ایک عام پاکستانی کی قائداعظم سے بات چیت


 

قائد، میں ایک پاکستانی ہوں۔ معاشی اور سماجی اعتبار سے میرا تعلق جس طبقے سے ہے اسے آج کل ’عام پاکستانی‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یعنی ہمارا کوئی نام نہیں ہے جیسے کہ شہباز شریف، عمران خان، عاصم منیر، میاں منشا اور ان جیسے طاقتور اور دولت مند پاکستانیوں کا ہے۔ قائد میں جس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں وہ پاکستان میں ننانوے فیصد لوگ ہیں یعنی ’عام پاکستانی‘ ۔ لیکن میرا تعلق ان عام پاکستانیوں کے بھی اس طبقے سے ہے جو کل پاکستانیوں کے 70 فیصد سے زائد پر مشتمل ہے یعنی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے۔ قائد میں نہیں جانتا کہ یہ لکیر کیا ہے، کس نے لگائی ہے، کیسے لگائی گئی ہے اور کیوں لگائی ہے۔ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ یہ میں نے نہیں لگائی۔

قائد، میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں اس لئے میں کتابیں اور اخبارات نہیں پڑھتا کہ مجھے نہ تو اس کی استطاعت ہے نہ فرصت۔ میری معلومات کا کل ذریعہ ریڈیو ہے جو میں شام کو سنتا ہوں یا لوگوں سے سنی سنائی باتیں۔ قائد میں آج آپ کو اپنی حالت زار کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ میری کوئی مدد نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی آپ مجھے کہہ لینے دیں کہ شاید آپ سے بات کر کے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ہو جائے۔

قائد، میری کل آمدنی 30 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ ان میں سے سات ہزار روپے بجلی کا بل، 500 روپے گیس اور 8 ہزار روپے مکان کا کرایہ دینے کے بعد میرے پاس کل چودہ ہزار پانچ سو روپے بچتے ہیں۔ قائد آپ کے پاکستان میں دالیں دو سو پچاس سے تین سو روپے تک، سبزیاں سو سے تین سو روپے تک اور آٹے کی قیمت دو ہزار چھ سو پچاس روپے ہے۔ کیا؟ نہیں قائد دالوں اور سبزیوں کی قیمتیں فی من نہیں فی کلو ہیں اور آٹا ایک ٹن نہیں بیس کلو کا تھیلا ہے۔

قائد ہم میاں بیوی اور تین بچے ہیں۔ آپ ان ساڑھے چودہ ہزار روپوں کو اگر ہم پانچ لوگوں کے دو وقت روزانہ پر تقسیم کریں ہم ایک وقت میں اڑتالیس اعشاریہ تیتس روپے فی کس کے حساب سے کھانا کھا سکتے ہیں۔ تین وقت کا کھانا؟ نہیں قائد ہم تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے۔ کپڑوں اور دواؤں کا پوچھ رہے ہیں قائد؟ کپڑے تو ہمیں پرانے کہیں نہ کہیں سے مل جاتے ہیں اور علاج معالجہ ایک خیراتی ادارے کی جانب سے چلائی جانے والی فری ڈسپنسری سے ہو جاتا ہے۔

جی قائد، آپ نے درست کہا ان پیسوں میں گزارا نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے میری بیوی ایک گھر میں کام کرتی ہے۔ وہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لاتی ہے۔ بڑا بیٹا ایک مرغی خانے میں کام کرتا ہے اور اسے دو سو روپے روزانہ اجرت ملتی ہے۔ اس طرح مل جل کر کچھ گزارا ہو جاتا ہے۔ نہیں قائد بچے سکول نہیں جاتے اسکول کی اگر فیس نہ بھی ہو تو یونیفارم، کتابیں، کاپیاں اور آنے جانے کا کرایہ وغیرہ۔ نہیں قائد ہم اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے۔ نہیں قائد اس مسئلہ میں کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا۔ کوئی ایک دو ہوں تو ان کا کچھ حل نکالیں یہاں تو اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں۔

ہاں قائد، آپ کو ایک خوشخبری دینا تھی۔ میرا بھائی ایک فیکٹری میں چوکیدار ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسے اب کم از کم بتیس ہزار روپے تنخواہ دی جائے گی اس کے خاندان میں بھی پانچ افراد ہیں۔ اس طرح ان کے پاس ایک وقت کے کھانے کے لئے ہم سے چھ روپے چھیاسٹھ پیسے فی کس زیادہ ہوں گے۔

قائد، اگر آپ برا نہ منائیں تو ایک بات پوچھوں؟ جی شکریہ۔ قائد حال ہی میں وفاقی حکومت نے اپنا سالانہ بجٹ پیش کیا ہے۔ اس میں سول حکومت کے اخراجات کے لیے 714 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پنشن کے لیے 761 ارب روپے اور دفاع کے لئے اٹھارہ سو چار ارب روپے۔ سات ہزار تین سو تین ارب روپے سود کی ادائیگی کے لئے خرچ ہوں گے۔ قائد میں نے پوچھنا یہ تھا کہ جن قرضوں پر 7303 ارب روپے سود ادا ہو گا ان میں سے مجھ پر کیا خرچ ہوا؟

میرے گھر میں فرنیچر کے نام پر دو بان کی چارپائیاں، چند مٹی کی پلیٹیں، سٹیل کے دو گلاس اور کھانا پکانے کے لئے دو تین دیگچیاں، ایک پنکھا، ایک بلب اور ایک ریڈیو۔ یہ ہے ہمارا کل اثاثہ۔ قائد ہم نے سول حکومت سے کیا لینا ہے۔ ہم پاکستان سے باہر کیا اپنے شہر سے باہر نہیں جا سکتے۔ ہمیں پاکستان کے سفارت خانوں سے کیا غرض۔ ہم کبھی اپنا مکان بنانے کا نہیں سوچ سکتے ہمیں سی ڈی اے اور ایل ڈی اے سے کیا لینا۔ قائد ہمارے گھر میں ہے کیا جس کے لیے کے ہمیں پولیس کی ضرورت ہو۔

ہمارے کون سے ایسے کام ہیں جن کے لئے کمشنر، ڈپٹی کمشنر وغیرہ وغیرہ چاہئیں۔ قائد کیا ایک کمرے کے کرائے کے مکان میں ایک پنکھے اور ایک بلب میں سو روپے یومیہ کا کھانا کھانے کے لئے بھی آزادی، ملکی سالمیت، عزت کی زندگی جیسے تصورات کی ضرورت ہوتی ہے؟ قائد شاید یہ سوچنا تو ان لوگوں کا کام ہے جن کے پاس سوچنے کا وقت ہو، پیٹ بھرا ہوا ہو اور کمرے میں ٹھنڈی ہوا پھینکنے والی مشین چل رہی ہو۔ میرا تو پنکھا بھی کبھی چلتا ہے اور کبھی نہیں چلتا۔ مجھے معلوم ہے آپ میرے ان سوالوں کے کوئی جواب فوری طور پر نہیں دینا چاہتے۔

قائد، آپ سے ایک مشورہ کرنا تھا۔ میرا بڑا بیٹا کہہ رہا ہے کہ اگر وہ کسی طرح ملک سے باہر چلا جائے تو ہمارے بھی اچھے دن آ جائیں گے۔ کیسے جائے گا؟ جی لانچ میں بیٹھ کر ایک ملک، وہاں سے دوسرے ملک اور وہاں سے تیسرے ملک جہاں اسے کسی نہ کسی شکل میں رہنے کی اجازت ہو۔ جی جی بالکل غیر قانونی طریقے سے۔ کیا کہا آپ نے، اس میں جان کا خطرہ ہے؟ ہاں قائد وہ تو ہے۔ لیکن میرا بیٹا کہتا ہے یہاں کیا ہم زندہ ہیں؟

قائد، یہ بتائیے کہ ایک فوجی، جج یا بیوروکریٹ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قوم کے لئے اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ایک ایسا عام پاکستانی جو ابھی کام کر رہا ہے؟ کیا؟ نہیں؟ لیکن قائد ہم تو اپنے ریٹائرڈ لوگوں کو صرف وفاقی بجٹ میں سے 761 ارب روپے کی پینشن دے رہے ہیں جی آپ درست سمجھے اس میں افواج پاکستان کے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں کی پینشن شامل ہے۔ نہیں قائد یہ پورے پاکستان کا بجٹ نہیں ہے۔ چاروں صوبوں کا سول ایڈمنسٹریشن اور پینشن کا خرچ اس کے علاوہ ہے اور وہ بھی ہزاروں ارب ہوتا ہے۔

قائد آپ نے درست فرمایا اجناس کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے زراعت نسبتاً منافع بخش ہو گئی ہے۔ لیکن مزارعوں کے حالات ویسی ہی ہے۔ قائد میرے ہمسائے میں اسکول ٹیچر رہتے ہیں وہ کل مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ نے انیس سو چھیالیس میں کوئی تقریر کی تھی جس میں آپ نے کہا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام نہیں ہو گا اور اگر پاکستان میں بھی یہی کچھ ہونا ہے تو آپ کو ایسا پاکستان نہیں چاہیے۔ کیا یہ درست ہے؟ اچھا آپ نے ایسا کہا تھا۔ تو قائد آپ نے اپنے ساتھیوں کو یہ نہیں بتایا تھا؟

قائد آپ بڑے ہیں، ہم آپ سے اختلاف نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ اچھے دن آئیں گے تو ہم سرتسلیم خم کیے دیتے ہیں۔ لیکن آپ کو صرف یہ بتانا تھا کہ مہنگائی کی شرح تقریباً اڑتیس فیصد ہے۔ ہر مہینے چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ قائد آج جو کچھ سو روپے یومیہ فی کس میں کھا سکتے ہیں شاید اگلے مہینے نہ کھا سکیں۔ آج تو آپ سے اپنا حال دل کہہ رہے ہیں، کل شاید ہم اس کی بھی ضرورت محسوس نہ کریں۔

قائد، آپ نے تو تاریخ کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے۔ ایک بات پوچھوں آپ سے؟ جی شکریہ۔ یہ جو لارڈ کلائیو نے اپنے 3,100 سپاہیوں کے ساتھ نواب سراج الدولہ کی 50,050 کی افواج کو شکست دی تھی تو اس کی وجہ میر جعفر کی غداری تھی، نواب کا پالکی میں بیٹھ کر جنگ کرنا تھا یا عام لوگوں کی اپنے حکمرانوں سے مایوسی اور ملکی معاملات سے لاتعلقی؟ جی بہتر آپ نہیں جواب دینا چاہتے تو آپ کی مرضی۔

قائد آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ آپ پر تو ہماری جان فدا۔ آپ کے سہارے تو میرا باپ ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ میں منفی سوچ کا حامل شخص نہیں ہوں۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ جنت میں آپ کون سا ٹی وی چینل دیکھتے ہیں۔ یہاں ہر چینل کی اپنی اپنی سچائی ہے۔ اور وہ بھی وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی۔ ایک ہی چینل دن کے مختلف اوقات میں ایک ہی واقعے سے متعلق مختلف سچائیاں بیان کرتا ہے۔ میرے مکان کے نچلے حصے میں چائے کا ایک ہوٹل ہے۔ اس کے ہاں ٹی وی مسلسل چل رہا ہوتا ہے اور تمام چینل سارا دن ایک ہی واقعے کی مختلف سچائیاں ہمارے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ میں چاہتا تھا کہ عام پاکستانی کی سچائی براہ راست آپ تک پہنچا دوں۔

قائد پاکستان میں حکومتوں نے کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں۔ میری بوڑھی ماں کو بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ سے ہر مہینے کچھ رقم موصول ہوتی ہے۔ اگر وہ اکیلی ہوتی تو یہ رقم شاید اس کی چند ضروریات کو پورا کر دیتی۔ لیکن قائد، میرا چھوٹا بھائی بیکار ہے۔ اسے کوئی کام نہیں ملتا۔ میری ماں اور میرا وہ بھائی اس قلیل رقم میں مل کر گزارہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ممکن نہیں۔ اگر میرے بھائی کو نوکری مل جائے تو شاید میری ماں کو ان روپوں کی ضرورت نہ ہو۔

چلئے ایک مثبت پیش رفت بھی آپ کو بتا دوں۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 30 سے 35 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ جی قائد، یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ میرے بھائی کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔ لیکن قائد، شاید آپ درست کہتے ہیں۔ معاشرے میں منفی سوچ بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔ میں جس شخص کا مکان تعمیر کر رہا ہوں وہ ایک تاجر ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ تو اپنی فیس لیے بغیر سائل کا کوئی کام نہیں کرتے۔ کیا قائد، آپ کو نہیں معلوم؟ حیرت ہے! آپ کے زمانے میں جسے رشوت کہتے تھے اسے اب ’فیس‘ کہتے ہیں اور آپ نے جس قوم کے لیے پاکستان بنایا تھا اس قوم کو پاکستان کے سرکاری دفتروں میں ’سائل‘ کہا جاتا ہے۔

 

Facebook Comments HS