضی کا قصہ بن چکا، جتنا چیخنا ہے چیخے۔

37۔ چوروں کی حکومت اکنامک ہٹ مین بن گئی۔
38۔ عمران نیازی نون لیگ کو نشانہ بنانے کے گرینڈ ڈیزائن میں شامل رہا۔
چیئر مین پی ٹی آئی کی ہرزہ سرائی نے سیاست کو بدنام کیا۔
39۔ سازشی ٹولہ الیکشن سے بھاگ رہا ہے۔
40۔ ہم ملک دیوالیہ ہونے سے بچانا چاہ رہے ہیں، ایک بے شرم شخص چاہتا ہے پاکستان ڈیفالٹ کر جائے۔
41۔ عمران جیل بھرو تحریک چلائیں، پہلے بیٹوں کو بلائیں۔
42۔ ایک لیڈر دہشتگردوں کو بسانے کے لئے آگے بڑھ رہا ہے، اپنوں سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔
43۔ APCڈرامہ ہے، عمران خان شرکت نہیں کریں گے۔
امپورٹڈ سرکار کو نہیں مانتا جس نے دہشتگردی کو پھیلنے دیا۔
44۔ عمران نے کہا تھا میں ان کو رلاؤں گا، پتہ نہیں ہمیں کہہ رہا تھا یا ان کو جو آج رو رہے ہیں۔
45۔ چوروں کی غلامی کروں، ایسا ممکن نہیں۔

46۔ یہ نہیں ہو سکتا کوئی گالیاں، دھمکیاں دے اور اسے استثنا دیا جائے، اداروں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہاں لکیر کھینچنی ہے۔

47۔ جیل کا شوق ہے تو ضمانتیں کیوں کراتے ہو
جیل بھرو نہیں ڈوب مرو تحریک چلائیں۔

48۔ عمران نے اداروں کو تقسیم کر دیا، مقدس گائے والا نظام نہیں چلنے دیں گے، لاڈلے کو بچانے کے لئے آئین کو دوبارہ لکھنے کی کوشش۔

غیر جمہوری شخص چلا گیا، سوچ اب بھی وہی ہے۔
49۔ مافیا عدلیہ پر حملہ آور، مریم نواز جج کی ٹیپ چلا رہی ہے۔

50۔ اعلیٰ عدلیہ کا دہرا معیار۔ ایک وزیر اعظم کو پھانسی، دوسرے کے لئے تاریخ پر تاریخ، نیب قانون ججز پر بھی لاگو کریں۔

Them or Othersکی خبریں بس یہیں تک۔ مندرجہ بالا پچاس اور مندرجہ ذیل دو کو ملا کر کل باون سرخیوں میں سے یہ انتخاب تقریبا تیس بتیس اخبارات میں سے ہے، لیکن بات اتنی نہیں ؛یہ نصف صدی سے پون صدی زائد کا قصہ ہے دو چار برس کم نہ زیادہ۔

عرصہ قبل انتظار حسین کا کالم بعنوان۔ ”تشدد کی زبان“ پڑھا تھا۔ یہ سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں کی ہجو گوئی کا وہ المیہ تھا جو ذرائع ابلاغ ہی مستقل مزاجی سے نہیں بیچ رہے، ترسیل بھی مسلسل جاری ہے۔

چیدہ چیدہ سرخیوں سے مزین اس ’ہجو نویسی‘ میں جو دو بیان بہار کے جھونکے جیسے معلوم ہوئے اس کی طمانیت سے قارئین کیوں محروم رہیں۔

1۔ الزامات اور گالم گلوچ کی سیاست زہر قاتل، نفرت کی سیاست مسائل حل نہیں کر سکتی۔
2۔ حالات انتہائی ابتر، پارٹی بیانیے کا دفاع نہیں کر سکتا۔
یاد رہے کہ یہ تحریر ”ہجو نگاری“ پر مبنی ہے ”ہجو گوئی“ پر نہیں۔

Facebook Comments HS