فیضؔ کی جمالیاتی اور معنیاتی قدر اور گوپی چند نارنگ

نظریاتی شاعروں کی بڑی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ انھیں ان کی فکر (آئیڈیالوجی) سے باہر نکل کر دیکھنے کی کوشش بالعموم نہیں کی جاتی۔ ان کے موضوع یا معنی کو جمالیاتی سطح سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے اور یوں ان کی شاعری کے جمالیاتی پہلو کو ان کے نظریے یا آئیڈیالوجی کے اندر جکڑ کر مار دیا جاتا ہے۔ اردو میں اس کی دو بڑی مثالیں اقبالؔ اور فیضؔ کی ہیں۔ فیضؔ کو ایک عرصے تک (اور

Read more

اردو میں افسانوی تنقید کا نیا پیراڈائم اور آصف فرخی

(یکم جون آصف فرخی کی برسی کا دن ہے) اکیسویں صدی میں سنجیدہ تنقید کا پورا اسٹرکچر بدل گیا ہے۔ تھیوری اور فکشن کے حوالے سے بیانیات کے مباحث نے فکشن کی تنقید کا پورا پینترا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس ذیل میں مغرب میں تو بے شمار کام ہو رہا ہے لیکن ہمارے ہاں بھی چند ناقدین ہی سہی کچھ نہ کچھ عمدہ کام کر رہے ہیں۔ ان میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور ڈاکٹر

Read more

عصری تاریخ کا قضیہ

عصری تاریخ کے قضیہ کی ہمارے ہاں الجھنے کی بڑی ٹھوس وجوہات ہیں۔ پہلی اور سب سے بڑی وجہ تو یہ کہ ہم مجموعی طور پر تاریخ کے تشکیلی پروسس کو ہی سمجھنے کو تیار نہیں۔ بنیادی طور پر ہم خوابوں، سرابوں اور خواہشوں کی بنیاد پر تصوراتی قسم کی تاریخ بننے کے عادی ہیں (جسے تاریخ کہنا بھی گناہ ہے ) ۔ دوسری وجہ جو پہلی وجہ کا ہی ضمیمہ ہے، وہ یہ کہ ہم ”سنہرے ماضی“ کی متھ

Read more

”التوائے مرگ“: حوزے ساراماگو کے ناول کا ترجمہ

ہم جب کسی ترجمے پر گفتگو کرنے یا روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو پہلے پہل یہ معاملہ درپیش ہوتا ہے کہ ترجمہ اپنے اصل متن کے کس قدر قریب ہے۔ ”التوائے مرگ“ کے بارے میں اس حوالے سے جب میں نے اپنی رائے مرتب کرنے کے لیے حوزے ساراماگو کے ناول Death with Interruptions پر نگاہ کی، تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ فیصلہ کرنا میرے اختیار سے باہر ہے۔ وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی دانست

Read more