بلوچستان کی صحافت اور جدید تقاضے


صحافت براہ راست حقائق سے آگہی کا دوسرا نام ہے۔ صحافت اور عام انسانی زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، خصوصاً آج کے اس برق رفتار دور میں زندگی بھی اس قدر تیز رفتار ہو چکی ہے کہ روایتی خبر رسانی کا انداز اس کا ساتھ نہیں دے پاتا، یہ جدید برقی ذرائع ابلاغ کی ہی کرشمہ سازی ہے کہ پلک جھپکتے ہی کوئی بھی خبر پوری دنیا میں نہ صرف پھیل جاتی ہے بلکہ اس پر عوام الناس کا فوری ردعمل بھی آنا شروع ہوجاتا ہے، اپنی اسی متاثر کن خاصیت کی وجہ سے صحافت کو دور اول سے ہی جمہوری نظام حکومت کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا رہا ہے، عام انسانوں کو سچائی اور حقائق سے آشنا کرنا ہی صحافت کا بنیادی فریضہ ہے، یہی وہ سچائی ہے جو کسی بھی معاشرے کے فاسد مواد کو نکلنے کا موقع دیتی ہے۔

وہ لفظ جسے ہم زبان اردو میں ”صحافت“ کہتے ہیں در اصل عربی زبان کے لفظ ”صحیفہ“ سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی صفحہ، کتاب، رسالہ یا ورق کے ہیں، اپنے معینہ وقت پر شائع ہونے والا مطبوعہ مواد بھی صحیفہ ہے لہذا جدید عربی معنی میں جریدہ اور اخبار بھی لفظ صحیفہ کے ہی مفہوم میں ادا کیے جاتے ہیں، اخبار و رسائل کے اس پیشے کو صحافت اور اس سے وابستہ افراد کو صحافی کہا جاتا ہے، مختلف ماہرین اس کی مختلف تعریف و تشریح کرتے ہیں لیکن ان سب کا ما حاصل ایک ہی نکلتا ہے کہ صحافت ایک عظیم مشن ہے جس کا بنیادی مقصد عوام الناس کو تازہ ترین خبروں سے آگاہ کرنا، عصر حاضر کے نمایاں واقعات کی تشریح و توضیح کرنا اور ان کے پس پردہ محرکات کو پیش کرنا تاکہ رائے عامہ کی تشکیل ہو سکے، یہ رائے عامہ کی ترجمان ہی صحافت کہلاتی ہے، دور جدید میں جدت یہ ہو گئی ہے کہ اس پورے عمل کو صوت و تصویر کے ذریعے انسان کی اس جبلی خواہش کی تکمیل کی جاتی ہے کہ جس کے تحت وہ ہر نئی بات کو جاننے کے لئے بے چین رہتا ہے۔

دنیا بھر میں صحافت کو اس کے حقیقی جوہر کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ ایک عظیم پیشہ ہے تاہم، بہت سے معاشروں میں صحافت یا تو متعصب ہونے یا کچھ خاص مقاصد کے لیے مشق کرنے کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو چکی ہے، ایسے معاشروں میں اگر کوئی سچی صحافت پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دھمکیاں آن لائن یا ذاتی طور پر اس کا پیچھا کریں گی جو کہ آج کل بڑی حد تک پاکستانی معاشرے کے پس منظر میں ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ دوسری طرف صحافیوں کو اصل زمینی حقائق سے دور رکھنے کی روایت نے ملک کی صحافت کو دن بدن گھٹا ٹوپ اندھیروں کی جانب دھکیلنا شروع کیا ہے، رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں معاملہ اس سے بھی بدتر ہے جہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میڈیا ایک شجر ممنوعہ ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم بلوچستان کے موجودہ صحافتی پس منظر پر نظر دوڑائیں، ہمیں بلوچستان میں صحافت کی مختصر تاریخ جاننے کی اشد ضرورت ہے۔

کسی بھی معاشرے میں دو یا دو سے زیادہ انسانوں کے درمیان اشاروں، زبانی یا تحریری طور پر ہونے والا رابطہ اہم کردار ادا کرتا ہے، بلوچ تاریخ میں زبانی رابطے کی ایک مضبوط روایت پہلے سے ہی موجود تھی جسے ”حال احوال“ کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ”روایتی حال احوال ایک قسم کا خبرنامہ ہے جو ایک شخص جو کہیں سے آتا ہے اور راستے میں جو کچھ دیکھتا یا سنتا ہے اسے دوسروں کو سناتا ہے“ ، یہی حال احوال بلوچوں میں صحافت کا ایک پرانا ذریعہ تھا جس پر وہ صدیوں سے زبانی طور پر عمل پیرا تھے، جب صحافت تحریری شکل میں بدل گئی اور پریس برصغیر (پھر 19 ویں صدی میں بلوچستان) میں قائم ہوا تو روایتی حال احوال کی جڑیں کمزور پڑ گئیں اور جدید میڈیا کو اپنا لیا گیا۔

روز مرہ پیش آنے والے واقعات اور معاشرے کی سماجی اور معاشی حیثیت کے بارے میں معلومات پہنچانے کا ایک مکمل ضابطہ حال احوال کی صورت میں موجود تھا تاہم بلوچستان میں میڈیا 19 ویں صدی میں ابھرا، جب قوم پرستوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا، قوم پرست رہنماؤں میر یوسف عزیز مگسی، میر عبدالعزیز کرد، اور دیگر نے اپنی جدوجہد کی حمایت کے لیے پریس کا استعمال کیا اور اس دور میں اخبارات و جرائد نے بلوچی زبان میں اشاعت شروع کی، ابتدا ء میں اس مقصد کے لئے لاہور اور کراچی سے اخبارات شائع کیے گئے کیونکہ اس وقت مقامی طور پر پریس کی سہولت میسر نہیں تھی، میر عبدالعزیز کرد اور پیر بخش بلوچ المعروف نسیم تلوی نے کراچی سے ”بلوچستان جدید“ کے نام سے ایک اخبار جاری کیا، اس کے علاوہ ”البلوچ“ بھی کراچی سے شائع ہونے والا ایک ممتاز اخبار تھا، اس کے علاوہ اس دوران لاہور، کراچی اور دہلی سمیت ہندوستان کے مختلف ممتاز اخبارات میں بلوچ معاشرے کے حوالے سے مضامین شائع ہوتے رہے، یہ رجحان اگلے پچاس ساٹھ سالوں میں مزید مضبوط ہوا جس کے نتیجے میں بہت سے نئے اخبارات و جرائد کا اجراء بھی ہوا، 1930 سے لے کر آج تک بلوچستان سے بلوچی صحافت نے اس روایت سے جڑیں پکڑیں اور تاحال سینکڑوں رسالے اور اخبارات شائع ہو چکے ہیں۔

دور موجود میں اگر دیکھا جائے تو بلوچ صحافیوں کا خیال ہے کہ صحافت میں ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی مداخلت بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے صحافیوں کے لیے خطے میں منصفانہ اور غیر جانبداری سے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے، اس حوالے سے یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ ریاست چاہتی ہے کہ صحافی سب اچھا ہے کی رپورٹ کریں جبکہ بلوچستان میں کار فرما دیگر قوتیں چاہتی ہیں کہ ہم اس کے برعکس لکھیں، اس بات کو آسانی سے یوں کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں صحافت ایک بہت بڑا چیلنج ہے جسے اپنی غیرجانبداری قائم رکھنے کے لئے یقینی طور پر اپنی جان کی بازی لگانی پڑے گی، جیسے کہ آغاز میں صحافت کے اصل جوہر کے بارے میں کہا گیا کہ ایک صحافی کا بنیادی فرض ہی سچائی کو عوام الناس تک پہنچانا ہے لیکن بلوچستان کے مخصوص پس منظر میں بلوچ صحافیوں کا یہ کہنا ہے کہ صحافت میں ایک صحافی صرف رپورٹنگ کر سکتا ہے اور کسی بھی مسئلے پر اپنا فیصلہ نہیں دے سکتا اور اگر اس میں وہ تعصب کا شکار ہونے لگے تو اسے اصل حقائق یا درپردہ سچائی اپنے قارئین کے سامنے رکھنے سے زیادہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور یہی وہ اصل نکتہ ہے جہاں آپ صحافت کے حقیقی جوہر سے محروم ہو جاتے ہیں، بلوچستان کے اکثر بڑے صحافی اس حوالے سے شدید تحفظات رکھتے ہیں، بلوچستان جیسے تنازعات سے بھرپور خطے میں صحافت کرتے ہوئے آزادانہ طور پر رپورٹنگ کرنا زیادہ مشکل ہوجاتا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا کے اس عروج کے زمانے میں جب ہر ایک اپنا خیال دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے تو ایسے میں صحافیوں کو لازمی طور پر کسی بڑے صحافتی ادارے کے چھتر چایہ میں پناہ لینا ہی پڑتا ہے، پھر خواہ وہ محمد کاظم مینگل ہوں یا ملک سراج اکبر انہیں بڑے صحافتی اداروں کی ضرورت پڑتی ہی ہے وگرنہ وہ بھی حاجی رزاق اور ساجد حسن کی طرح تاریک راہوں میں مارے جائیں گے۔

بلوچستان جیسے تنازعات سے بھرپور علاقے میں آپ کسی واقعے کا صرف ایک رخ یا واقعے کا وہ ورژن پیش کر سکتے ہیں جو طاقتور حلقوں یا مرکزی دھارے کی طاقت رکھنے والے گروہوں کے لیے موزوں ہو، جہاں تک صحافت کا تعلق ہے جو اس کے حقیقی جوہر کے ساتھ ہے یا وہ صحافت جو مہذب دنیا میں رائج ہے وہ صحافتی ماحول بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں ناپید ہے، جب آپ متعصب ہوتے ہیں اور رپورٹنگ کرتے ہیں تو آپ اپنے قارئین و سامعین کے لیے کبھی بھی نتیجہ خیز کام نہیں کر سکتے جو آپ کو سچ کی تلاش کے لیے پڑھتے یا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

آپ کو لامحالہ سوشل میڈیا پر مخالفین کی ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑے گا جو ایسے بے سرو پا الزامات مبنی ہوتے ہیں جو کسی بھی حساس صحافی کے لئے عدم تحفظ اور ذہنی پریشانی کا باعث بنتے ہیں نتیجتاً انہیں بطور صحافی یا تو اپنے کیرئیر کی قربانی دینی پڑتی ہے یا پھر جان کی قربانی، اب سوال یہی ہے کہ یہ صورتحال پاکستان بالخصوص بلوچستان میں کب تک ایسے ہی رہے گا؟

مندرجہ بالا تمام تر حقائق کے بعد ہم اگر بلوچ صحافت کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ بلوچستان مختلف وجوہات کی بناء پر پاکستان کا ایک پسماندہ صوبہ رہا ہے لیکن اپنے جغرافیائی محل و وقوع کے باعث ملکی و غیر ملکی سیاست میں اس کا اہم کردار رہا ہے، ایسے میں اس بات کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے کہ یہاں کے مقامی صحافی دنیا بھر کے صحافتی اداروں کی رہنمائی کریں لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں، عمومی وجہ تو یہی کہی جاتی ہے کہ مقامی صحافیوں کا وہ معیار نہیں جو بین الاقومی طور پر درکار ہوتا ہے یا پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مقامی صحافیوں کو پاکستان کے صحافت کے مرکزی دھارے میں جگہ نہیں دی جاتی، پاکستان میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی صحافتی تنظیمیں اور یونیورسٹیاں بھی بلوچستان کے باصلاحیت نوجوان صحافیوں کو ان کا حق نہیں دیتے، اگر کسی قسم کے انٹرن شپ ہوں بھی تو بلوچستان کے طلبہ ان مواقع کو سفر و رہائش کے اخراجات کی وجہ سے حاصل نہیں کر پاتے، جو طلبہ اگر اپنے بل بوتے پر کچھ کامیابی بھی حاصل کرتے ہیں تو ان کی اکثریت بہتر حالات کی تلاش میں بڑے میڈیا کے مراکز مثلاً کراچی یا لاہور منتقل ہو جاتے ہیں۔

بلوچستان کی صحافت کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ملک کے زیادہ تر اخبارات آج کے دور میں بھی سرکاری دفاتر یا مختلف سیاسی جماعتوں کے پریس ریلیز کو ہی خبر بنا کر نشر یا شائع کرتے ہیں، اکثر صحافی بھی صرف پریس کلبوں میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ خبروں کو ہی اپنے صدر دفاتر میں میل کرتے ہیں، عام فیلڈ رپورٹر بھی اپنے ذرائع سے فون پر کہانیاں لیتے ہیں اور انتہائی ضرورت کے تحت میدان میں نکلتے ہیں، اس تمام صورتحال میں بلوچستان جیسے خطے میں یہ تناسب دوگنا نہیں بلکہ چا ر گنا زیادہ خراب نظر آتا ہے، اکثر اساتذہ اور سرکاری دفاتر کے کلرک بابو ہی رپورٹر کی بنیادی ذمہ داری پوری کرتے نظر آتے ہیں، باقاعدہ پیشہ ور ایڈیٹر یا تو نہیں ہیں اور جو ہیں تو ان کا تجربہ بہت محدود ہے، سرکاری اشتہارات کا حصول ہی ان کی سب سے بڑی قابلیت مانی جاتی ہے، اس تمام صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی اور بین الاقومی صحافتی تنظیمیں نہ صرف بلوچستان کے نوجوان اور باصلاحیت صحافیوں کی تربیت کریں بلکہ انہیں اس بات کی تحریک دیں کہ جدید صحافت کس رخ پر جا رہی ہے اور انہیں کس طرح ریاستی اور غیر ریاستی اداروں کے دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے صحافت کے نئے علم سربلند کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS