آئی جی پی عثمان انور پنجاب پولیس اور حقائق


عثمان انور صاحب آئی جی پنجاب ہیں۔ میری مرحوم سی سی پی او عمر شیخ سے یاد اللہ تھی۔ ڈی آئی جی عبدالغفار قیصرانی صاحب سے احترام والا رشتہ ہے۔ ڈی پی او وسیم گورمانی میرے سکول سینئیر اور قریبی ہمسائے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے پیشے کے تقاضوں کی بدولت درجنوں ڈی پی اوز سے واسطہ رہا ہے۔  میرا مجموعی تجربہ کہتا ہے کہ اکثر افسران وہ ہیں جو ادھیڑ عمری کی وجہ سے یا شاید عہدے کے کروفر میں عام آدمی سے دور رہتے ہیں۔ گرمیوں میں اے سی والے ٹھنڈے ٹھار آفسز میں مقید رہتے ہیں۔ کتاب سے ان کا دور کا واسطہ نہیں۔ اک وقت تھا جب تقسیم کے بعد انگریزوں کی تیار کردہ بیوروکریسی اور بے نظیر بھٹو تک سیاستدان کتاب سے رشتہ رکھتے تھے اہل علم تھے اہل ادب تھے مطالعے نے ان کی شخصیت میں لچک پیدا کر دی تھی۔ اس کے بعد رٹا مار کر آنے والی بیوروکریسی اپنے ساتھ لامحدود اختیارات اور گردن میں سریا لائی۔

میرے حلقہ احباب میں ڈاکٹرز کے بعد سب سے زیادہ پولیس والے شامل ہیں۔ پولیس کی تعداد پاکستان کی آبادی کے حساب سے بہت کم ہیں چار چار لاکھ آبادی رکھنے والی آبادی بارہ چودہ پولیس والوں کی نفری کنٹرول کرتی ہے۔ وسائل کی کمی ہے فیول کی کمی ہے۔ دن رات منفی ماحول میں رہنے کی وجہ سے سٹریس میں رہتے ہیں۔ عدالتوں میں کیس سبمٹ کرانے سے لے کر دوسرے شہر جا کر ریڈ کرنے تک تفتیشی حضرات جیب سے خرچہ کرتے ہیں۔ اک تفتیشی کی تنخواہ پچاس ہزار تک ماہانہ ہوتی ہے اس میں انہوں نے گھر چلانا ہوتا ہے بچوں کو پڑھانا ہوتا ہے محکمانہ خرچے جیسے عدالتی اہلکاروں کو پیسے دینا، پیپر ورک کے لیے مددگار کا خرچہ، پیشیوں پہ آنے جانے کا خرچہ، لاہور فرانزک کے لیے نمونے جمع کرانے کا خرچہ اور ملزموں کو ٹریس کر کے ملک بھر میں گھوم گھوم کر ریڈ کرنے کا خرچہ شامل ہے۔

سیاسی مداخلت میڈیا کا دباؤ شہریوں کا تاجروں کا وکلا کا پریشر بھی بھگتنا ہوتا ہے۔ ایسے میں ایمانداری اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ سے بچنا ان کے لیے بہت محال ہوتا ہے اسی لیے اکثر پولیس والے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ سماج میں پھیلی بے راہروی مقدس رشتوں کے تقدس کی پامالی خون کا سفید ہونا لڑائی جھگڑے قتل و خون دیکھنا ان کا سراغ لگانا جانوں کی قربانیاں دینا یہ سب کہنے کو آسان ہے۔ پھر شہباز شریف جب وزیر اعلیٰ بنے انہوں نے پولیس والوں کی پروموشن بند کر دی اور ڈائریکٹ بھرتی شروع کر دی۔ ایسے میں آئی جی پنجاب عثمان انور صاحب آتے ہیں. پولیس والوں کی رہائش کے لیے 200 کروڑ روپے، شہدا کی فیملیز کو ان کا حق دینا، شہید پولیس اہلکاران کی اولاد کو نوکریاں دینا ان سب پہ خصوصی توجہ دی۔ اسی شہباز شریف کی حکومت میں نچلے عملے کے حق کے لیے لڑ کر ان کی رکی ہوئی پروموشنز کرنا عثمان انور صاحب کا کارنامہ ہے۔

یہ پولیس والے انسان ہیں ان کی فیملی ہوتی ہے ان کی چھوٹی بیٹیاں اپنے بابا سے اتنا ہی پیار کرتی ہیں جتنا ہماری آپ کی بیٹیاں۔ سردی ہو بارش ہو عید ہو شبرات ہو سیاسی جلسے ہوں محرم ہو میلاد ہو جلوس ہوں ریلیاں ہوں یہ بے چارے گھر بار بھول کر ڈیوٹیاں سرانجام دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ کوشش کے باوجود نہ تو کرائم ختم کر سکتے ہیں نہ ہی ایماندار رہ پاتے ہیں۔ ظاہر ہے سارا محکمہ اچھا نہیں ان میں عادی رشوت خور ظالم بھتہ خور پولیس والے بھی ہوتے ہیں۔ یہ چند کالی بھیڑیں پورے ریوڑ کی بدنامی کا باعث ہیں۔ ڈی پی او حسن اقبال ایسی کالی بھیڑوں کو ذرا برداشت نہیں کرتے تھے۔ وسیم عباس جب مظفرگڑھ ڈی پی او تھے ان کو رات گئے اک عام آدمی کال کرتا ہے کہ ہمارا اک بزرگ بیٹ میر ہزار میں ناجائز گرفتار کر کے اس پہ 9 سی جیسی سنگین دفع لگا کر ناجائز مقدمہ کر رہے ہیں۔

وسیم عباس رات کو دو بجے بیٹ میر ہزار جا پہنچتے ہیں اور برامد شدہ منشیات کا تقاضا کرتے ہیں حسن اقبال رات بھر جاگ کر پولیس کانسٹیبلان کے ساتھ پھر پھر کر روڈ کھلواتے ہیں ہجوم کا سامنا کرتے ہیں اک عام کانسٹیبل بس میں ہونے والے ڈکیتی روکنے کے لیے گولی کھا کر ڈکیتی ناکام بنا دیتا ہے اک عام سپاہی پچاس لاکھ کا بیگ ملنے پر بھی اس کے مالک کو ڈھونڈ کر واپس کر کے ایمانداری کی مثال قائم کرتا ہے۔ درجنوں اہلکار بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ پاتے ہیں عبدالکریم کھوسہ چوہدری جاوید عرفان کھوسہ اور کلیم اللہ گاڑی اپنی ایمانداری سے پورے سماج کو گواہ بناتے ہیں لیکن ان کی بات کوئی نہیں کرتا کیونکہ یہ کالی بھیڑیں ان سب اچھائیوں پہ پانی پھیر دیتی ہیں۔ پولیس کا محکمہ بیک وقت ظالم بھی ہے مظلوم بھی۔ جب بھی مشکل وقت آتا ہے اہلکار کا ساتھ دینے والا افسر ڈھونڈنے کو نہیں ملتا سالوں نوکری سے ہاتھ دھو کر پیشیاں گرفتاریاں بدنامیاں بھگتتے رہتے ہیں یہ اہلکار یہ کرائم ختم نہیں کرتے کرائم منیجمنٹ کرتے ہیں۔

عبدالغفار قیصرانی ڈی آئی جی ہیں پڑھنے پڑھانے والے زمین سے جڑے افسر۔ میرے ذاتی علم میں ہے کہ جب بھی پولیس والے گرداب میں پھنستے ہیں جب محکمہ دفاع کرنے کی بجائے اہلکار کو سکیپ گوٹ بنا دیتے ہیں ایسے میں بنا جان پہچان کے ان کے حق میں ڈٹ جاتے ہیں حافظ عبدالغفار قیصرانی۔ پولیس کے لیے آغوش مادر کی حیثیت رکھنے والے قیصرانی صاحب نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ روزنامہ جنگ میں خوب صورت نثر میں کالم لکھتے ہیں۔ سی سی پی او عمر شیخ سے چند باتوں پہ اختلاف رہتا تھا مگر یہ بات سچ ہے کہ عام آدمی کی دسترس میں رہتے تھے مرحوم اور فوری ایکشن لینے پہ یقین رکھتے تھے

وسیم ریاض گورمانی آج بھی سی ایس ایس کرنے والوں نوجوانوں کے لیے کتابیں لکھتے ہیں انہیں گائیڈ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ با اخلاق وسیم گورمانی کے لیے شہزادہ چارلس لندن سے تعریفی خط بھیجتے ہیں۔ شاہد آفریدی ان کے ساتھ سیلفیاں لے کر فخر سے پوسٹ کرتے ہیں۔ عثمان انور صاحب پولیس اہلکاروں کی میڈیکل سکریننگ کرا رہے ہیں ان کو پروموشنز دے رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات دے رہے ہیں یہ سب افسران بیوروکریسی کی تاریخ میں خود کو رقم کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں نہ قبرستان ایسے افراد سے بھرے پڑے ہیں جن کو گمان تھا کہ دنیا ان کے بغیر نہیں چل سکتی۔ جس طرح سی سی پی او عمر شیخ چلے گئے اور میں آج ان کے مثبت پہلو پہ اجاگر کرنے کی سعی کر رہا ہوں

اسی طرح آئی جی پی عثمان انور، ڈی آئی جی عبدالغفار قیصرانی وسیم ریاض وسیم عباس جیسے افسران لینڈ مارک سیٹ کرتے جا رہے ہیں۔ ہم اگر پنجاب پولیس سے لندن پولیس کی کارکردگی طلب کرتے ہیں تو ان کو لندن پولیس کی طرح کی تنخواہیں پاور مداخلت سے نجات اور انہی کی طرح وسائل بھی فراہم کرنے ہوں گے۔ ورنہ یہ بے چارے زنگ آلود پرانے اسلحے کے ساتھ روسی ساختہ آٹومیٹک رائفلیں ہینڈ گرنیڈز راکٹ لانچرز حتیٰ کہ فوجی ٹینک تک رکھنے والے مجرمان سے مار کھاتے رہیں گے اغوا ہوتے رہیں جانیں دیتے رہیں گے خود کشیاں کرتے رہیں گے

Facebook Comments HS