2023 اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز۔ برلن


امسال، 17 جون سے 25 جون تک، جرمنی کے شہر برلن میں، اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز منعقد ہو رہی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں 190 ممالک کے 7000 کھلاڑی، 26، مختلف کھیلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ جرمنی میں، 1972 کے سمر اولمپکس کے بعد ، پہلی دفعہ اتنے بڑے پیمانے پر، اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز منعقد ہو رہی ہیں۔ سپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز، برلن 2023 کا، خود کھلاڑیوں کا ڈیزائن کیا ہوا، آفیشلی ”لوگو“ ، اتحاد، خوشی، جوش و خروش اور فخر کی علامت ہے۔

اس ٹورنامنٹ میں شامل کھلاڑی، انٹلیکچوئل معذور افراد، ایک دوسرے کے خلاف مد مقابل ہوتے ہیں۔ ان گیمز میں شمولیت کے لئے، انٹلیکچوئل معذوری کا پیمانہ، ذہانت کا حصہ 75 پوائنٹس تک ہونا قرار پایا ہے۔ اور یہ کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں کسی مددگار پر انحصار کر رہے ہوں۔ انٹلیکچوئل معذوری، ان کی جسمانی معذوری پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔

اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز میں ہر کھلاڑی کا، انٹیلیجنٹ۔ علمی یا ترقیاتی معذوری میں سے کم از کم ایک قسم میں، معذور ہونا لازمی ہے۔

اولمپکس کھیلوں کی ایسی ہی ایک دوسری قسم کو پارا اولمپکس کہا جاتا ہے ۔ جس میں جسمانی معذوری کے حامل افراد، جو اسپیشل اولمپکس میں شامل نہیں ہو سکتے، حصہ لیتے ہیں۔

پارا اولمپکس گیمز، اولمپکس گیمز کے تین ہفتوں بعد ، اولمپک شہر میں ہوتی ہیں۔ یہ گیمز بین الاقوامی پارا اولمپکس کمیٹی منعقد کراتی ہے اور تمام کھلاڑیوں کو کوالیفائی کرنا لازمی ہوتا ہے۔

جبکہ اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز کا انعقاد، سمر یا ونٹر اولمپکس ہونے سے ایک سال پہلے ہوتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کو انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی تسلیم کرتی ہے۔ انٹلیکچوئل معذوروں کی پروموشن کا تصور، سب سے پہلے 1968 میں، امیریکن

صدر آنجہانی کینیڈی کی ہمشیرہ، اوئنیس۔ شرائیور کینیڈی نے دیا تھا۔
تاہم اس وقت کوئی گیمز نہیں ہوئی تھیں۔
ان گیمز میں دو بنیادی اصول اپنائے گئے ہیں۔ عروج اور درجے بندی

پہلے درجے میں، اسکولوں، خصوصی ورکشاپوں وغیرہ میں کھلاڑیوں کا باقاعدہ ٹریننگ لینا؛ دوسرے میں ریجنل لیول پر ٹورنامنٹوں میں شمولیت ؛ تیسرے درجے میں نیشنل گیمز میں حصہ لینا ہوتا ہے۔

چوتھے درجے میں کھلاڑی انٹر نیشنل اسپیشل اولمپکس کے لئے کوالیفائی کرتا ہے۔

ہر درجہ، اگلے درجے کے لئے کوالیفائی کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ کوئی بھی کھلاڑی، ان تینوں درجوں کوالیفائی کیے بغیر، ڈائریکٹ، بین الاقوامی گیمز میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اس ورلڈ گیمز میں شمولیت کے لئے انٹلیکچوئل معذوری کا سرٹیفائیڈ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ مختلف عمروں اور مختلف کارکردگیوں کے لئے، 26 مختلف کھیلوں میں منعقد کیا جاتا ہے۔

اسپیشل اولمپکس پاکستان کے ویب سائٹ کے مطابق، گزشتہ 32 سالوں سے ”اسپیشل اولمپکس پاکستان“ نامی ادارہ، کھیلوں کو بنیاد بنا کر، انٹلیکچوئل معذوروں کے حقوق اور ان کی اہلیت و صلاحیت کے لئے کوشاں ہے۔ اس وقت تک، پاکستان کے شہروں کراچی، اسلام آباد لاہور کے دفتروں میں 35 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ کھلاڑیوں کے علاوہ، بلوچستان، کے۔ پی۔ کے، اور گلگت بلتستان میں نمائندے موجود ہیں۔ برلن کے موجودہ ٹورنامنٹ میں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کے کھلاڑیوں کی یہ دوسری شمولیت ہے۔

ان گیمز کے لئے، پاکستانی وفد کے 137 ارکان برلن پہنچ چکے ہیں جن میں 87 ( 54 مرد اور 33 عورتیں ) کھلاڑی ہیں۔ ان کے کوچز کی تعداد 30 ( 17 مرد اور 13 عورتیں ) ہے۔ 3 مرد اور 3 عورتیں گلوبل یوتھ لیڈرشپ سمٹ نامی عہدے کے ساتھ آئی ہیں۔ 3 آفیشلز عورتوں اور 7 (تین مرد اور 4 عورتیں ) ایڈیشنل آفیشلز پر مشتمل، اسٹاف بھی وفد میں شامل ہے۔ ایک مرد، میڈیکل ٹیم اور ایک مرد، بطور گلوبل فیمیلی لیڈر، کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اسپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز برلن 2023 کی افتتاحی تقریب 17 جون کو، برلن کے، فیئر گراؤنڈ کے وسیع و عریض میدان میں ہو گی جبکہ اختتامی تقریب، برلن شہر کے لینڈ مارک، مشہور زمانہ برانڈنبرگر گیٹ پر منائی جائے گی۔

Facebook Comments HS