بھوکی: نذیر قاضی کا مونولاگ افسانہ
تحریر: نذیر قاضی
مترجم: یاسر قاضی
مجھے یقین تھا تم آؤ گے
تم ضرور آؤ گے
کچھ شکوے، کچھ شکایتیں لے کر، اور تم آ گئے۔
تمہیں آنا نہیں چاہیے تھا۔ آنے سے قبل تمہیں سوچنا چاہیے تھا کہ تم کہاں آ رہے ہو۔
میرے پاس؟
مگر میں تمہاری کیا لگتی ہوں؟ تمہارا میرے ساتھ کیا تعلق؟ میں اب اپنے صفو کی ہوں۔ اپنے پیارے صفو کی۔
ابھی ایک ہفتہ قبل ہی وہ مجھے اپنی جیون ساتھی بنا کر لے لے گیا تھا یہاں سے۔
صرف ایک ہفتہ قبل۔
میں نے اس کے بارے میں کیا کیا نہ سوچا تھا۔
وہ دیوتا ہو گا! حسین و جمیل شہزادہ!
وہ واقعی دیوتا ہی نکلا۔ خوبصورت، معصوم اور بھولا بھالا شہزادہ!
کہو! میں اسے بھلا کیسے دھوکہ دے سکتی ہوں؟
وہ میرا ہے۔ میرا اپنا صفو۔
اس کو کتنا خیال ہے میرا۔
ہر گھڑی، ہر لمحے، ہر پلک جھپکتے وہ مجھے خوش رکھنے کے جتن کرنے میں مگن رہتا ہے۔
کلفٹن بیچ کی سیر۔
اونٹ کی سواری۔
ساحل سمندر کی گیلی ریت پر دوڑنا اور غروب آفتاب کا دلکش منظر تو دل سے فراموش ہوکے ہی نہیں دے رہا۔
پیلیس ہوٹل کی وہ رنگین شام بھلانا بھی تو مشکل ہے۔
وہ میرے سامنے بیٹھا تھا۔
آرکیسٹرا پر دھیمے سروں میں مصری دھن بج رہی تھی اور میں صفو کی گہری آنکھوں کی گہرائیوں میں گم ہو گئی۔
صفو میری نس نس میں سما چکا ہے۔
میرا مالک، میرا آقا اور سرتاج۔
تم مجھ سے کیا لینے آئے ہو؟
پیار؟
کون سا پیار؟ کس کا پیار؟
ہاں۔
مجھے یاد آیا۔
میں نے تمہیں کچھ خط لکھے تھے، محبت بھرے خط۔
چند ملاقاتیں اور پیار بھری باتیں۔
بس، یہی ہے ناں تمہارا سرمایہ ؟
مگر یہ سب وقتی باتیں تھیں۔
درحقیقت میں اس وقت پیار کی بھوکی تھی۔ مجھے ایک چاہنے والے کی ضرورت تھی، جو میرے جذبات کی قدر کرے اور میری آرزوؤں اور ارمانوں کو تباہ ہونے سے بچائے۔ میں تمہاری شکرگزار ہوں کہ تم نے پیار کا جواب پیار سے دیا۔
میں کیسے کہوں۔ ؟
لیکن تمہارا پیار تھا۔ بے بس اور بے چس۔
پھر بھی سچ پوچھو تو غنیمت تھا اس وقت۔
تم اپنے پیار کو اس منزل تک پہنچا سکتے تھے، مگر تم اس کے قائل نہ تھے۔
۔ اور آج جب صفو نے مجھے وہ سب کچھ دیا ہے، جو تم نہ دے سکے، تو اب میرے پاس آئے ہو؟
کس لیے؟
شکوے اور شکایتیں لے کر؟
کس سے؟
مجھ سے۔ ؟
پر میں تمہاری لگتی کیا ہوں؟ تمہارا مجھ سے کیا تعلق؟


