یوم والد ”کچھ یادیں“
تاریخ گر اٹھا کر دیکھی جائے تو 1910 میں پہلی بار یوم والد منایا گیا بس پھر کیا تھا روایت بن گئی کہ ہر سال جون کے مہینے میں تیسری اتوار کو دنیا بھر میں منایا جانے لگا آج پھر جون کا مہینہ ہے اور تیسری اتوار ہے میرے لیے جون کا مہینہ یوں بھی بہت اہمیت رکھتا ہے اسی مہینے کی 13 تاریخ تھی جب اچانک ایسا حادثہ رونما ہوا کہ جس نے یکسر میری زندگی بدل کہ رکھ دی وہ حادثہ ہے میرے والد کی اچانک حادثاتی موت اور پھر یوم والد بھی جون ہی کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔
یوں تو ہر انسان کے لئے اس کے والدین کی خصوصیت اور اہمیت الگ ہی ہوا کرتی ہے لیکن میں چونکہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹی تھی اور پھر والدہ بھی حیات نہیں رہی تو میرے اور میرے بہن بھائیوں کے لئے والد ہی ہماری کل کائنات تھے ماں بھی وہی اور باپ بھی وہی انھوں نے ہماری پرورش تن تنہا جس طرح کی وہ بھی بڑی باہمت و باکمال مثال ہے ایک طرف ملازمت کرنا اور دوسری طرف ہماری تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھنا، ہماری ہر ضرورت کو سمجھنا، ہمارے دوستوں کا خیال رکھنا غرض کہ ہر وہ کام بھی کیا جو ایک ماں کرتی ہے اور ہر وہ کام بھی کیا جو کہ ایک باپ کی ذمہ داری ہوا کرتا ہے۔ کہنے سننے میں انتہائی سخت مزاج لیکن ہماری چھوٹی چھو ٹی تکالیف پر بری طرح پریشان ہو جایا کرتے تھے جس کی یا دکے کئی مناظر آج بھی دل و دماغ پر نقش ہیں کہ جب کسی بہن یا بھائی کہ چوٹ لگ جاتی تو وہ کس طرح فوری کوشش کرتے کہ درد نہ ہو یا ختم جائے۔
ایک انتہائی منظم اور مصروف زندگی گزارنے کے بعد جب ایک خاص عمر تک پہنچتے پہنچتے مزاج میں تبدیلی ذہنی و جسمانی صحت کے حالات کا مختلف ہو جایا کرتا ہے اور اسی وقت ہر انسان کو اپنا آپ بیکار اور بوجھ لگنے لگتا ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ہمارے والدین اور خاص طور پر والد کو ہماری توجہ، محبت اور خدمت کی ضرورت ہوتی ہے الحمدللہ کہ اپنے والد کے اس وقت کے ساتھ کے لئے اللہ تبارک و تعالی نے مجھے منتخب کیا اور میں نے کوشش کی کہ اس عمر میں ان کی گھر میں وہ اہمیت ہو کہ جو ہو نی چاہیے ہمارے گھر کی رونق انہی کے دم سے ہوا کرتی تھی یوں تو چھوٹی بہن کنزہ کی باتیں جو کہ اس وقت بہت چھوٹی تھی سے گھر گونجا کرتا تھا لیکن والد صاحب کی ایک آواز کہ جیسے ہمارے اندر جان ڈال دیا کرتی تھی پھر چاہے وہ آواز کھانے سے متعلق ہو یا کہیں گھومنے جانا ہو، یا پھر کسی نئی چیز گھر میں لائے جانے پر وہ خوبصورت آواز ہمیں الرٹ کر دیا کرتی تھی بس ایک لمحے میں ہم چاک و چوبند ہو جایا کرتے تھے۔ اپنی گرتی ہوئی صحت، بار بار چیزیں اور باتیں بھول جانے کے باعث خود بھی بہت پریشان ہوا کرتے تھے مگر اگر ہمیں پریشان دیکھ لیں تو سب کچھ بھول کر ہماری دلجوئی کرتے اور ایسی ہمت بندھاتے کہ ہر پہاڑ سے ٹکرا جانے کا حوصلہ انہی سے سیکھ کر جینے کا ہنر حاصل کر لیا۔
یوں تو والد کی حیات ہی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت شروع کردی تھی اور معاشی لحاظ سے مستحکم بھی تھی اور ان کے اچانک جانے کہ بعد مالی اور معاشی لحاظ سے کوئی تبدیلی نہیں آئی تاہم ذہنی و نفسیاتی طور پر ان کے جانے کہ بعد پوری دنیا کو ایک علیحدہ نظر سے نہ صرف محسوس کیا بلکہ لوگوں کے رویے، باتیں سب کچھ بدلا بدلا محسوس کیا اور کافی دنوں تک اس عجیب و غریب کیفیت کو سمجھنے سے قاصر رہی ایک طرف والد کے اچانک چلے جانے کا غم اور دوسری طرف ہمارا فرسودہ روایات میں جکڑا فرسودہ معاشرہ اور اس کا رویہ اچھی طرح اندازہ ہوا کہ اب وہ کڑیل سائبان سر پر نہیں ہے اب کڑی دھوپ میں مجھے خود ہی ننگے پاؤں چلنا ہے بس ان کے جانے کہ بعد زندگی میں صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں نظر آتی اور محسوس ہوتی ہیں وہ لاپرواہی اور بے نیازی والی کیفیت قصہ پارینہ بن چکی ہے کسی بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد پہلا سوال ذہن میں انہی کا آتا ہے کہ انھیں کیسے بتایا جائے کہ آج یہ سب کچھ حاصل کیا ہے کہ جس کی دعائیں آپ میرے لیے مانگا کرتے تھے بے شک میری ہر کامیابی کے پیچھے انہی کی محنت اور دعائیں شامل ہیں اور رہیں گی۔
اب کچھ ان خوش قسمت لوگوں سے گزارش کہ جن والدین اب تک الحمدللہ حیات ہیں کہ ان کی قدر کریں کچھ ایسی میٹنگز میں شرکت کے مواقعے ملے کہ جس میں بزرگ شہریوں کے خصوصی حوالے سے حکومتی اقدامات پر بات ہو رہی تھی اس میں ایک تجویز نے تو دل ہی ہلا کر رکھ دیا کہ ہر بڑے ضلع اور کاونسل میں اولڈ ایج ہاؤسز کھولے جانا ضروری ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اب والدین کو ان کے بڑھاپے میں بوجھ سمجھا جا رہا ہے اور اب اولاد ان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی یا اٹھانا نہیں چاہتی خدارا ایسا نہ کریں والدین بوجھ کبھی ہو ہی نہیں سکتے وہ تو اولاد کا بوجھ اپنے کمزور اور لاچار جسم پہ اس وقت بھی بخوشی اٹھا لیتے ہیں کہ جب ان کا پوتا یا نواسہ ان پر سواری کرنے کے لئے آ جائے تب بھی وہ خوشی خوشی اس کے ساتھ ہر تکلیف بھلا کر کھیلتے ہوئے اسی کی عمر کا بچہ بن جایا کرتے ہیں اس خود غرض سوچ اور رویوں سے باہر نکل کر سوچیئے اپنا فرض ادا کیجیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے اور عمر بھر کا پچھتاوا مقدر بن جائے۔

